کیا خیبر ہختونخوا پولیس واقعی ’مثالی‘ ہے؟

پنجاب اور سندھ کی پولیس کے مقابلہ میں خیبرپختونخوا کی پولیس کو ’مثالی‘ قرار دینے کے لیے ان تینوں پولیس فورسز کا ایک تقابلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

(اے ایف پی)

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں افغان شہری راضیع اللہ عرف عامرے کو محض بدزبانی کی پاداش میں تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی برہنہ وڈیو جاری کرنے کے واقعہ پر جہاں پولیس اہلکار شدید تنقید کی زد میں ہیں وہاں اس حرکت کی وجہ سے پشاور پولیس عرصہ دراز سے حاصل 'مثالی پولیس' کے اعزاز سے بھی محروم ہوتی نظر آرہی ہے۔

بیشتر لوگ سوشل میڈیا پر پولیس کو ان کی اس حرکت پر مخاطب کرتے ہوئے یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ 'آپ مان لیں کہ آپ مثالی نہیں بلکہ مثال بن گئے ہیں۔'

لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ مثالی پولیس ہے کیا، کیا یہ محض حکمرانوں کا ایک نعرہ ہے یا اس کا کوئی پس منظر بھی ہے۔

پولیس کا تاریخی پس منظر

مختلف ادوار میں ہونے والی اصلاحات اور سال2000 کے پولیس آرڈر کے باوجود اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ پاکستان میں رائج پولیس نظام برصغیر پر قابض برطانوی راج  کے پولیس نظام کی بنیادوں پر استوار ہے جو امن و امان کے قیام اور عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ سے زیادہ تاج برطانیہ نے اس خطہ میں اپنی نوآبادیاتی اہداف کی تکمیل کے لیے نافذ کیا تھا۔

مثالی پولیس کیا ہے؟

خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور کی پولیس فورس کو جب پاکستان بھر میں ’مثالی‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے تو یہ پولیسنگ اور قانون نافذ کرنے سے کہیں زیادہ یہاں کی روایات اوراس خطے کی نیم قبائلی معاشرت کے پس منظر میں کہا جاتا ہے۔  

تاہم پنجاب اور سندھ کی پولیس کے مقابلہ میں خیبرپختونخوا کی پولیس کو ’مثالی‘ قرار دینے کے لیے ان تینوں پولیس فورسز کا ایک تقابلی جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

عام طور پر تاثر ہے کہ جرائم پیشہ و سماج دشمن عناصر کے ساتھ ملی بھگت، بدعنوانی، رشوت ستانی، تھانوں کے عقوبت خانوں (جسے پنجاب کی اصطلاح میں ڈرائنگ روم کہا جاتا ہے) میں زیرحراست افراد پر پولیس تشدد اورجعلی مقدمات بنانے میں خیبرپختونخوا کی پولیس پنجاب اور سندھ کی پولیس فورس سے پیچھے نہیں۔

پولیس کی کارکردگی پر کئی سالوں سے نظر رکھنے والے پشاور کے سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار ایم ریاض کا کہنا ہے کہ  پنجاب اور سندھ میں اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ پولیس کی طرف سے بھاری رقوم بٹورنے کے عوض یا مقامی سیاستدانوں اور بااثر افراد  کی ایما پر ان کے مخالفین کے خلاف بہت بھونڈے، ہتک اور ذلت آمیز مقدمات بنائے جاتے رہے ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ سینیئر سیاستدان چوہدری شجاعت حسین کے والد چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ بنایا گیا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مزید تذلیل کے لیے خواتین اور بچوں تک کو تشدد اور تذلیل کا نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔

ان کے بقول 'ملزمان کے خلاف چادر چاردیواری کے تقدس کا کوئی خیال نہیں کیا جاتا بلکہ یہاں تک خواتین اور بچوں تک کو پکڑکرحوالات میں بند کیا جاتا ہے جہاں 'ڈرائنگ روم' میں ان کی خاطرتواضع کی جاتی ہے۔'

 تاہم دوسری طرف خیبرپختونخوا میں خدمات سرانجام دینے کے بعد اپنے آبائی صوبہ پنجاب میں ایک اہم عہدہ پر تعینات پولیس سروس آف پاکستان کے ایک افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'پنجاب میں قتل مقابلے کی وارداتیں پولیس کے لیے زیادہ کمائی کے مواقع ہوتے ہیں جن میں قاتل اور مقتول دونوں فریقین سے وصولی کی جاتی ہے۔'

تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں پولیس شاذونادر ہی قتل کی واردات میں خصوصا مقتول فریق سے رشوت بٹورتی ملے گی۔

پولیس افسر کے مطابق پنجاب کے مخصوص سماجی پس منظر میں پولیس تک عوام کی رسائی بہت کم ہوتی ہے جہاں علاقے کے باعزت لوگ بھی تھانے جانے سے کتراتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں خیبرپختونخوا میں نہ صرف تھانہ بلکہ اس سے اوپر افسران کی سطح پر بھی عوام کے لیے دروازے کھلے رہتے ہیں۔

پنجاب کے بارے میں یہ تاثر بھی عام ہے کہ وہاں مخصوص معاشرتی پس منظر میں پولیس کے اہلکاروں کی حیثیت  یا پروٹوکول کے مطابق ان کا آپس میں فاصلہ رہتا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا میں ایک ایس پی اپنے ڈرائیور کے ساتھ کھانا کھاتا نظر آئے گا لیکن پنجاب میں کسی ضلع کا ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او)اپنے ماتحت ڈی ایس پی کو ازراہ تکلف بھی چائے پانی کا نہیں پوچھے گا۔

اسی طرح خیبرپختونخوا کی پولیس فورس کے مختلف سطح کے اہلکاروں کے میل ملاقات میں بےتکلفی اور اپنائیت نظر آتی ہے۔ جیسے ایک ایس ایچ او کسی بھی وقت جاکر اپنے ضلع کے ڈی پی او سے مل سکتا ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں پنجاب پولیس میں پروٹوکول کا بہت عمل دخل ہے اور ایک اے ایس پی یا ڈیس ایس پی بھی اپنے ڈی پی او سے اپائنمنٹ لیے بغیر نہیں ملے گا۔

اس طرح کسی بھی دوسرے صوبے کی طرح خیبرپختونخوا میں بھی پولیس افسران اور اہلکار حکومت، سیاست اور مقتدر قوتوں کی بااختیار شخصیات کے احکامات اور ہدایات کی بجا آوری میں پس و پیش نہیں کرتے۔ تاہم کسی زمانے میں خیبر پختونخوا پولیس کو مثالی بنانے والی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ یہاں کے افسران ان بااختیار شخصیات کے بہت خلاف قاعدہ و قانون احکامات کی مزاحمت بھی کرلیتے تھے اوراکثر اوقات قانون کے مطابق ڈیوٹی سرانجام دیے والے اپنے ماتحت اہلکارپر سٹینڈ لیتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیشتر اوقات کسی ایم این اے، ایم پی اے، وزیر یا سیاسی شخصیت کے لیے آسان نہ ہوتا کہ وہ میرٹ پر پورا نہ اترنے والے کسی اہلکارکو اس کی من پسند جگہ پر تعینات رکھ سکے۔  

سینیئر صحافی ایم ریاض ایسے ہی ایک واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں برسرقتدار عوامی نیشنل کے دور میں اے این پی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی اس وقت کے سی سی پی او پشاور لیاقت علی خان کے ساتھ اس بات پر بدمزگی ہوئی تھی کہ سی سی پی او نے اسفندیار ولی خان کے حلقہ انتخاب کے ایک تھانیدار کو ایک شہری کے ساتھ نازیبا سلوک کی پاداش میں معطل کرکے لائن حاضر کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسفندیار ولی خان اس تھانیدار کو بحال کرنے اور واپس اپنے سابقہ عہدے پر اصرار کر رہے تھے تاہم اس کے باجود وہ تھانیدار نہ تو بحال ہوا اور نہ واپس اپنی جگہ تعینات ہوسکا۔

اس طرح چند ماہ قبل اس وقت کے آئی جی خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم خان نے خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلی محمود خان کے احکامات کے سامنے ڈٹ گئے تھے جب انہوں نے سوات، بونیر، ضلع ملاکنڈ، آپر دیر، لوئر دیر، شانگلہ، لوئر چترال اورآپر چترال کے اضلاع پر مشتمل خیبرپختونخوا کے سب سے بڑے پولیس ریجن ملاکنڈ میں گریڈ 19 کے پولیس افسر کو ریجنل پولیس افسر(آر پی او) کے عہدے پر تعینات کرنا چاہتے تھے اوردیگر عوامل کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر نعیم کے قبل از وقت تبادلہ میں وزیراعلیٰ کی یہ خفگی بھی شامل تھی۔

 دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال بہادری

لیکن ان تمام خوبیوں سے بڑھ کر ایک بڑی خوبی جس نے خیبر پختونخوا کی پولیس کو واقعتا پاکستان بھر میں 'مثالی پولیس' کے اعزاز سے سرفراز کر رکھا ہے وہ اس پولیس فورس کی بہادری، دلیری اورجرات کے وہ بلند معیارات ہیں جو خیبرپختونخوا پولیس کے افسروں اور جوانوں نے فرض کی ادائیگی کی راہ میں اپنی جانوں کی قربانی دے کر قائم کیے ہیں۔

خصوصا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران جس میں خیبر پختونخوا پولیس کے تقریبا 15 سو سے زائد افسران اور جوان اپنی جانیں قربان کر گئے، پاکستان کیا دنیا بھر کی کسی بھی پولیس فورس میں اتنی بڑی تعداد میں جانوں کی قربانی کی مثال نہیں ملتی۔

خیبرپختونخوا پولیس واحد پولیس فورس ہے جس میں سپاہی سے لے کر انسپکٹر جنرل تک ہر سطح اور ہر رینک کے افسروں اور جوانوں نے جانوں کی قربانی دی ہے۔

گریڈ 21کے کمانڈنٹ ایف سی صفوت غیور، گریڈ21کے ایڈیشنل آئی جی پولیس اشرف نور، گریڈ 20کے سی سی پی او پشاورملک سعد اور گریڈ20 کے ڈی آئی جی بنوں عابد علی محض چند مثالیں ہیں جو واضح خطرات کے باوجود بے مثال جرات، بہادری اور دلیری کامظاہرہ کرتے ہوئے بم دھماکوں میں ہلاک ہوئے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان