طوفان ’شاہین‘ کیا اب کراچی کے ساحل سے ٹکرائے گا؟

 سمندری طوفان اس وقت سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 280 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے جو کہ صبح 6 بجے کے قریب صرف 160 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا جب کہ کراچی کے کئی علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

کے پی ٹی ترجمان شارق امین فاروقی کے مطابق کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر ہنگامی صورتحال سےنمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ برتھ پر کھڑے جہازوں کے انجن چلا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے(اے ایف پی)

محکمہ موسمیات نے سمندری طوفان ’شاہین‘ کے حوالے سے پانچواں الرٹ جاری کردیا ہے جس کے مطابق شہر کراچی میں طوفانی بارشوں اور اربن فلڈنگ کے امکانات اس سے قبل جاری کیے جانے والے الرٹس کے مقابلے میں کم ہو گئے ہیں۔

 سمندری طوفان اس وقت سندھ کے دارالحکومت کراچی سے 280 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے جو کہ صبح 6 بجے کے قریب صرف 160 کلو میٹر کے فاصلے پر تھا جب کہ کراچی کے کئی علاقوں میں ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

موسم کی ہنگامی صورت حال کے باعث کمشنر کراچی نوید احمد شیخ نے آج کے شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ انتظامیہ نے کاروباری و تعلیمی مراکز بند رکھنے اور لوگوں کو اپنے گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب میں موجود ڈیپ ڈپریشن شدت اختیار کر کے سمندری طوفان میں تبدیل ہو گیا ہے۔

چیف میٹ آفسر سردار سرفراز انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’سمندری طوفان کے اثرات کراچی میں تیز ہواؤں اور معتدل بارش کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ کراچی کے علاوہ بلوچستان کے کچھ اضلاع میں اب بھی طوفانی بارشوں کا امکان ہے کیوں کہ بحریہ عرب کا ڈیپ ڈپریشن جنوب مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ سمندری طوفان اس وقت اپنے پہلے مرحلے میں ہے۔ یہ ایک خطرناک سمندری طوفان کی شکل بھی اختیار کرسکتا ہے۔ مگر اس طوفان کا زیادہ تر رخ عمان کی طرف ہی رہے گا۔ کراچی تاحال سمندری طوفان شاہین سے محفوظ ہے البتہ بلوچستان کی ساحلی پٹی کے لیے ابھی بھی خطرہ برقرار ہے۔‘

پاکستان مٹیرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کی جناب سے جاری کردہ پانچویں الرٹ کے مطابق طوفان شاہین کے باعث سمندر میں 65-85 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ سمندری صورت حال انتہائی طغیانی کا شکار ہےجب کہ طوفان کے باعث بلوچستان کے اضلاع گوادر، لسبیلہ، آوران، خضدار، کالات اور پنجگور میں تین اکتوبر کی رات تک تیز بارشوں کا امکان ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چیف میٹ آفسر سردار سرفراز کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’اب اس سمندری طوفان کو گلاب کے بجائے شاہین کا نام دیا گیا ہے جو کہ قطر کی جانب سے تجویز کیا گیا ہے۔ نام اس لیے تبدیل کیا گیا کیوں کہ طوفان گلاب خلیج بنگال میں شروع ہوا تھا۔ یہ طوفان انڈیا کے ساحلی شہر اڑیسہ اور گجرات کی درمیان کہیں ٹکرا کر ختم ہوگیا تھا۔ جب بھی کوئی طوفان کسی ساحلی پٹی سے ٹکراتا ہے اس کا نام وہیں کھو جاتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’بھارتی ریاست گجرات سے گزرنے کے بعد یہ طوفان ڈپریشن کی صورت حال میں داخل ہوگیا تھا۔ مگر کراچی کی ساحلی پٹی کے قریب آکر اسے سازگار حالات ملے تو اس نے ایک بار پھر طوفان کی صورت حال اختیار کر لی۔ اس لیے اسے طوفانوں کے ناموں کی لسٹ میں موجود اگلا نام شاہین دیا گیا۔‘

ڈپریشن، ڈیپ ڈپریشن اور سمندی طوفان کا فرق بتاتے ہوئے سرفرراز کا کہنا تھا کہ ’اس کا تعلق سمندری ہوا سے ہے۔ اگر سمندری ہوا 44 سے 54 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے تو ہم اسے ڈپریشن کہتے ہیں۔ اس کا اگلا سٹیج ڈیپ ڈپریشن کہلاتا ہے جب ہوا کا دباؤ 56 سے 66 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہو۔ طوفانی یا سائیکلون کی صورت حال تب اختیار ہوتی ہے جب ہوا کا دباؤ 68 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زیادہ ہو۔ جس طرح طوفان شاہین کی ہوائیں اس وقت 65 سے 85 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔‘

کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نے سمندری طغیانی کے باعث ماہی گیروں کو تین اکتوبر تک کھلے سمندر میں جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کراچی کی بندرگاہوں پر ریڈ الرٹ جاری کردیا ہے۔

کے پی ٹی ترجمان شارق امین فاروقی کے مطابق کراچی کی دونوں بندرگاہوں پر ہنگامی صورتحال سےنمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ برتھ پر کھڑے جہازوں کے انجن چلا کر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ ’زیادہ ہوا چلنے کی صورت میں جہازوں کو اضافی رسوں سے باندھا جائے گا جبکہ موسم خراب ہونے کی صورت میں جہازوں کو گہرے پانی میں بھیج دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ ٹگ بوٹس، چھوٹی بوٹس، فیول و کرین بارجز اور ڈریجرز کو محفوظ برتھوں پر منتقل کر دیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کے پی ٹی آئل ٹرمینل پر فیول اور گیس ٹینکوں کی حفاظت کے انتظامات مکمل ہیں۔ آسمانی بجلی گرنے کی صورت میں رسپانس ٹیمیں متحرک رہیں گی۔ بجلی بند ہونے کی صورت میں کے پی ٹی اور پورٹ قاسم پر سٹینڈ بائی جنریٹرز بھی موجود ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات