کیا مصباح الحق اور وقار یونس کا کوچنگ کیرئیر ختم ہوگیا؟

ایک تاریخ کا عظیم بولر اور ایک گرتی ہوئی عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے والا کھلاڑی اپنی بھرپور خدمات کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے اب کب ضرورت بنتا ہے یہ بتانا مشکل ہے لیکن یہ تبدیلی شاید اب مزید اکھاڑ پچھاڑ کی نوید دے رہی ہے۔

وقار یونس اور مصباح الحق نے گذشتہ روز ایک ساتھ ہی پاکستان ٹیم کے کوچ کے عہدے سے استعفیٰ دیا (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

 90 کی دہائی میں جب عالمی کرکٹ میں بہت سے فاسٹ بولرز آرہے تھے اور وسیم اکرم پاکستان کرکٹ کی افق پر روز روشن کی طرح چھائے ہوئے تھے ایسے میں اگر کسی بولر نے دنیا کو حیران کیا تو وہ وقار یونس تھے۔

سوئنگ یارکر اور پھر ریورس سوئنگ میں جس قدر مہارت وقار یونس نے حاصل کی آج تک کوئی دوسرا بولر نہیں کر سکا ہے۔

اپنے ٹیسٹ کریئر میں وقار یونس ان اور آؤٹ کے میوزیکل گیم کا شکار رہے۔ وسیم اکرم سے ’اختلافات‘ نے ان کے کرئیر کو بہت نقصان پہنچایا ورنہ وہ پاکستان کے پہلے پانچ سو وکٹیں لینے والے بولر بن سکتے تھے۔

قار یونس ایک خود اعتماد اور جارحانہ شخصیت کے مالک ہیں جو لگی لپٹی نہیں رکھتے اور دل کی بات زبان پر فوری لے آتے ہیں۔ ان کی اس عادت نے ان کی کپتانی کو بھی نقصان پہنچایا اور اپنے قائدانہ دور میں بڑے کھلاڑیوں سے ان کے تعلقات خراب رہے۔

پاکستان ٹیم سے منسلک رہنا ان کی دیرینہ خواہش تھی، اسی لیے جب 2003 کے ورلڈ کپ میں ناکامی کے بعد وہ ٹیم سے علیحدہ ہوئے تو کوچنگ ان کی خواہش رہی۔ ان کی خواہش کو عملی صورت تو مل گئی لیکن ان کے زمانے میں تواتر سے ایسے واقعات ہوتے رہے کہ وہ بھی ان سے متاثر ہوئے۔

2010  کے دورہ انگلینڈ میں وہ اس ٹیم کے کوچ تھے جو میدان میں تو آسٹریلیا اور انگلینڈ کو شکست دے رہی تھی لیکن گراؤنڈ سے باہر ’سٹے بازی‘ کے گھناؤنے جرم میں ملوث ہورہی تھی۔

وقار یونس ایک سخت مزاج کوچ ہیں لیکن وہ اس دورے پر کھلاڑیوں پر نظر رکھنے میں ناکام رہے۔

2011  کے ورلڈ کپ میں شعیب اختر کے ساتھ ان کے تعلقات خراب ہونے کی خبریں آتی رہیں۔ شعیب تو ان پر اپنے کریئر کو تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، اسی طرح عبدالرزاق، شاہد آفریدی اور اظہر محمود بھی ان سے خائف رہتے تھے۔

وقار یونس نے گذشتہ 15 سال میں پانچ مرتبہ کوچنگ کا عہدہ سنبھالا لیکن ہر دفعہ وہ اپنی مدت پوری نہ کرسکے۔

بورڈ اور کھلاڑیوں کے اختلافات نے ان کی کوچنگ کے ساتھ ان کے رویہ کو بھی مورد الزام ٹھہرایا، حالانکہ محمد سمیع سے وہاب ریاض اور شاہین شاہ آفریدی تک سبھی بولرز ان سے سیکھ کر ہی بڑے بولرز بنے ہیں لیکن وقار یونس کی خدمات کو ان کے الفاظ سے جوڑ کر ان کی محنت پر پانی پھیر دیا گیا۔ 

وقار یونس کو آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اب وہ کوچنگ سے باعزت طریقے سے استعفی دے دیں ورنہ معاہدہ یکطرفہ ختم کر دیا جائے گا۔ شاید اپنے دور کے خطرناک ترین بولر کے لیے اس موقع پر کوئی باؤنسر یا یارکر اپنی زنبیل میں نہیں بچا تھا جو ان کے کریئر کو جاری رکھ پاتا اس لیے وہ خاموشی سے سبکدوش ہوگئے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب مصباح الحق بھی اسی خاموشی سے گھر لوٹ گئے ہیں۔ وہ ایک سلجھے ہوئے کم گو اور دفاعی شخصیت کے مالک ہیں اور حق پر لڑنا تو کجا حق مانگنا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔

حالانکہ ان کو کپتانی کے اختتام پر بہت ارمانوں سے کوچ مقرر کیا گیا تھا جس میں ’ظل سبحانی‘ کی رضا کے ساتھ چند ایسے بڑوں کی مرضی بھی شامل تھی جو ’سٹیج کے پیچھے سے ڈوریاں ہلا‘ رہے ہیں۔

مصباح الحق پاکستان کرکٹ کے سب سے کامیاب کپتان اور غیر متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔ جب 2010 کے بحران کے بعد وہ کپتان بنے تو ان پر بہت سی ذمہ داریاں تھیں لیکن انہوں نے اپنے سینیئر یونس خان اور نوجوان اظہر علی اور اسد شفیق کے ساتھ مل کر ایک ایسی مڈل آرڈر بیٹنگ تشکیل دی کہ وہ ہر فتح کا عنوان بن گئی۔

مصباح کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے کئی نوجوان کھلاڑی اپنی کپتانی میں بڑے نام بنا دیے۔

کپتانی کے دوارنیے سے جب فارغ ہوئے تو ’اپنی مرضی کے بغیر‘ کوچنگ میں آگئے۔ اگرچہ وہ بننا نہیں چاہتے تھے لیکن قومی ٹیم کے ساتھ دس سال گزارنے کے بعد ان کی انسیت نے انہیں مجبور کیا کہ ٹیم کے ساتھ رہیں۔

مصباح کبھی بھی جوشیلے اور غیر روایتی اقدامات کرنے والے انسان نہیں ہیں اس لیے ان کی کوچنگ روایتی انداز میں رہی۔ ان کی خوش قسمتی رہی کہ انہیں کمزور حریف ملے جس سے ٹیم کے حصے میں جیت کی تعداد بڑھتی رہی لیکن نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے ان کے نقادوں کے لیے سنہرا موقع ثابت ہوئے جہاں شکستوں اور بری کارکردگی نے ان کے گرد جالا بن لیا۔

مصباح الحق جو اپنے پورے کریئر میں کبھی نہیں بولے شاید اب بھی نہ بولتے لیکن وہ سمجھ چکے تھے کہ اب پاکستان کرکٹ کی کوچنگ ان کے نصیب میں نہیں ہے اس لیے خاموشی کے ساتھ اپنا استعفی دے کر گھر چلے گئے۔

ایک تاریخ کا عظیم بولر اور ایک گرتی ہوئی عمارت کو دوبارہ تعمیر کرنے والا کھلاڑی اپنی بھرپور خدمات کے بعد پاکستان کرکٹ کے لیے اب کب ضرورت بنتا ہے یہ بتانا مشکل ہے لیکن یہ تبدیلی شاید اب مزید اکھاڑ پچھاڑ کی نوید دے رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ