سعودی عرب کا قومی دن: لاہور کے بچوں کا عربی میں ترانہ

لاہور میں برطانوی نژاد پاکستانی دو بھائیوں نے پٹیالہ گھرانے کے نوجوان سے مل کر عربی زبان میں یہ ترانہ ریکارڈ کرایا ہے۔

رائن اور آئزک کو تین سال تک عربی اور پاکستانی دھنوں پر اس ترانے کی تربیت دی گئی (سکرین گریب)

لاہور میں برطانوی نژاد پاکستانی دو بھائیوں نے پٹیالہ گھرانے کے نوجوان سے مل کر عربی زبان میں سعودی عرب کا ترانہ ریکارڈ کرایا ہے۔

لاہور کے ڈاکٹر محمد زار کے دو بیٹوں 12 سالہ رائن زار اور آٹھ سالہ آئزک زار نے پٹیالہ گھرانے کے نوجوان شاہ میر رستم علی سے مل کر ترانے کی ویڈیو ریکارڈ کرائی۔

دونوں بھائی پیشہ ور گلوکار نہیں بلکہ شوقیہ موسیقی سیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد زار کے آئیڈیا پر پٹیالہ گھرانے کے رستم فتح علی خان نے ان کی معاونت کی اور سعودی عرب کے بانی کو یہ قومی ترانہ خراج عقیدت کے طور پر پیش کیا۔

والد کے کہنے پر رائن اور آئزک کو تین سال تک عربی اور پاکستانی دھنوں پر اس ترانے کی تربیت دی گئی۔

ڈاکٹر محمد زار کے مطابق انہوں نے 23 ستمبر کو سعودی عرب کے 91ویں قومی دن کے موقعے پر ترانہ پیش کر کے تحفہ دیا۔

ان کے مطابق وہ وزیر اعظم عمران خان کے تعلیم کو عام کرنے کے ویژن پر کام کرتے ہوئے اپنی ایجوکیشن آرگنائزیشن کے تحت تمام ملکوں کے قومی ترانے تیار کریں گے۔

ڈاکٹر زار کے بقول ’ہم 196 ملکوں کے قومی ترانے تیار کر رہے ہیں لیکن سب سے پہلے اس ملک سے ابتدا کی جو مسلمانوں کے لیے مقدس ہے جہاں مکہ و مدینہ ہیں۔‘

رائن نے کہا کہ اس کام میں انہیں کافی وقت لگا لیکن استاد رستم علی خان کی معاونت سے وہ کامیاب رہے۔

انہوں نے مزید کہا وہ پیشہ ور گلوکار نہیں اور ایک طالب علم ہیں لیکن موسیقی صرف شوق ہے اس لیے یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کے بعد وہ چین کا قومی ترانہ گانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ننھے گلوگار آئزک نے کہا کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کو دیکھ کر سعودی ترانہ گانا شروع کیا لیکن دھنوں پر گانے میں ان کو تربیت استاد نے دی جس کے باعث وہ یہ ترانہ گانے میں کامیاب ہوئے۔

’یہ بادشاہی مسجد سمیت لاہورکے کئی تاریخی مقامات کے بیگ گراؤنڈ کے ساتھ ویڈیو میں تیار کیا گیا جس میں لباس، ساز اور گلوکاری بھی اسی سٹائل سے اپنائی گئی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا