جنوبی وزیرستان کے سکول پولیس سٹیشن بن گئے

جنوبی وزیرستان کے تعلیمی ادارے ماضی میں کبھی طالبان اور کبھی سکیورٹی فورسز کے زیر استعمال رہے اور اب پولیس انہیں تھانے اور رہائش کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

(اے ایف پی فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان میں تعلیمی ادارے پچھلے کئی ادوار سے مختلف فورسز کے بطور مورچے زیر استعمال رہے اور اب صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے بعد تھانے موجود نہ ہونے کی وجہ سے پولیس نے بھی ان تعلیمی اداروں میں اپنے ڈیرے ڈال لیے ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں پہلے سے تباہ حال تعلیمی اداروں کو ماضی میں کبھی خان و خوانین نے مہمان خانے کے طور پر استعمال کیا تو کبھی طالبان نے یہاں ٹھکانے بنائے۔

طالبان کے خلاف جنگ کے دوران شدت پسند نہ صرف سکولوں میں اکھٹے ہوکر دہشت گرد کارروائیوں کے منصوبے بناتے بلکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ان عمارتوں کو رہائش کے لیے استعمال کیا کرتے۔

محکمہ تعلیم کے مطابق جنوبی وزیرستان میں کُل 747 سکولوں میں سے 464 لڑکوں جبکہ 283 لڑکیوں کے بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے صرف 261 فعال جبکہ 486 سکول بند پڑے ہیں۔ بند سکولوں میں سے 296 لڑکوں کے جبکہ 190 لڑکیوں کے ہیں۔       

جنوبی وزیرستان میں ضلعی پولیس آفسر شوکت علی نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ پولیس نے کسی بھی سکول پر زبردستی قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ پہلے سے خالی سکولوں میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان کے کسی بھی علاقے میں کوئی پولیس تھانہ موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے پولیس اہلکار مجبوراً سکولوں میں رہائش پذیر ہوئے۔

ان کا کا کہنا تھا کہ بعض علاقوں میں پولیس اہلکار سکولوں کے علاوہ ‘پہلے سے خالی’ بنیادی صحت کے مراکز میں بھی رہائش پذیر ہوئے ہیں۔ ‘سینکڑوں سکولوں میں نہ کوئی استاد موجود ہیں اور نہ وہاں بچے آتے ہیں۔’

اگر دیکھا جائے تو طالبان شدت پسندوں نے تمام قبائلی اضلاع میں سب سے کم (صرف 55) سکولوں کو جنوبی وزیرستان میں بموں سے اُڑایا، جس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ وہ ان سکولوں کو بطور مورچہ استعمال کررہے تھے اور ان کے اکثر ٹھکانے سکول ہوتے تھے۔

ضلعے میں تباہ ہونِے والے 55  سکولوں میں بھی زیادہ تر فوج اور دہشت گردوں کے درمیان لڑائی کے دوران تباہ ہوئے۔ طالبان نے بُہت کم سکول بموں سے اڑائے۔

جنوبی وزیرستان سے رکن صوبائی اسمعبلی اور ڈیڈک چیئرمین نصیراللہ نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے فوری طور پر 11 پولیس تھانے اور پانچ چوکیوں کی تعمیر کے لیے پیسے ریلیز کیے، مگر ان پیسوں سے تعمیر ہونے والے تھانوں پر سات سے آٹھ مہینے کا وقت درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی فرصت میں ہائی سکولز اور مڈل سکولوں کو پولیس سے خالی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نصیر اللہ نے بتایا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو مختلف علاقوں میں تعینات کرنا بُہت ضروری تھا اور سکولوں کے علاوہ دوسرا راستہ بھی نہیں تھا لہٰذا مجبوراً انہیں سکولوں میں تعینات کیا گیا۔

ڈی پی او شوکت کا کہنا تھا کہ پانچ سکول ایسے تھے جن میں بچوں کی تعداد زیادہ تھی لہٰذا پولیس اہلکار ان سکولوں کو خالی کرکے کرائے کے مکانوں میں منتقل ہوگئے، جن سکولوں میں پولیس اہلکار موجود ہیں وہ پہلے سے مہمانے خانے تھے اور پولیس نے قبضہ گروپ سے قبضہ چھڑایا اور طلبہ کو متاثر نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

        

قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں کی زمینیں مخصوص لوگوں کی ملکیت ہیں۔ جس شخص کی زمین پر سکول تعمیر کیا گیا وہ اس سکول کو اپنا ملکیت سمھجتا ہے۔ اس وجہ سے اکثر پرائمری سکول زیادہ آبادی والے علاقوں سے دور تعمیر ہوئے اور شدت پسند ان غیر آباد سکولوں کو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کرنے لگے تھے۔

سابق سینیٹر صالح شاہ محسود نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ ‘ہماری پہلی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ قبائل ہے اور دوسرا بدقسمتی یہ کہ قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ تعلیمی ادارے ہی متاثر ہوئے، انضمام کے بعد سکولوں کو مزید نقصان پہنچا۔’

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کے لیے 10 سالہ پالیسی بنائی گئی، جس کے تحت تمام محکموں کے دفاتر کا انتظام شامل تھا مگر راتوں رات یہ انضمام کردیا گیا۔‘اب حالات یہ ہیں کہ محکموں کے مُلازمین کے لیے سر چُھپانے کی جگہ نہیں۔’

انہوں نے مزید کہا کہ پورے قبائلی علاقوں میں سکیموں کے نام پر اربوں روپے ڈوب رہے ہیں اور کاموں کا نتیجہ صفر ہے۔ ‘پولیس نظام بھی بُری طرح ناکام ہوچکا اور لوگ پولیس تھانوں کی بجائے جرگوں کی طرف جا رہے ہیں۔’ انہوں نے کہا کہ پولیس کو وقت سے پہلے بھیج دیا گیا، جس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو پولیس تھانوں میں تبدیل کرنا پڑا۔

زیادہ پڑھی جانے والی کیمپس