نو ٹائم ٹو ڈائی ریویو: ڈینیل کریگ کی آخری فلم مایوس کن رہی

007 یورپی جنگ میں اتر رہے ہوں یا کیوبا کے کسی بنگلے میں ہونے والی ناؤنوش کی کوئی محفل ہو۔ فلم عجیب انداز میں بے جوڑ دکھائی دیتی ہے اور کبھی تقریباً شاعرانہ۔

نامور اداکار ڈینیئل کریگ اپنی فلم نو ٹائم ٹو ڈائی کے ورلڈ پریمیئر کے موقعے پر ریڈ کارپٹ پر تصاویر کھنچوا رہے ہیں۔ اس فلم کا پریمیئر 28 ستمبر 2021 کو لندن کے رائل البرٹ ہال میں منعقد ہوا تھا (تصویر: اے ایف پی)

امریکی فلم ساز کیری جوجی فوکونا گانے’نو ٹائم ٹو ڈائی‘کے نام کے ساتھ ایکشن سنیما کی زبردست فلم بنائی ہے۔ یہ شرم کی بات ہے کہ ایسا ایک بونڈ فلم کے معاملے میں ہوا ہے کہ تمام تر تاخیر، افواہوں اور کئی ماہ تک یہ کہے جانے کے بعد کہ ڈینیئل کریگ بونڈ کا کردار چھوڑنے جا رہے ہیں، فلم کے بارے میں سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ ہے کہ آخر میں تمام تر صورت حال غیر متاثر کن محسوس ہوئی ہے۔

اس سے کم ازکم کریگ کو موقع مل گیا ہے کہ وہ نہ صرف بونڈ فرنچائز کو بڑے وقار کے ساتھ چھوڑ دیں بلکہ ہم سب کو بھی یاد دلائیں کہ انہوں نے بونڈ کے کردار میں جان ڈالی۔

انہوں نے ’نوٹائم ٹو ڈائی‘ میں اتنا شاندار کردار ادا کیا ہے ان کے گرد موجود ہر چیز کی چمک ماند پڑ گئی۔ ان کے چہرے گہرے خدوخال میں صحیح وقت پرایسے انداز میں تبدیلی آتی ہے کہ ان کے دل میں دبے ہوئے جذبات کا سمندر موجود ہوتا ہے جو سطح پر آنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔

2006 میں بننے والی بونڈ فلم ’کیسینو رائل‘ میں مارے گئے پہلے زبردست مکے کے بعد سے کریگ کو بہترین ایکشن سٹار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

نو ٹائم ٹو ڈائی اس وقت بہترین فلم ثابت ہو گی جب فوکوناگا کو اجازت ہو گی وہ اسی توانائی کی برابری کریں۔

ہدایت کار کا تمام تر تجربہ ٹیلی ویژن کا ہے جس میں ان کا ’ٹرو ڈیٹیکٹو‘ اور ’مینیئک‘ پر کام شامل ہے۔

انہوں نے ایسی بونڈ فلم بنائی ہے جس کا ماحول سخت ہے اور وہ کسی ڈراونی فلم کی طرح دکھائی دیتی ہے۔

’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ میں ایسے مناظر موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فرینچائز کی اپنی ’دانتیز انفرنو‘ ہو سکتی ہے۔

خواہ 007 یورپی جنگ میں اتر میں رہے ہوں یا کیوبا کے کسی بنگلے میں ہونے والی ناؤنوش کی کوئی محفل ہو۔ فلم عجیب انداز میں بے جوڑ دکھائی دیتی ہے اور کبھی تقریباً شاعرانہ۔

لیکن فوکوناگا کا بونڈ کے بارے میں اپنا بنیادی نکتہ نظر عارضی ہے۔ یہ اچھی فلم ہے جسے بونڈ کی دنیا میں شور پیدا کرنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

مارول سنیمیٹک یونیورس (ایم سی یو) کی سپر ہیروز کی فلموں کی کامیابی کی وجہ سے شائد ہالی وڈ کے اتحصال کے جنون نے بونڈ فرنچائز کو ہمیشہ کے لیے آلودہ کر دیا ہے۔

فلم کی بنیادی منطق جس کا جزوی تعلق بونڈ کے باقاعدہ کردار نیل پروس اور رابرٹ ویڈ کے ساتھ ہے، جاسوسی کے اعتبار سے عامیانہ نوعیت کا بے تکا پن ہے۔

یعنی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والا حیاتیاتی ہتھیار پوری انسانیت کے مستقبل لیے خطرہ بنا ہوا ہے اور تمام راستے پراسرار ولن لوسیفرسیفن (ادکار رامی مالک جو اپنے مخصوص لہجے اور بگڑے چہرے کے میک اپ سے زیادہ کردار کو کچھ نہیں دیتے) کی طرف جاتے ہیں جو ذاتی انتقام لینے کے درپے ہے۔

لیکن چونکہ ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ اس بونڈ کہانی میں یہ آخری باب ہے، ’نوٹائم ٹو ڈائی‘ ایک بعد ایک کر کے دکھایا جانا والا کرداروں اور پلاٹ کے نکات کا سلائیڈ شو بن گیا ہے۔

’سپیکٹر‘ کے آخر میں وہ خوش کن اختتام جس کا میڈیلن سوان (لیا سیڈوکس) کی بانہوں میں ان سے وعدہ کیا گیا تھا بلاشہ زیادہ دیر نہیں چلا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کرسٹوفر والٹرز جو اب جیل میں موجود بلوفیلڈ ہیں، انہوں نے کردار کو ذمہ داری کے ساتھ ادا کیا ہے۔

سی آئی اے کے ایجنٹ فیلس لیٹر کا کردار کرنے والے جیفری رائٹ نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔

منی پینی (نیومی ہیرس)، کیو (بین ویشا) اور ایم (رالف فینس) تمام کردار ایک طرف کو ہیں۔ یہ وہ تار، کردار اور خیالات ہیں جنہیں زیادہ سوچے بغیر یکجا کر دیا گیا ہے۔ وہ اس جگہ ہیں کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ انہیں یہاں ہونا چاہیے تا کہ کریگ کو آخری مرتبہ داد دے سکیں۔

اداکارہ فیبی والر برج کے فلم کے سکرپٹ کی تشہیر میں بہت زیادہ کردار کے باوجود ’نو ٹائم ٹو ڈائی‘ مشکل سے خواتین کے حقوق سے متعلق دوبارہ لکھی گئی وہ سخت تحریر محسوس ہوتی جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا۔

والربرج کے معاملے میں (سیڈوکس کے کردار کو چھوڑ کو جو ہمیشہ اداس ہوتی ہیں) خواتین کے لیے بہت کم تفریح ہے۔

اینا ڈی ارماس کی نئی ایجنٹ پالوما کو مارلن منرو کی سوانح عمری پر مبنی فلم اور لشانا لنچ کے آڈیشن کی طرح محسوس ہوتا ہے۔

لاشانالنچ خود کو بونڈ کی 00 حریف محسوس کرتی ہیں۔ یہ ماحول ایسی کرشماتی طاقت ہے جس کی موجودگی میں کسی نئے بونڈ کی طرف دیکھنا بے کار محسوس ہوتا ہے جب بونڈ فرنچائز کا مستقبل یقینی طور پر پہلے ہی داؤ پر لگا ہوا ہے۔

لیکن ان کرداروں کی ایسی فلم میں حیثیت محض اضافی ہے جنہیں معلوم نہیں کیا کرنا ہے اور یہ کیا ہے لیکن فلم کو صرف یہ معلوم ہے کہ کریگ کا کردار مرکزی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی فلم