’سینیارٹی اصول نظر انداز‘: سپریم کورٹ کے باہر وکلا کا احتجاج

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی میں مبینہ طور پر سینیارٹی اصول مدنظر نہ رکھنے کے خلاف احتجاج کیا۔  

اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر وکلا کی نمائندہ تنظیموں نے جمعرات کو اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی میں سینیارٹی کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کے خلاف احتجاج کیا۔  

سپریم کورٹ کے باہر کیے جانے والے اس احتجاج میں ملک بھر سے آنے والے وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ صبح کا آغاز عدالتوں کے بائیکاٹ سے ہوا، جس میں وکلا سپریم کورٹ اور دوسری عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، جس کے باعث مقدمات کی سماعتیں بھی نہ ہوسکیں۔ 

احتجاج کا فیصلہ کراچی میں وکلا کنونشن کے دوران کیا گیا تھا، جس کی منظوری بعد میں وکلا تنظیموں کے ایک مشترکہ اجلاس میں دی گئی۔

اس کا مقصد بنیادی طور پر لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک کی مبینہ طور پر سینیارٹی کو مدنظر رکھے بغیر سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت ہے۔ 

وکلا نمائندہ تنظیموں کا موقف ہے کہ جسٹس عائشہ اے ملک، جو لاہور ہائی کورٹ میں ججوں کی سینیارٹی لسٹ پر چوتھے نمبر پر ہیں، کی سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے تعیناتی آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔

جسٹس عائشہ ملک اور سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے دوسرے ججوں سے متعلق حتمی فیصلہ آج سپریم کورٹ میں منعقد ہونے والے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہونا ہے۔

اگر عائشہ اے ملک کو تعینات کر دیا جاتا ہے تو وہ سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والی پہلی خاتون جج ہوں گی۔

سپریم کورٹ کے احاطے کے اندر احتجاجی مظاہرے کے بعد وکلا کی بڑی تعداد نے جلوس برآمد کیا اور کانسٹیٹیوشن ایونیو پر مارچ کرتے ہوئے ریجنٹ ہوٹل تک گئے۔ 

احتجاج کے شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور نعرے بازی بھی کی گئی۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکلا کے احتجاج کے دوران سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر اور باہر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات تھی، جبکہ دو رویہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کو ایک طرف سے بند کر دیا گیا تھا۔ 

ملک کے دوسرے حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کراچی، ملتان، حیدر آباد سمیت دیگر شہروں نے بھی وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا۔ 

کئی سٹی کورٹس میں جیلوں سے قیدیوں کو بھی لاکر عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں مقدمات کی سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی کا کہنا تھا کہ وکیل ملک میں آئین و قانون کے نفاذ کے محافظ ہیں اور خصوصاً اعلیٰ عدلیہ کے معاملات میں کسی قسم کی غیر قانونی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی۔ 

وکلا رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جج کی حیثیت سے تعیناتی ہائی کورٹ کے کسی بھی سینیئر جج کا حق ہے اور اس سلسلے میں کسی کو ہٹ دھرمی کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ 

انہوں نے ججوں کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کے سینیارٹی اصول کو مبینہ طور پر نظر انداز کرنے پر کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ججوں کی تقرری سے متعلق قواعد کسی بھی صوبے یا کسی خاص ہائی کورٹ میں کوٹہ مختص کرنے پر خاموش تھے، اس لیے ضروری نہیں تھا کہ ججوں کو کسی خاص ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں ترقی کے لیے منتخب کیا جائے۔‘ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان