جرمن انتخابات: انگیلا میرکل کی پارٹی کو معمولی فرق سے شکست

ابتدائی نتائج کے مطابق تمام 299 حلقوں میں گنتی سے معلوم ہوا کہ سوشل ڈیموکریٹس کو 25.9 فیصد ووٹ ملے، جو میرکل کے یونین بلاک کے 24.1 فیصد ووٹوں سے تھوڑے ہی زیادہ ہیں۔

جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹس پارٹی نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں ووٹوں کا ایک بڑا حصہ جیت کر دہائیوں سے ملک پر حکمران انگیلا میرکل کے یونین بلاک کو کانٹے کی ٹکر کے بعد کافی کم مارجن سے شکست دے دی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق وزیر خزانہ اور سوشل ڈیموکریٹس کے امیدوار اولاف شولز نے کہا کہ نتائج ’جرمنی کے لیے ایک اچھی اور عملی حکومت کو یقینی بنانے کے لیے ایک بہت واضح مینڈیٹ ہیں۔‘

وفاقی انتخابات میں اب تک کے بدترین نتائج حاصل کرنے کے باوجود، میرکل کے یونین بلاک نے کہا ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے چھوٹی پارٹیوں سے رابطے کرے گی۔ سبکدوش ہونے والی جرمن چانسلر انگیلا میرکل کا جانشین چنے جانے تک وہ نگران کردار میں رہیں گی۔

 انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والے عہدیداروں نے پیر کو کہا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق تمام 299 حلقوں میں گنتی سے معلوم ہوا کہ سوشل ڈیموکریٹس کو 25.9 فیصد ووٹ ملے، جو یونین بلاک کے 24.1 فیصد ووٹوں سے تھوڑے ہی زیادہ ہیں۔

اس سے پہلے جرمنی میں جیتنے والی کسی پارٹی نے قومی انتخابات میں 31 فیصد سے کم ووٹ حاصل نہیں کیے۔

میرکل کی پارٹی کے امیدوار ارمن لاشیٹ، جو صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے گورنر بھی ہیں، پارٹی کے ووٹروں کو جمع کرنے میں ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ نتائج اچھے نہیں ہیں مگر حامیوں کو یہ بھی کہا کہ ’ہم یونین کی قیادت میں حکومت قائم کرنے کے لیے جو ہو سکتا ہے، کریں گے، کیونکہ جرمنی کو مستقبل کے لیے ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو ہمارے ملک کو جدد کی طرف لے کر جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سوشل ڈیموکریٹکس کے شولز اور یونین کے لاشیٹ دونوں ہی حکومت بنانے کی کوشش میں دو پارٹیوں سے رابطے کریں گے۔

اسی طرح انتخابات میں گرینز نے 14.8 فیصد ووٹ حاصل کیے اور فری ڈیموکریٹس نے 11.5 فیصد ووٹ حاصل کیے۔

گزینز روایتی طور پر سوشل ڈیموکریٹس کی جانب مائل رہے ہیں اور فری ڈیموکریٹس یونین بلاک کی طرف، مگر ابھی دونوں نے بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

حکومت بنانے کا دوسرا آپشن ایک ’بڑا اتحاد‘ قائم کرنا ہے جسے سبکدوش ہونے والی حکومت پہلے سے چلا رہی ہے۔ اس اتحاد میں یونین اور سوشل ڈیموکریٹس شامل ہیں اور یہ میرکل کے اقتدار کے 16 میں سے 12 سالوں تک ملک میں قائم رہی ہے، تاہم اب اس کے حق میں بولنے والے کم ہی ہیں۔

جرمنی کے پیچیدہ الیکٹورل سسٹم کی وجہ سے ابھی پارلیمان کی نشستوں پر نتائج کی مکمل معلومات آنا باقی ہیں۔

میرکل کئی بحرانوں میں جرمنی کی رہنمائی کرنے کی وجہ سے مقبول لیڈر رہی ہیں۔ ان کے جانشین کے لیے راستے آسان نہیں ہوں گی اور انہیں کرونا وبا سے ملک کو نکالنے کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ