اگر اس دن مصباح غیر روایتی شاٹ نہ کھیلتے؟

2007 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے فارمیٹ کے حساب سے پہلا ایونٹ تھا اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی تمام ٹیمیں نبرد آزما ہوئی تھیں۔

شاید مصباح الحق کی زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا ہو جب انھوں نے خود کو اس قدر پشیمان پایا ہو(اے ایف پی)

کرکٹ میں ہر گیند پر ایک نیا کھیل اور نئی قسمت ہوتی ہے۔ اس گیند سے قبل جو کچھ بھی ہوچکا ہو آنے والی گیند کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اور بلے باز کی سنچری بھی اسے کسی بھی گیند کا شکار ہونے سے نہیں بچا سکتی۔

اگر میچ آپ کے ہاتھ میں ہو اور جیت کے لیے چار گیندوں پر صرف چھ رنز درکار ہوں تو ہر بلے باز اطمینان سے کھیلتا ہے کیونکہ جتنا دباؤ بیٹنگ ٹیم پر ہوتا ہے اس سے کہیں زیادہ فیلڈنگ ٹیم دباؤ برداشت کررہی ہوتی ہے۔

2007 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے فارمیٹ کے حساب سے پہلا ایونٹ تھا اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والی تمام ٹیمیں نبرد آزما ہوئی تھیں۔

توقعات کے مطابق بھارت اور پاکستان فائنل میں پہنچے تھے کیونکہ یہ دو ٹیمیں ان ایام میں مختصر دورانیے کی اس کرکٹ کے بے تاج بادشاہ تھے۔

24 ستمبر کو جوہانسبرگ کے فائنل میں بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی تھے جبکہ پاکستان کی قیادت شعیب ملک کررہے تھے۔

بھارتی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 157 رنز بنائے تھے۔ جس میں گوتم گھمبیر کے 75 رنز قابل ذکر تھے۔ عمرگل کی شاندار ریورس سوئنگ نے بھارتی بیٹنگ کو کھل کر کھیلنے نہ دیا۔

 انگلینڈ کے خلاف اسی ورلڈ کپ میں اسٹورٹ براڈ کے ایک اوور میں 6 چھکے لگانے والے یوراج سنگھ بھی کچھ نہ کرسکے تھے۔

پاکستان کے لیے جوابی بیٹنگ میں 157 رنز کا ہدف بادی النظر میں ایک آسان ہدف تھا۔ کیونکہ پاکستان کی بیٹنگ بہت اچھی چل رہی تھی۔

عمران نذیر نے سیمی فائنل میں زبردست بیٹنگ کی تھی اس لیے سب کی نظریں ان پر لگی ہوئی تھیں۔

اگر یونس خان وہ رنز نہ لیتے

عمران نذیر نے دوسرے ہی اوور میں سری سانتھ کو دو چوکے لگا کر بتادیا تھا کہ وہ اکیلے ہی جیت کا معمار بننا چاہتے ہیں۔

وہ صرف 14 گیندوں پر 33 رنز بنا چکے تھے کہ ان ٹانگ کا پٹھہ کھنچ گیا اور وہ لنگڑاکر چلنے لگے۔

یونس خان نے مڈآف پر ایک شاٹ کھیلا اور دوڑ پڑے عمران نذیر تیار نہ تھے لنگڑاتے ہوئے بھاگے اور ان کے پہنچنے سے پہلے ان کی قسمت کی وکٹ اتھاپا نے اڑا دی۔

 اس سے قبل کامران اکمل صفر اور محمد حفیظ ایک رنز پر آؤٹ ہوچکے تھے۔ تین اچھے بلے بازوں کی پاور پلے میں جدائی نے پاکستان بیٹنگ کو دو قدم پیچھے کردیا تھا۔

یونس خان اور شعیب ملک بھی جلدی آؤٹ ہوگئے۔

شاہد آفریدی پہلی گیند پر عرفان پٹھان کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔

پاکستان کی 6 وکٹ 77 رنز پر گر چکی تھیں۔ ہر دیکھنے والی آنکھ نے فیصلہ کر لیا تھا پہلے ورلڈ کپ کا فاتح بھارت ہوگا۔

مصباح کی جیت کی طرف پیش قدمی

ایسے میں مصباح الحق اور یاسر عرفات نے بیٹنگ کو سنبھالا اور جیت کی طرف سفر شروع کیا۔

دونوں بلے بازوں نے سکور 138 تک پہنچا دیا اب پاکستانی ٹیم کو بھی جیت کی امید ہوگئی تھی۔ ایسے میں عرفان پٹھان کے بائیں ہاتھ نے کمال دکھایا اور یاسر کو بولڈ کردیا۔

سہیل تنویر نے آتے ہی دو چھکے لگائے لیکن اگلی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔

دوسری طرف مصباح الحق مسلسل کوششوں میں مصروف تھے۔

آخری اوور میں پاکستان کو جیت کے لیے 13 رنز درکار تھا لیکن اطمینان یہ تھا کہ مصباح کے پاس سٹرائیک تھی۔

دھونی کے لیے فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ آخری اوور کس سے کرائیں جوگندر شرما یا ہربھجن سنگھ؟

دھونی نے جوگندر شرما کو گیند دے دی جن کی پہلی گیند وائیڈ ہوگئی۔

اگلی گیند پر مصباح الحق نے مڈ آن پر چھکا جڑ دیا۔

اب چار گیندیں اور 6 رنز، آسان ہدف اور سیٹ بیٹسمین کریز پر۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایسے میں نجانے کیوں مصباح الحق نے فیصلہ کیا کہ وہ غیر روایتی پیڈل سوئپ کھیلیں گے۔

جوگندر شرمانے آف سٹمپ سے باہر گیند کی اور مصباح الحق پہلے سے اور باہر چلے گئے۔

 جوگندر نے سلو گیند کی جس سے مصباح کا بیٹ پہلے چلا گیا اور گیند ان کے بیٹ کے اوپری حصہ میں لگ کر ہوا میں اچھل گئی۔

شارٹ فائن لیگ پر کھڑے سری سانتھ کو زیادہ بھاگنا نہ پڑا اور اپنی زندگی کا سب سے بڑا کیچ لے لیا۔

مصباح الحق سر جھکا کر مایوسی کے عالم میں پچ پر ایسے بیٹھ گئے جیسے کسی جہاز کا نا خدا ڈوبتے ہوئے جہاز کو ساحل پردیکھتا ہے۔

شاید مصباح کی زندگی میں ایسا لمحہ کبھی نہ آیا ہو جب انھوں نے اس قدر خود کو پشیمان پایا ہو۔

ایک ایسا میچ جس کی جیت کے لیے مصباح نے جان توڑ محنت کی تھی اور منزل تک پہنچنے کے لیے ہر ممکن تگ ودو کی تھی۔ اس کااختتام ایسے شاٹ پر ہوا جس کی ضرورت نہ تھی !!

مصباح الحق پر اس شکست کے بعد بہت تنقید ہوئی لیکن وہ آج بھی کہتے ہیں کہ اس شاٹ میں کوئی غلطی نہ تھی۔

میچ کے بعد جب مصباح سے پوچھا گیا کیا وہ آئندہ بھی یہ شاٹ کھیلیں گے تو ان کا جواب تھا ۔۔۔ ہاں!!!!

پاکستان ٹیم کے کوچ جیف لاسن نے ایک دفعہ بتایا تھا کہ جب ہم جیت کے قریب تھے تو باہر بیٹھے دعائیں کررہے تھے کہ مصباح کوئی غیر روایتی شاٹ نہ کھیلیں۔

شاید اس دن پاکستانیوں کے لیے سب سے بڑی خوشی کا موقع صرف اس لیے چھن گیا کہ مصباح الحق روایت سے ہٹ گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ