’ضلع خیبر اب چوری شدہ گاڑیوں کے لیے محفوظ نہیں رہا‘

ضلع خیبر کے اینٹی کار لیفٹنگ سیل نے ملک کے مختلف حصوں سے چوری کر کے علاقے میں زیر استعمال 57 گاڑیاں ان کے حقیقی مالکان کو واپس دلوا دیں۔

قبائلی اضلاع میں زیر استعمال چوری شدہ گاڑیوں کا سراغ لگانے اور انہیں ریکور کرنے کے مقصد سے قائم ضلع خیبر کا پہلا اینٹی کار لفٹنگ سیل اب تک 57 گاڑیاں ان کے حقیقی مالکان کو واپس کر چکا ہے۔

یہ سیل فروری 2021 میں تحصیل باڑہ میں قائم ہوا تھا۔ اس سیل کی مدد سے چوری کے بعد یہاں لائی جانے والی 57 گاڑیاں ریکور ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض گاڑیاں ایسی ہیں جو 10 سال پہلے چوری ہوئی تھیں۔

ان چوری شدہ گاڑیوں میں الٹو، جی ایل آئی، سوزوکی پک اپ اور کیری وین سمیت مختلف گاڑیاں شامل تھیں۔

ضلع خیبر میں چوری شدہ گاڑیوں کے استعمال کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈی پی او خیبر وسیم ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ یہ عضر نہیں دیں گے کہ اُس وقت کے لوگ ٹھیک نہیں تھے بلکہ سسٹم اس طرح کا تھا کہ اس میں ایسی گاڑیوں کے استعمال کی قبولیت تھی۔ دوسرا یہ کہ یہاں کے لوگ بہت غریب ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہاں پر پہلے ٹیکسز کی چھوٹ کے علاوہ بہت سارے معاملات میں قوانین موجود نہیں تھے لیکن قبائلی اضلاع میں پولیس کا نظام آنے کے بعد ہم نے کارروائیاں کرتے ہوئے چوری شدہ گاڑیاں ریکور کیں۔

’پہلے فاٹا میں رائج قوانین شاید اتنے سخت نہیں تھے، کہیں نہ کہیں ان کے لاگو ہونے سے متعلق بھی مسائل تھے کیونکہ یہاں پر دہشت گردی رہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اُس وقت قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی کارروائیوں میں مسائل تھے لیکن علاقے میں امن قائم ہونے کے بعد اب یہاں ہر جگہ پولیس موجود ہے جس کی وجہ سے بھی گاڑیاں برآمد ہوئی ہیں۔

ڈی پی او خیبر وسیم ریاض نے بتایا کہ اینٹی کارلفٹنگ سیل کی ٹیم 12 پولیس اہلکاروں پر مشتمل ہے جن کے پاس کمپیوٹر ٹیبلٹ میں پورے ملک سے چوری شدہ گاڑیوں کا ڈیٹا بیس ہوتا ہے۔

یہ ڈیٹا بیس چوری شدہ ہر گاڑی کی ایف آئی آر درج ہونے کے ساتھ ہی اپ ڈیٹ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیم مختلف مقامات پر سنیپ چیکنگ کے دوران گاڑیوں کے انجن اور چیسس نمبر چیک کرتی ہے اور اگر اس کا ڈیٹا کمپیوٹر میں موجود ڈیٹا سے میچ کر جائے تو وہ متعلقہ پولیس سٹیشن اور گاڑی کے اصل مالک کو آگاہ کر دیتے ہیں۔

’الحمد اللہ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کا انتہائی مثبت فیڈ بیک آیا جن کی گاڑیاں دس، دس یا پانچ سال پہلے چوری ہوئی تھیں۔

’وہ تقریبا ًبھول چکے تھے لیکن جب ان کو اپنی گاڑی واپس ملی تو ان کی خوشی کی کوئی حد نہیں تھی۔‘

ضلع خیبر میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے انچارج انسپکٹر عابد آفریدی نے بتایا کہ یہ قبائلی اضلاع میں پہلا سیٹ اپ ہے جو خیبر پختونخوا پولیس نے قائم کیا۔

’ہم نے پانچ مہینوں میں 57 گاڑیاں ریکور کر کے اصل مالکان کے حوالے کیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے بتایا کہ اپریل 2021 میں سی سی پی او عباس احسن نے 27 ریکور شدہ گاڑیوں کی چابیاں ان کے حقیقی مالکان کے حوالے کیں پھر جون میں سابق آئی جی ثناء اللہ عباسی آئے اور انہوں نے مزید 30 گاڑیاں مالکان کے حوالے کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے زیادہ تر گاڑیاں صوبہ پنجاب کی تھیں اور پشاور کی بھی۔

’پہلے خیبر کا تاثر تھا کہ یہاں پر چوری کی گاڑیاں مل جاتی ہیں تو انشااللہ ہم اس تاثر کو ختم کر رہے ہیں۔ اب خیبر چوری شدہ گاڑیوں کے لیے محفوظ جگہ نہیں۔‘

تقریباً ایک سال پہلے پشاور میں ایک گھر کے سامنے چوری ہونے والے گاڑی کے مالک حامد شہزاد نے بتایا کہ وہ خوش ہیں کہ ان کی گاڑی واپس مل گئی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے رستم کے مطابق ان کی خوشی کی انتہا نہیں تھی جب انہیں کال کے ذریعے بتایا گیا کہ ان کی نو سال قبل چوری شدہ گاڑی ریکور ہوئی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا