جرمنی کی چانسلر 16 برس اقتدار کے بعد رخصت ہونے کو تیار

جرمنی پر ڈیڑھ دہائی سے بھی زیادہ حکمرانی کرنے والی انگیلا مرکل کو جرمنی کی ’ابدی چانسلر‘ کہا جاتا تھا۔

جرمنی میں آج (اتوار کو) عام انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے جس میں مرکل کے جانشین کا انتخاب کیا جائے گا۔(تصویر: اے ایف پی)

انگیلا مرکل کو آزاد دنیا کی رہنما کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب یورپ اور امریکہ آمرانہ پاپولسٹ رہنماؤں کی گرفت میں تھے۔

لیکن اب انجیلا مرکل تاریخی 16 سال اقتدار میں گزارنے کے بعد بالآخر نہ صرف جرمنی بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک لازوال میراث چھوڑ رخصت ہو رہی ہیں۔

جرمنی میں آج (اتوار کو) عام انتخابات کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہے جس میں مرکل کے جانشین کا انتخاب کیا جائے گا۔

انتخابی دوڑ میں سوشل ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار اور اعتدال پسند وزیر خزانہ اولاف شولز اور مرکل کی قدامت پسند کرسچن ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدوار ارمین لاشیٹ کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے۔

انتخابی پولز کے مطابق شولز کو لاشیٹ کے مقابلے میں تقریبا  26 فیصد کی معمولی برتری حاصل ہے۔

جرمنی پر ڈیڑھ دہائی سے بھی زیادہ حکمرانی کرنے والی انگیلا مرکل کو جرمنی کی ’ابدی چانسلر‘ کہا جاتا تھا۔ 67 سالہ چانسلر جس قدر مقبولیت کے ساتھ رخصت ہو رہی ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اگر وہ ان انتخابات میں بھی حصہ لیتں تو وہ شاید پانچویں مرتبہ ملک کی چانسلر منتخب ہو کر نیا ریکارڈ بنا سکتی تھیں۔

اس کے بجائے مرکل پہلی جرمن چانسلر ہیں جو اقتدار اگلے چانسلر کو منتقل کر کے اپنی مرضی سے سبکدوش ہو جائیں گی۔ جرمن ووٹروں کی ایک پوری نسل نے کبھی کسی دوسرے شخص کو اس عہدے پر براجمان نہیں دیکھا۔

ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ مرکل نے ایک اعتدال پسند اور متحد رکھنے والی شخصیت کے طور پر بے شمار عالمی بحرانوں کے دوران مستحکم اور عملی قیادت کا مظاہرہ کیا۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والی دہائیوں کے لیے یورپ اور اس کی معیشت کو تیار کرنے کے لیے ان میں جرات مندانہ وژن کا فقدان تھا۔

یقینی بات یہ ہے کہ وہ ایک غیر یقینی سیاسی منظرنامہ پیچھے چھوڑ کر جا رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے بھی ہے کہ ان کی بھرپور شخصیت اور طویل اقتدار کے باعث ان کی پارٹی کے امیدوار ارمین لاشیٹ کو اپنا سیاسی قد کاٹھ نکالنے کے لیے شدید جدوجہد کرنا پڑی ہے۔

 ان کے سوشل ڈیموکریٹک مخالف اولاف شولز نے فعال طور پر اور شاید کامیابی کے ساتھ خود کو حقیقی تسلسل کے حوالے سے درست امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔

مرکل نے حالیہ برسوں میں مغرور اور آمرانہ سوچ کے حامل ڈونلڈ ٹرمپ سے لے کر ولادی میر پیوٹن تک عالمی سیاست کے بڑے اور  بے باک مرد رہنماؤں کی موجودگی میں توازن کے ساتھ خدمات انجام دی ہیں۔

اس ہفتے’پیو ریسرچ سینٹر‘ کے ایک سروے میں دنیا کی بیشتر جمہوریتوں میں بڑی اکثریت نے عالمی معاملات میں صحیح کام کرنے کے لیے مرکل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

تاہم ان کے دور حکومت کے آخری دنوں کے دوران افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی بھی ہوئی جیسے مرکل تلخ، ڈرامائی اور خوفناک پیش رفت قرار دیتی ہیں۔ اس صورت حال کے لیے جرمنی پر بھی الزام ہے جس نے جنگ زدہ ملک سے اپنی فوجیں نکال لی تھیں۔

انگیلا مرکل جو ایک تربیت یافتہ کوانٹم کیمسٹ تھیں، کو طویل عرصے سے استحکام کی ضامن کے طور پر تبدیلی کے مخالف ووٹرز کی حمایت حاصل رہی ہے۔

ان کی اہم پالیسیوں نے جرمن شہریوں کی ایک بڑی اکثریت کی خواہشات کی عکاسی کی ہے جن میں 2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد ایٹمی طاقت کو ترک کرنا اور خواتین اور شہری ووٹروں کے ایک وسیع نئے اتحاد کو قدامت پسند اتحاد ’سی ڈی یو‘ کی طرف راغب کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرونا بحران سے پہلے 2015 میں جرمن سرحدوں کو 10 لاکھ سے زیادہ پناہ گزینوں کے لیے کھولنا بھی ان کے ان کے دلیرانہ اقدام میں سے ایک ہے۔

قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے ’ماحولیات کی چانسلر‘ کے نام سے مشہور مرکل کو نوجوان کارکنوں کی ایک عوامی تحریک کا سامنا کرنا پڑتا جن کا کہنا ہے کہ وہ آب و ہوا کی ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے میں ناکام رہی ہیں اور جرمنی اپنے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کے وعدوں پر بھی پورا نہیں اترا۔

یورو زون کے بحران کے دوران مرکل پورے یورپ کی رہنما کہلانے لگیں جب برلن نے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ممالک کے بین الاقوامی بیل آؤٹ قرضوں کے بدلے اپنے اخراجات میں کٹوتی کی۔

ابھی حال ہی میں ایک سست ویکسین مہم سمیت کرونا وبا کے دوران غلطیوں کو تسلیم کرنے کے باوجود جرمنی میں اموات کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بہت سے یورپی شراکت داروں کی نسبت کم رہی ہے۔

2005 میں جرمنی کی سب سے کم عمر اور پہلی خاتون چانسلر منتخب ہونے والی مرکل اب یورپی یونین اور جی سیون کی سب سے سینئر رہنما ہیں جنہوں نے جارج ڈبلیو بش، ٹونی بلیئر اور جیک شیراک جیسے عالمی رہنماؤں کے ساتھ کام کیا ہے۔

وہ 17 جولائی 1954 کو ساحلی شہر ہیمبرگ میں ایک سکول ٹیچر کے گھر پیدا ہوئی تھیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی یورپ