لنڈی کوتل:’نشانے بازی سے ہوائی فائرنگ کی حوصلہ شکنی ہوئی‘

ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل میں گذشتہ 11 سالوں سے نشانے بازی کے سالانہ مقابلے ہو رہے ہیں۔

پاک - افغان طورخم بارڈر سے متصل ضلع خیبر میں فٹ بال، کرکٹ، ہاکی اور والی بال کے علاوہ روایتی کھیل نشانے بازی میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

یہاں نشانے بازی کا کھیل دو عشروں سے زیادہ عرصے سے بند تھا لیکن تحصیل لنڈی کوتل میں گذشتہ 11 سالوں سے نشانے بازی کے سالانہ مقابلے منعقد ہو رہے ہیں۔

2021 میں نشانے بازی کے مقابلے مقامی عمائدین اور نوجوانوں کی تنظیم خیبر یوتھ فورم کے زیر اہتمام منعقد ہوئے۔

نشانے بازی کے ان مقابلوں کے منتظم انور آفریدی نے بتایا کہ ’ہماری کوشش ہے کہ اپنی اس روایت کو برقرار رکھیں۔ 

’دوسری بات یہ کہ ان مقابلوں کی وجہ سے لوگوں میں ہوائی فائرنگ، جو کسی حادثے کا باعث بن سکتی ہے، کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ان مقابلوں کے لیے دو ہفتے پہلے پورے ضلعے میں اعلان کیا جاتا ہے، جس کے بعد مقررہ تاریخ تک شوقین افراد اپنی ٹیمیں ایک ہزار روپے فیس دے کر رجسٹر کراتے ہیں۔

ایک ٹیم میں تین رکن ہوتے ہیں اور ہر ایک کو تین، تین فائر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ سو میٹر کے مخصوص رینج جو پہاڑ کے دامن میں تیار کی گئی ہے، میں کھلاڑی نشانے بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ پورے ضلعے سے 15 سے زائد ٹیموں نے حصہ لیا اور زیادہ تر لوگ اپنی کلاشنکوف کے ذریعے نشانہ لگاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آٹھ ایم ایم یا دوسری کسی بھی بندوق کے ذریعے اس کھیل میں حصہ لیا جا سکتا ہے۔ کھیل کے شرکا خود اپنے کارتوس ساتھ لاتے ہیں۔

’جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی کے علاوہ روایتی لونگی سر پر پہنایا جاتا ہے جو عزت کی علامت ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس مرتبہ امداد اللہ کی ٹیم تین راؤنڈز میں سو میٹر کی دوری پر نشانہ لگا کر فاتح قرار دی گئی۔

انور آفریدی نے بتایا کہ ضلع خیبر میں نشانے بازی کے ماہر کھلاڑی ہیں لیکن سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے انہیں کسی قسم کی ٹریننگ ملی نہ حکومتی سرپرستی میں کبھی نشانہ بازی کے مقابلے منعقد ہوئے۔

’یہاں کے بڑے اور جوان تو کیا بچے بھی نشانے بازی کے شوقین ہیں اور پہاڑوں پر تربیت کرکے ان مقابلوں کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت تیاری کرتے ہیں۔

’اگر انہیں تربیت دی جائے اور مقابلوں میں ان کو حصہ لینے دیا جائے تو یہ بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔‘

امداد اللہ بچپن سے نشانے بازی کے شوقین ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’جدید تربیت نہ ہونے کے باوجود لنڈی کوتل میں ماہر نشانے باز موجود ہیں لیکن حکومتی سطح پر اس کھیل کے لیے کوئی اقدامات نہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم امن پسند لوگ ہیں۔ نشانہ بازی باپ دادا سے وراثے میں ملی۔

امداد اللہ کے مطابق انہوں نے اس مقابلے کے پہلے سے ٹریننگ کی اور آج اس مقابلے کو جیت کر خوش ہیں۔

’اگر حکومت اس کھیل کی سرپرستی کرے تو قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔‘

ان مقابلوں کے منتظمین میں شامل حاجی شاکر آفریدی نے بتایا کہ ’پہلے وقتوں میں شادی بیاہ کے دوران دولہے کو تب تک دلہن لینے کی اجازت نہیں ہوتی تھی جب تک بارات والے وہاں پر نشانہ نہ لگاتے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاکر کے مطابق یہ ان کے آباو اجداد کا ایک روایتی کھیل ہے جسے لوگ کافی شوق سے کھیلتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کئی عشروں سے نشانے بازی کی روایات معدوم ہوگئی تھی لیکن ہم نے پھر سے  اسے زندہ کیا۔

شاکر آفریدی کہتے ہیں کہ ’ہماری بندوق صرف اس نشانے بازی کے کھیل کے دوران ہمارے پاس ہوتی ہے۔ علاقے کے لوگ امن پسند ہیں اور روایتی کھیل سے دلچسپی کے باعث وہ اس دن کے لیے انتظامات کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق پورے ضلعے سے لوگ اس کھیل کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔

’ہماری کوشش ہے کہ اس پرامن روایتی کھیل کو زندہ رکھیں کیونکہ یہ ایک صحت مندانہ سرگرمی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا