خیبر پختونخوا: تھانوں کے نئے نام سے تفتیشی نظام میں جدت آئے گی؟

خیبر پختونخوا حکومت نے ’ایک نئی کوشش‘ کے تحت پولیس سٹیشنز کا نام تبدیل کر کے ’آسان انصاف مراکز‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ آغاز پشاور کے علاقے حیات آباد کے ایک پولیس سٹیشن سے کر دیا گیا ہے۔

اس نئے پروگرام کا باضابطہ آغاز پشاور کے علاقے حیات آباد کے ایک پولیس سٹیشن سے کر دیا گیا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)

صوبہ خیبر پختونخوا میں روایتی تھانہ کلچر ختم کرنے، عوام دوست ماحول اور سائلین کو انصاف کی آسان فراہمی وہ مقاصد ہیں جن کو پانے کے لیے صوبائی حکومت نے ’ایک نئی کوشش‘ کے تحت پولیس سٹیشنز کا نام تبدیل کرکے ’آسان انصاف مراکز‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باضابطہ آغاز پشاور کے علاقے حیات آباد کے ایک پولیس سٹیشن سے کر دیا گیا ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا اس ماڈل کو صوبے کے قبائلی اضلاع سمیت دیگر اضلاع تک وسعت دینے کا ارادہ بھی رکھتی ہے۔

یہ بالکل اسی طرح کی کوشش ہے جب 2014 میں خیبر پختونخوا حکومت نے روایتی تھانہ کلچر بدلنے کے لیے ’ماڈل پولیس سٹیشنز‘ کا آغاز کیا تھا۔

’ماڈل پولیس سٹیشنز‘ کا کیا ہوا، ناکام ہوئے یا کامیاب؟ ایسا کوئی جائزہ یا کارکردگی رپورٹ اب تک عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئ ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت خود ’تھانہ کلچر‘ میں اصلاح کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے دوبارہ وہی منصوبہ دہرا رہی ہے جو  سات سال قبل پشاور کے تین پولیس سٹیشنز میں متعارف کرنے کے بعد مزید 60 سے زائد سٹیشنز میں نافذ کیا گیا تھا۔

ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر عین وہی تفصیلات دہرائی جارہی ہیں، جن کے تحت نہ صرف پولیس سٹیشنز کا نام تبدیل کیا جائے گا، بلکہ ان میں ’جدید‘ تقاضوں کے مطابق سائلین کی رہنمائی اور مدد کی جائے گی، جب کہ خواتین، خواجہ سراؤں اور بزرگوں کے لیے الگ ڈیسکس بھی قائم کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ  سی سی  ٹی وی کیمروں سے براہ راست تھانوں کی مانیٹرنگ  ہوگی تاکہ کسی شہری یا قیدی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ ہو۔

ان اقدامات اور ’پرامید‘ دعوؤں کو کسی طور غلط نہیں کہا جاسکتا تاہم جب انڈپینڈنٹ اردو نے نئے نظام کے تحت آغاز کرنے والے پہلے ’آسان انصاف مرکز‘ کی صورتحال جاننے کے لیے وہاں جا کر دیکھا تو ’رپورٹنگ روم‘ میں پولیس کا عملہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھا۔ اس دوران ہیڈ کانسٹیبل عالم زیب نے نئی پیشرفت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ نئے اقدام کے پیش نظر عمارت میں تزئین وآرائش کا کام کیا جاچکا تھا جبکہ عمارت کے مرکزی داخلی دروازے پر ایک ’وزٹرز مینجمنٹ سسٹم‘ بھی قائم کیا گیا ہے، جو سائلین کا اندراج کرکے ان کی صحیح سمت میں رہنمائی کرے گا۔

رپورٹنگ روم کے داخلی دروازے کے پاس لگی مشین پر اپنے مسئلے کا انتخاب کرکے سائل کو ایک ٹوکن دیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہاں 13 سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں جن کی براہ راست پولیس لائن میں مانیٹرنگ ہوتی ہے۔ حوالات کے باہر بائیو میٹرک تالا بھی لگایا گیا ہے۔‘

سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) نور حیدر خان نے بتایا کہ اب ایک عام شہری کو پولیس یا پولیس سٹیشن سے خوف محسوس نہیں ہوگا اور انہیں انصاف تک باآسانی رسائی حاصل ہوگی۔

حقائق کیا ہیں؟

ان تمام اقدامات کی دوسری جانب حقائق کچھ یوں تھے کہ متعلقہ پولیس سٹیشن میں خواتین ڈیسک کے فرائض سرانجام دینے کے لیے صرف ایک خاتون اہلکار ہیں جو غیر حاضر تھیں۔

تھانے کے مرکزی گیٹ پر کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں تھا جب کہ ہیڈ کانسٹیبل نائب محرر کی ذمہ داری سرانجام دے رہے تھے۔ اس سے معلوم ہو رہا تھا کہ متعلقہ پولیس سٹیشن میں درکار افرادی قوت کی کمی تھی۔

رپورٹنگ روم میں ایک عام خاتون کی رہنمائی کے لیے بھی حالات زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھے۔ جب کہ خواتین ڈیسک کی تختی دیوار پر اتنی اوپر  ٹانکی گئی تھی جس پر باآسانی نظر نہیں جاتی۔

ریکارڈ رکھنے کے لیے کوئی متبادل سافٹ ویئر نہ ہونے کی وجہ سے محرر ایف آئی آر و روزنامچہ ہاتھ سے لکھتے ہیں اور اس کے بعد انہیں ٹائپ کرتے ہیں جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور اہلکاروں پر کام کا بوجھ بھی بڑھ جاتا ہے۔

’ نام بدلنے سے کچھ نہیں ہوگا، نظام بدلنا ہوگا‘

خیبر پختونخوا کےسابق سیکریٹری داخلہ و سابق ایڈیشنل آئی جی پولیس اختر علی شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے ’روایتی تھانہ کلچر‘ کے موضوع  پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صرف نام یا عمارت بدلنے سے تھانہ کلچر کی اصلاح نہیں ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے جس میں پہلے توجہ ’انوسٹی گیشن’ اور  سائلین کی داد رسی پر دینے کی ضرورت ہے۔

’پولیس سٹیشنز کے انوسٹی گیشن کا معیار ٹھیک نہیں ہے۔ صحیح دفعات نہیں لگائی جاتیں۔ اسی لیے جرائم میں کمی نہیں آرہی۔  60 سال پہلے آج سے زیادہ اچھی تفتیش ہوتی تھی۔ 1934 کا پولیس انوسٹی گیشن چیپٹر دیکھ لیں اس میں ہمیں زیادہ گائیڈ لائنز ملتی ہیں۔‘

اختر علی شاہ نے بتایا کہ کمپیوٹرائزڈ سسٹم متعارف کرنا، تھانے میں سائلین کی رہنمائی کے لیے ڈیسک قائم کرنا اگرچہ حوصلہ افزا ہے لیکن اصل مسائل اس سے زیادہ توجہ طلب اور تشویشناک ہیں۔

’آج بھی جب  ایک شہری یاکوئی خاتون گھریلو مسائل کے لیے پولیس سٹیشن جاتی ہے تو ان کی رپورٹ درج نہیں کی جاتی۔ پولیس عملہ ٹال مٹول سے کام لیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے یہاں روزانہ نئے تجربات ہوتے ہیں۔ سب انسپکٹر آج اس تھانے تو تین ماہ بعد کسی اور تھانے ۔ یہ بنیادی چیزیں ٹھیک نہیں ہوں گی تو محض رنگ وروغن، نام بدلنے سے کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ایک پولیس سٹیشن کو مثالی بنانے سے پہلے اس کے ریسورسز، اخراجات، ضروریات و عملے کی تعداد کا بھی خیال رکھنا چاہیے تاکہ انصاف کی فراہمی کے جو دعوے کیے جاتے ہیں ان کی تکمیل ہوسکے۔

’شہریوں کو دوستانہ ماحول فراہم کرنے اور ان کو انصاف دلوانے سمیت یہ بھی اہم ہے کہ ایک پولیس سٹیشن میں مرد وخواتین اہلکاروں کی تعداد کتنی ہے۔ پولیس کو وقتاً فوقتاً تربیت دی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ تربیت دینے والوں کی کوالٹی بھی چیک کی جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان