بنجر پہاڑی پر باغ: ’پودے میرے بچے ہیں جن سے باتیں بھی کرتا ہوں‘

لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے یوسف شاہ شنواری نے اپنی 120 کنال کی زمین پر ایک جنگل نما باغ بنا رکھا ہے، جس میں تقریباً 50 ہزار درخت لگے ہوئے ہیں۔

’پچیس سال ہوگئے ہیں اب یہ چھوٹے پودے تنا آور درخت بن گئے ہیں۔ جب بھی وقت ملتا ہے تو اپنے باغ میں جاتا ہوں۔ پودوں کو دیکھتا ہوں اور اگر کوئی درخت ناخوش ہے یا کسی مشکل میں ہے تو اس کو موٹیویٹ کرتا ہوں اور ان کے ساتھ باتیں بھی کرتا ہوں۔‘

لنڈی کوتل سے تعلق رکھنے والے یوسف شاہ شنواری نے اپنی 120 کنال کی زمین پر ایک جنگل نما باغ بنا رکھا ہے، جس میں تقریباً 50 ہزار درخت لگے ہوئے ہیں۔

یوسف شاہ نے باغ لگانے کا فیصلہ اس وقت کیا جب انہوں نے یہ زمین خریدی اور وہاں پر اپنے لیے گھر بنانے کا ارادہ کیا۔

یوسف شاہ نے، جن کا پشاور میں بھی گھر ہے اور زیادہ وقت وہ وہاں گزارتے ہیں، انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جب انہوں نے زمین کے ایک حصے پر گھر بنانے کے ارادہ کیا تو کئی کنال کی زمین بنجر پڑی تھی، لہذا انہوں نے سوچا کیوں نہ اسے ایک باغ میں تبدیل کردیا جائے۔

یوسف نے بتایا: ’یہ زمین ایک پہاڑی پر سطح سمندر سے تقریباً چار ہزار فٹ کی بلندی  پر واقع ہے۔ ہم نے 25 سال پہلے اپنی مدد آپ کے تحت پودے لگانے کا آغاز کیا تھا۔‘

یہ علاقہ لنڈی کوتل کا لوئے شلمان علاقہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چونکہ لنڈی کوتل میں پانی کا مسئلہ تھا تو ہم نے پودوں کو پانی دینے کے لیے بارش کے پانی کو جمع کرنا شروع کیا اور پائپ لائن کے ذریعے تین چار سٹیپس میں پہاڑی تک پانی پہنچا دیا اور یوں پانی کا مسئلہ حل ہوگیا۔

یوسف شاہ نے بتایا کہ وہ ایک بزنس مین ہیں لیکن اب ریٹائرڈ ہیں اور اپنے پوتے پوتیوں اور نواسوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔ ’پوتے پوتیوں کے ساتھ یہ پودے بھی میرے بچے ہے، اپنے لگائے ہوئے پودوں کو میں بچوں کو طرح پالتا ہوں، جس سے مجھے خوشی بھی ملتی ہے۔‘

لنڈی کوتل کے اس باغ میں عام درختوں سمیت پھلوں اور میوہ جات کے درخت بھی لگائےگئے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کے لیے یوسف شاہ نے ایک چوکیدار رکھا ہے، جو درخت کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے بھائی بھی گاؤں میں ہی رہتے ہیں تو وہ بھی باغ کا خیا ل رکھتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یوسف شاہ نے بتایا: ’پودوں کا شوق بہت پرانا ہے۔ بہت پہلے ایک دوست کے گھر جاتا تھا جنہوں نے گھر میں ایک باغ بنایا ہوا تھا تو اسی سے متاثر ہوا۔ جب بھی میں وہاں جاتا تھا تو انہیں بتاتا تھا کہ ایک دن میں بھی اسی طرح کا ایک باغ بناؤں گا اور آخرکار یہ کر دکھایا۔‘

لوگوں میں درختوں کی محبت کے حوالے سے یوسف شاہ نے بتایا کہ پودے لگانے کے لیے پیسوں کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ وقت دینے کی ضرورت ہے۔ ’ہر ایک شخص  کم از کم اپنے گھر کے آنگن میں ایک پودا تو لگا سکتا ہے، جو سائے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’میرے ذہن میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ سکول میں داخلے کے وقت سکول انتظامیہ کی جانب سے بچوں میں یہ آگاہی دی جانی چاہیے کہ وہ داخلے کے وقت دو پودے لگائیں اور اس طرح پانچویں جماعت میں دس اور اگلی کلاسز میں اس سے زیادہ پودے لگائیں۔‘

بقول یوسف: ’اس طرح ہم پاکستان میں اگر ایک کروڑ پودے بھی ہر سال لگائیں تو اسی میں ہماری اور پاکستان کی بقا ہے کیونکہ درجہ حرارت کو دیکھیں، جو ہر سال زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات