خواتین کی مالی شمولیت میں بہتری کیسے

اکثر خواتین جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناآشنا ہیں لہذا ان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیتوں کا انتظام کیا جائے۔

حکومت کے احساس پروگرام میں خواتین کی کراچی میں ایک لمبی قطار (اے ایف پی)

ہمارے ہاں خواتین کی کم شرح خواندگی، معاشی سرگرمیوں میں کم شمولیت، مالی وکاروباری امور کے بارے میں معلومات نہ ہونا، ملکیت کا اختیار نہ ہونا اور مالی وسائل تک رسائی نہ ہونا، وہ چند اہم رکاوٹیں ہیں جن کے حل کے لیے موثر پالیسی اور قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد کی اشد ضرورت ہے۔

ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ مالیاتی شعبے میں خواتین کی عدم شمولیت نہ صرف آبادی کے نصف حصے کو محروم رکھے گی بلکہ مالیاتی شعبہ بذات خود خواتین کی اہلیت اور کاروباری صلاحیتوں سے محروم رہ جائے گا۔

کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود پاکستان میں مالیات تک رسائی دیہی آبادی خاص طور پر خواتین سمیت محروم طبقوں کے لیے آج بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف 62 فیصد بالغ شہریوں کے بینک اکاؤنٹس ہیں۔

ان فعال کھاتوں میں 81 فیصد ٔنٹس مردوں کے جبکہ صرف 29 فیصد خواتین کے ہیں۔

بینک اکاؤنٹس میں یہ تناسب مالیاتی شعبے میں موجود صنفی تفاوت کو سمجھنے کا صرف ایک پہلو ہے۔ اس سے مالیاتی شعبے میں صنفی تفاوت کے عوامل اور وجوہات کو پوری طرح سے نہیں سمجھا جاسکتا ہے۔

صنفی تفاوت کوسمجھنے اور اس کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات تب ہی اٹھائے جاسکتے ہیں جب ٹھوس اعدادوشمار دستیاب ہوں مثلا کتنی خواتین نے آج تک بینکوں سے کتنے کاروباری یا دیگر قرضے لیے ہیں؟ کتنی خواتین فنانشل لٹریسی رکھتی ہیں؟ خواتین کون سے کاروباری رجحانات کی طرف مائل ہیں؟

خواتین کس حد تک بینکنگ سروسز کے بارے میں معلومات رکھتی ہیں؟ کتنی خواتین اثاثوں کی ملکیت اور دستاویزات رکھتی ہیں؟ ہمارے ہاں تو آج بھی خواتین کی ایک بڑی تعداد قومی شناختی کارڈ جیسی بنیادی دستاویز بھی نہیں رکھتیں ہیں۔

صنفی تفاوت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج بھی  پاکستان میں خواتین کی سو ملین سے زائد آبادی ملکیت اور رقم کے تحفظ کے اختیار سے محروم ہیں۔ یہ صنفی تفاوت پاکستان کی معاشی ترقی کو بری طرح سے متاثر کر رہی ہے۔

اگرچہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے مالی شمولیت کے معاملے میں کچھ پیشرفت کی ہے، لیکن یہ ناکافی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ایک المیہ ہے کہ پختہ سماجی روایات کی وجہ سے خواتین اپنا معاشی کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ روشن مستقبل کے لیے خواتین کو مالی طور پر بااختیار بنانا انتہائی اہم ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان، خواتین کی مالی شمولیت کو بہتر بنانے میں نہ صرف سنجیدہ ہے بلکہ اس کے لیے سال 2019 میں پالیسی تیار کرنا شروع کیا۔

اس پالیسی کا نام ’برابری پر بینکاری‘ ہے جس کا بنیادی مقصد خواتین کی شمولیت کو صنفی امتیاز کے بغیر ممکن بنانا ہے۔

سال 2020 میں اس پالیسی پر مالیاتی شعبے کے ماہرین بشمول خواتین کے ساتھ مشاورت کا آغاز کیا گیا۔ اس مشاورت کے ذریعے صنفی تفاوت کو کم کرنے اور معاشی نمو میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ممکنہ راستوں کو زیر بحث لایا گیا۔

اس سلسلے میں اہم پیش رفت 18 ستمبر 2021 کو ہوئی جب سٹیٹ بینک نے جامع قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی کے تحت ’برابری پر بینکاری کی پالیسی‘ کا اجرا کیا اور اس پالیسی پر عمل درآمد میں دیگر ملکی اور غیر ملکی اداروں سے مل کر کام کرنے کی توقع ظاہر کی۔

مجوزہ پالیسی پانچ اہم ستونوں میں بہتری کی نشاندہی کرتی ہے۔ پہلے ستون کے مطابق بینکوں کے عملے میں صنفی فرق کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کام کرنے والی خواتین کو تحفظ دینا، دوسرا ستون بینکوں کے اندر مخصوص ٹیموں کی تشکیل جو خواتین کے لیے مخصوص مالی مصنوعات کی ترقی اور مارکیٹنگ کے منصوبوں کا اجرا کریں گی، تیسرا ستون بینکوں میں خواتین چیمپئنز کی تعیناتی ہے جو خواتین صارفین کی سہولت کے لیے عملے کے طریقے کار کا جائزہ لیں گی، چھوتے ستون  کے مطابق صنفی امتیازی اعداد و شمار جمع کرن اور پانچواں ستون ماہرین پر مشتمل پالیسی فورم کا قیام جو مجوزہ پالیسی کے موثر نفاذ کے لیے مسلسل بنیادوں پر تجاویز اور رائے دیں گے۔

اس پالیسی کے تحت مخصوص اہداف مقرر کیے گئے ہیں جن کو بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کی معاونت سے حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

سٹیٹ بینک اور دیگر اہم مالیاتی اداروں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ مالی شمولیت میں صنفی فرق معاشی ترقی کو اپنے بھرپور امکانات کے ساتھ بروئے کار لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

خدشہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مالیاتی معاملات میں صنفی تفاوت بڑھ رہا ہے۔ اس وقت 20 فیصد سے بھی کم خواتین بینکوں کے بورڈز اور بینکوں کے سپروائزری ایجنسییوں سے منسلک ہیں۔ کوئی دو فیصد کے قریب انتہائی کم تعداد میں بینکوں کی سی ای اوز کے عہدوں پر فائز ہیں۔

مالی اور معاشی مواقع میں صنفی مساوات بہتر ہونے سے نہ صرف ہماری موجودہ بلکہ آئندہ نسلوں کی مجموعی سماجی اور معاشی ترقی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے مالیاتی اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا اوراس دوران موجودہ پالیسیز کو صنفی چشمے سے جانچتے ہوئے جائزہ لینا ہوگا کہ ملک کی نصف آبادی آج تک مالیاتی نظام کا موثر حصہ کیوں نہ بن سکی؟

مالیاتی اداروں کو قومی سے لے کر مقامی سطح تک پیشہ ورانہ فورمز کا قیام عمل میں لانا چاہیے جہاں کامیاب اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والی خواتین کو اکھٹا کیا جائے۔

ان فورمز پر خواتین نہ صرف اپنے تجربات شیئر کر سکیں گی بلکہ مالیات تک رسائی کی عمل میں درپیش مشکلات اور اس کے حل کے لیے تجاویز بھی دے سکیں گی۔

ان فورمز میں دیہی اور دور دراز کے علاقوں کی خواتین کی نمائندگی اور شمولیت کو ترجیحی بنیادوں پر اہمیت دی جائے کیونکہ ماضی میں ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر پروگرام اور منصوبے بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔

 پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد قانونی وجوہات، ضرورت سے زیادہ کاغذی کارروائی یا بینک جانے میں تکلیف کی وجہ سے بینکنگ کی سہولیات سے محروم  ہے اور خواتین، خواجہ سرا، ذاتی کاروبار کرنے والے اور غیررسمی معیشت میں رہنے والے ان سہولیات سے مستفید نہیں ہوتے۔

بہت سی خواتین بینکنگ کے لیے رضامند ہونے کے باوجود بینکنگ سیکٹر کا حصہ نہیں ہیں۔

حال ہی میں حکومت نے خواتین کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی ترغیب دینے کے لیے بینکنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ یقینی طور پر صحیح سمت میں ایک قدم ہے کیونکہ ہر شہری کو مالی شمولیت کا حق ہے لیکن چونکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے یہ فرق آہستہ آہستہ مزید بڑھ رہا ہے لہذا ہمارے ہاں مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔

سٹیٹ بینک نے تمام شہریوں کو بغیر ویب سائٹ یا موبائل ایپس کا استعمال کرتے ہوئے بینک کی شاخ میں جا کر ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے بینک کھاتہ کھولنے کی اجازت دی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دنیا بھر میں شناختی کارڈ رکھنے والے تمام باشندوں کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا ایک آسان کام ہے لیکن پاکستان میں متعدد قانونی طریقہ کار ہیں جو لوگوں اور خصوصاََ خواتین کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام شہریوں کے لیے بینک اکاؤنٹ کھولنا آسان بنائے۔ فری لانسرز، خواتین اور بیرون ملک سے ترسیلات زر وصول کرنے والوں کو کم سے کم دستاویزات کی ضروریات کے ساتھ بینک اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

پاکستان میں بینکنگ خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ تمام شہریوں بشمول خواتین، معذور افراد اور خواجہ سرا کی مالی شمولیت ممکن ہوسکے۔

یہاں اس امر کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ اکثر خواتین جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ناآشنا ہیں لہذا ان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی تربیتوں کا بھی انتظام کیا جائے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے خواتین کی مالی شمولیت اور آسانی کو ترجیح، دیہی اور شہری علاقوں کی خواتین میں مالی خواندگی کے فروغ کے ساتھ ساتھ کریڈٹ گارنٹی اور ری فائنانس سکیم کا آغاز اہم سنگ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ