پشتون، پختون، پٹھان اور افغان، ایک ہی قوم کے مختلف نام

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ’ہاں میں افغان ہوں‘ اور مقابلے میں ’میں پاکستانی ہوں‘ نامی ٹرینڈ چلتا رہا ۔ اس تحریر میں نامہ نگار انیلا خالد افغان، پٹھان، پشتون اور پختون کی اس تکرار کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔

پاکستانی پشتون خود کو افغان کہتے ہیں تو اس کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ وہ خود کو موجودہ افغانستان سے بھی قدیم افغان قوم ظاہر کر رہے ہوتےہیں۔ (فائل فوٹوز،اے ایف پی)

پاکستان کا شہری ہوتے ہوئے کوئی کیسے افغان ہو سکتا ہے؟ افغان، پٹھان، پشتون اور پختون کی یہ تکرار کیا ہے؟

پچھلے کچھ دنوں سے پاکستانی سوشل میڈیا پر ’ہاں میں افغان ہوں‘ ٹرینڈ چلتا رہا جو فرشتہ نامی ایک بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا۔

اس ٹرینڈ کے حق میں لکھنے والوں کو مخالفین کی طرف سے غدار، ضمیر فروش اور دیگر کئی اور سخت القابات سے نوازا جاتا رہا ہے جبکہ اسی کے مقابلے میں ایک اور ٹرینڈ ’میں پاکستانی ہوں‘ بھی دیکھا گیا۔ اگرچہ مخالفین کا غم و غصہ صرف افغان لفظ استعمال کرنے تک محدود نہیں ہے لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ جب بھی پاکستان میں رہنے والے پشتونوں نے خود کو افغان کے نام سے پکارا ہے، دیگر نے اس پر برا منایا ہے۔

پشتون، پختون، پٹھان اور افغان جیسے الفاظ پر لوگ کنفیوز نظر آتے ہیں اور اسی کو بنیاد بناتے ہوئے طرح طرح کے سوالات بھی جنم لیتے ہیں۔ اس موضوع کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مختلف تاریخی کتب کی روشنی میں ان پر غور کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہ جائے۔

خیبر پختونخوا کی معروف شخصیت محمد ایاز خان نے جو پشتونوں کی تاریخ اور شجرہ پر گہری نظر رکھتے ہیں پشتونوں کے افغان ہونے کے حوالے سے بتایا کہ پہلے تو اس بات کو سمجھ لینا چاہیے کہ ’ہر پشتون افغان ہے، لیکن ہر افغان پشتون نہیں‘ ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان ہونا پشتونوں کی قومیت کو ظاہر کرتا ہے۔ لہذا اس بات کو بنیاد بنا کر ’آپ کسی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ پاکستان چھوڑ کر اپنے وطن چلے جاؤ۔ کیونکہ پاکستانی ہونا اس کی شہریت ہے اور افغان ہونا قومیت۔‘

پشتون خود کو افغان کیوں کہتے ہیں؟

اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ہم پہلے لفظ پشتون کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔ مورخین کے مطابق ’پشتون‘  قبیلے کی شاخیں ہزاروں برس پرانی ہیں۔ پشتونوں کی ابتدا کے بارے میں دلائل اور مباحثوں میں مورخین تقسیم نظر آتے ہیں، ایک گروہ پشتونوں کو زمانہ قبل از اسلام کے عہد سے جوڑتا ہے اور دوسرا انھیں 622 عیسوی میں پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دور سے ملاتا ہے۔ اول الذکر عقیدے سے متفق پشتون اسی لیے اکثر خود کو ’پہلے پشتون اور بعد میں مسلمان کہتے ہیں۔‘ 

بہرحال ایک بات پر تمام مورخین متفق ہیں کہ پشتون یا پختون کا تصور ’افغان‘ سے بہت پرانا ہے۔

پشاور یونیورسٹی میں  پشتو اکیڈمی کے پہلے ڈائریکٹر مرحوم مولانا عبدالقادر نے اس کی وضاحت کچھ اس طرح کی تھی کہ ہزاروں برس پہلے تک جب پٹھان اور افغان کا تصور بھی نہ تھا اس وقت ایک قبیلہ تھا، جس کو ابتدائی دور میں ’پکھت‘ یا ’پکھتین‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور بعد میں ’پشتون‘ یا ’پختون‘ کی صورت اختیار کر گیا۔ 

بعض محقیقین کا دعویٰ ہے کہ لفظ پشتون کا ذکر رگ وید میں کیا گیا ہے جس میں اسے پکھت کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ خود رگ وید کا زمانہ 1400 سال قبل از مسیح ہے۔

بعد میں یونانی مورخ ہیرو ڈوٹس (486-466 ق-م) نے بھی اپنی تحریروں میں ایک قوم کا ذکر کیا جو ان کے الفاظ میں تیر انداز تھے، ان کا لہجہ سخت تھا، دراز قد اور طاقتور جسم کے مالک تھے۔ ہیروڈوٹس نے ان کو ’پکٹویس‘، ’پکٹو‘ اور ان کے وطن کو پکتیکا، پکتیکے کے ناموں سے یاد کیا ہے۔

یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ پشتون صرف ایک نسل نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ اخلاق کا نام  ہے، جس کو ’پشتونولی‘ کہا جاتا ہے۔ پانچ ارکان پر مشتمل یہ ضابطہ اخلاق ایک طرح سے پشتون معاشرے کا آئین کہلاتا ہے۔ لہذا جس پشتون کے عادات و خصائل میں پشتونولی نہ ہو، پشتون معاشرہ ایسے شخص کو پشتون ماننے سے انکار کرتا ہے۔ پریشان خٹک اپنی کتاب ’پشتون کون‘ میں لکھتے ہیں کہ موجودہ وقت میں پشتونولی پر پوری طرح عملدر آمد نہ ہونے سے پشتون معاشرہ زوال و تباہی کا شکار ہے۔

مندرجہ بالا بحث سے ایک بات تو طے ہے کہ لفظ پشتون کا تصور ’افغان‘ سے بہت پہلے سے موجود تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ پشتونوں نے خود کو افغان کہلانا کب اور کیوں شروع کیا؟

لفظ افغان کے بارے مؤرخین نے متضاد نظریات پیش کیے ہیں۔ چونکہ مؤرخین کا ایک گروہ پشتونوں کو یہودی اور دوسرا ان کو آریا نسل بتاتا ہے لہذا دونوں گروہوں نے اپنے دلائل سے پشتون اور افغان کی بحث بھی اسی تناظر میں کی ہے۔

پشتونوں کے بنی اسرائیلی ہونے کے نظریے کو ماننے والوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں جس شخص کو عزت دینا مقصود ہوتا تھا اس کے نام کے ساتھ ’اب‘ لگا دیا جاتا تھا۔ جس کو دوسری قوموں نے بگاڑ کر اوگان، ابکان اور افغان بنا دیا۔

دوسری جانب پشتونوں کے آریا ہونے کے نظریے کو ماننے والے مؤرخین کا کہنا ہے کہ پشتون قاف کی پہاڑیوں سے افغانستان اور پھر ایران اور یورپی ممالک میں پھیل گئے۔ لہذا ان کے مطابق پشتون موجودہ افغانستان کے وجود میں آنے سے پہلے اسی مقام پر آباد تھے اور افغان نام ان کو ایرانیوں اور دیگر قوموں سے ملا۔

محمد امین خوگیانی رسالہ ’افغان‘ میں لکھتے ہیں کہ پرانے وقتوں کے شجروں میں جو اکثر فارسی زبان میں ہوا کرتے تھے، کسی بھی پشتون کے نام کے بعد قوم افغان قومیت کے خانے میں لکھا جاتا تھا اور یہ سلسلہ انگریزوں کی حکومت تک جاری رہا۔ لہذا جب بھی کوئی تعلیم یافتہ شخص قومیت کا خانہ پُر کرتا تو وہ اپنے نام کے ساتھ افغان لکھ لیتا تھا بصورت دیگر اس کو پٹھان لکھنا پڑتا کیونکہ ہند میں اس کی پہچان انہی دو ناموں سے تھی۔ نام افغان پر اس کو کوئی خاص اعتراض نہیں تھا اور لفظ پٹھان اسے پسند نہ تھا۔

موجودہ افغانستان کی بنیاد پشتون بادشاہ احمد شاہ ابدالی (درانی) نے 1747 میں رکھی تھی۔ لہذا جس طرح پاکستان میں رہنے والی تمام قومیں خود کو پاکستانی کہلواتے ہیں اسی طرح افغانستان کے وجود میں آنے کے بعد اس میں رہنے والی تمام قوموں نے خود کو افغان کہلانا شروع کر دیا۔ حالانکہ تب اور اب بھی پشتون ہی خود کو اس نام کے اصل دعوے دار سمجھتے ہیں۔

لہذا جب بھی کوئی پاکستانی پشتون باشندہ خود کو افغان کہتا ہے تو اس کے پیچھے یہ وجہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو موجودہ افغانستان سے بھی پرانی افغان قوم ظاہر کر رہا ہوتا ہے جو دراصل پشتون تھا اور اسی موجودہ افغانستان سے ہر جگہ پھیل گیا، اور یہیں پر اس کے آباؤ اجداد نے فتوحات کے جھنڈے گاڑھے۔ لہذا بیشتر پشتون جو تاریخ جانتے ہیں افغانستان سے ایک قسم کی انسیت رکھتے ہیں۔

انگریزوں کے دور میں افغانستان کے باشندوں کے لیے دستاویزات میں لفظ افغان اور پٹھان کا استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں رہنے والے بہت سارے پشتون ایسے بھی ہیں جو خود کو صرف پشتون یا پختون کہلوانا پسند کرتے ہیں، افغان نہیں۔ اس کی وجہ تاریخی حوالوں سے اختلاف یا پھر علم کی کمی ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ جان بوجھ کر ہی خود کو پشتون کہلوانے کو ترجیح دیتے ہوں۔

افغان اور پٹھان کے موضوع پر مولانا عبدالقادر کہتے ہیں کہ ناموں کا یہ گورکھ دھندا صرف حکومتوں کی سیاسی حکمت عملی یا تاریخی مجبوریوں کے سبب بنایا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پٹھان لفظ میں نہ تو پشتون پوری طرح سما سکتا ہے اور نہ ہی افغان۔

پشتونوں کو پٹھان کیوں کہا جاتا ہے؟

تمام پشتون تاریخ دان اس بات پر متفق ہیں کہ پٹھان لفظ پشتونوں پر انگریز اور ہندوستانی قوموں نے رکھا۔ پرانے زمانے میں جب پشتون بسنے کی غرض سے ہندوستان جاتے تو کچھ مدت بعد اپنی زبان بھول جاتے اور مقامی زبانیں اپنا لیتے تھے۔ ان کی اولاد کا اپنے آبائی وطن سے تعلق صرف تاریخی حد تک باقی رہ جاتا۔ اس لیے ایک الگ طبقہ بن جاتے بلکہ ہندوستان کے رسم و رواج کے مطابق ایک جدا ذات یا برادری کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ وہ یہی پشتون تھے جو پٹھان کے نام سے مشہور ہوئے۔ بلکہ اب تو لفظ پٹھان کا غلط استعمال اتنا عام ہو گیا ہے کہ بعض اچھے مانے ہوئے پشتون بھی اپنے آپ کو پٹھان کہتے ہیں۔

ہندوستانی پٹھانوں کے بارے مولانا عبدالقادر فرماتے ہیں کہ اگر وہ خود کو پٹھان نہ کہلواتے تو پھر کیا کہلواتے؟ کیونکہ وہ پشتون رہے تھے نہ افغان اور نہ ہی انہوں نے خود کو روہی، کوہستانی یا ولایتی کہلوانا پسند کیا۔

انگریزوں کے دور میں فوج میں بھرتی ہونے والے ہر پشتون کو پٹھان ہی کے نام سے بھرتی کیا گیا اور اس نام سے الگ رجمنٹس بنائی گئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پشتون بھی خود کو پٹھان کہلوانے پر مجبور ہو گئے اور رفتہ رفتہ ان کی عادت بھی بن گئی۔

مندرجہ بالا حوالوں اور موجودہ حقائق کے تناظر میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ پشتون یا افغان قوم کو پٹھان کا لفظ غیروں نے دیا۔ جس کو پشتونوں نے مجبوری کے تحت قبول کیا اور پھر اس لفظ کے استعمال کے ساتھ اتنے عادی ہو گئے کہ اب نوجوان نسل کی اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ خود کو پٹھان کیوں کہتے ہیں۔ جو پشتون اس حقیقت سے آگاہ ہیں وہ کبھی بھی اپنے آپ کو پٹھان کہلوانا پسند نہیں کریں گے۔

پشتون اور پختون میں کیا فرق ہے؟

پشتو اور پختو دو مختلف لہجوں (سخت اور نرم) کے ہم معنی الفاظ ہیں۔ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چاہے کوئی اس کو پشتون، پشتو یا پھر پختون اور پختو  پڑھے یہ ایک ہی لفظ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ جنوبی پشتون مثلاً خٹک، وزیر، محسود، آفریدی، وغیرہ نرم زبان بولتے ہیں اور ’خ‘ کی جگہ ’ش‘ کی آواز نکالتے ہیں۔ جب کہ دوسرے شمالی پشتون مثلاً یوسفزی، خلیل، مہمند، وغیرہ سخت زبان بولتے ہیں اور ’ش‘ کی جگہ ’خ‘ کا استعمال کرتے ہیں۔ بلوچستان کے پشتون بھی ’خ‘ کی جگہ ’ش‘ استعمال کرتے ہیں۔

اکثر پشتون چاہے کسی بھی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، لکھتے وقت اکثر ’خ‘ پر ’ش‘ کو فوقیت دیتے ہیں، لیکن یہ عادتاً کیا جاتا ہے۔

پشتون، پختون، پٹھان اور افغان دراصل ایک ہی قوم کے مختلف نام ہیں، اب آئندہ اگر کوئی یہ کہے کہ ’میں افغان ہوں‘ تو اس کا مطلب بالکل یہ نہیں کہ وہ اپنے آپ کو افغاستان کا شہری ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ ایسا ہی ہوگا، جیسے کوئی کہتا ہے کہ میں راجپوت، جٹ، بٹ، اعوان  یا آرائیں ہوں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹرینڈنگ