مالاکنڈ ڈویژن کی چوری شدہ اور سپیئر پارٹس سے بنی ’کٹ گاڑیاں‘

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں چوری شدہ گاڑیوں کو سپیئر پارٹس سے دوبارہ اسمبل کرنے اور چیسس میں ردوبدل کرکے گاڑیاں بیچنے کا کاروبار عام ہے اور حکومت اس پر اب تک قانون سازی نہیں کر پائی ہے۔

شعبہ بازار پشاور کے مشہور سپیئر پارٹس کی مارکیٹ میں ایک دکاندار گاہک کے انتظار میں کھڑے ہیں۔(تصویر: طارق اللہ)

تین سال قبل ضلع دیر پائین کے شہر تیمرگرہ کے رہائشی محمد سلیم نے گاڑیوں کے ایک بارگین سے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی خریدی تاہم پانچ ماہ تک چلانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کی گاڑی چوری کی تھی۔

اس چوری شدہ گاڑی سے اصل نمبر پلیٹ ہٹا کر اور چیسس (درست تلفظ چیسی) میں ردوبدل کر کے اس کو نان کسٹم پیڈ گاڑی کی شکل میں ملاکنڈ ڈویژن لایا گیا تھا اور وہاں فروخت کیا گیا تھا۔

محمد سلیم، جن کا تعلق ایک نجی کاروبار سے ہے، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہوں یہ گاڑی چار لاکھ روپے میں خریدی تھی اور انہیں بالکل علم نہیں تھا کہ گاڑی چوری کی ہے۔ انہیں پتہ تب چلا جب پولیس نے ایک مرتبہ انہیں روک کر گاڑی کو موبائل کے ذریعے چیسس چیک کیا تو وہ اسلام آباد کے کسی شخص کے نام پر رجسٹرڈ نکلی اور وہاں سے چوری کی گئی تھی۔

محمد سلیم نے کہا کہ ’میں بہت پریشان ہوگیا کیونکہ ایک طرف چار لاکھ روپے ڈوبنے کا خطرہ تھا اور دوسرے جانب ایک معزز گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے مجھ پر چوری کا الزام آگیا۔‘

تاہم پولیس نے گاڑی کو قبضے میں لے لیا اور سلیم کو کہا کہ اس شخص سے رابطہ کریں جس سے انہوں نے گاڑی خریدی تھی۔ جب سلیم اسی بارگین کے شخص کے پاس گئے تو وہاں سے پتہ چلا کہ یہ گاڑی بارگین والوں نے ضلع بونیر میں کسی شخص سے خریدی تھی۔

بارگین والوں نے بونیر کے شخص سے رابطہ کر کے انہیں بلایا تاکہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکے اور ادھر پولیس والوں نے گاڑی کے اصلی مالک، جو اس وقت لاہور میں موجود تھے، سے رابطہ کر کے انہیں تیمرگرہ بلایا کہ آپ کی چوری شدہ گاڑی مل گئی ہے۔

سلیم، بارگین والا اور بونیر کے شخص نے اس گاڑی کی قیمت کو تقسیم کر کے جو نقصان ہوتا تھا اس کو قبول کیا اور یوں اس مسئلے کو حل کیا گیا۔ تاہم یہ پتہ نہ چل سکا کہ گاڑی کس نے چوری کی تھی کیونکہ یہ گاڑی سکریپ یا مختلف پرزہ جات کی شکل میں آکر ملاکنڈ ڈویژن میں اسمبل کی گئی تھی۔

ایسے ہی واقعات کی روک تھام کے لیے مختلف لوگوں نے پشاور ہائی کورٹ سے پٹیشن کی شکل میں استدا کی تھی کہ پولیس نے ان کی وہ گاڑیاں برآمد کی ہیں جو چوری کی گئیں تھیں اور جن کا چیسس نمبر ٹیمپر کیا گیا اور اب یہ گاڑیاں ان کے حوالے کی جائیں۔

دو ہفتے پہلے پشاور ہائی کورٹ کے سوات بینچ اس پٹیشن پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ایسی گاڑیاں انسانی جانوں سمیت سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں اس لیے ان کو سڑک پر آنے پر ضبط کیا جائے کیونکہ ان گاڑیوں کا سڑک پر چلنا قانوناً جرم ہے۔

چوری شدہ اور پھر سپیئر پارٹس سے دوسری جگہ اسمبل کی گئی گاڑیوں کو ملاکنڈ ڈویژن میں ’کٹ گاڑی‘ کہا جاتا ہے۔

یہ کیسے بنائی جاتی ہیں؟

ملاکنڈ ڈویژن سمیت کچھ قبائلی اضلاع  میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو سڑک پر چلنے کی اجازت کافی عرصے ہے۔ ان گاڑیوں پر کوئی کسٹم ادا نہیں کیا جاتا بلکہ باہر سے انہیں غیر قانونی طریقے سے سمگل کر کے ملاکنڈ ڈویژن لایا جاتا ہے۔ یہاں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں لاکھوں لوگوں کے پاس ہیں اور سڑکوں پر عام دکھائی دیتی ہیں۔  

ان گاڑیوں کو ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں چلنے کی اجازت ہے تاہم یہ گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن سے باہر نہیں جاسکتی۔ یہ گاڑیاں کسی بھی ایکسائز ڈیپارمنٹ سے رجسٹرڈ نہیں ہوتی بلکہ2017  میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے یہ مکینزم بنایا گیا تھا کہ ان کو پولیس رجسٹر کرے گی۔

اس وقت کے صوبائی پولیس سربراہ ناصر خان درانی نے صوبائی حکومت کو ایک خط بھی لکھا تھا کہ نام کسٹم پیڈ گاڑیاں دہشت گردی کے واقعات میں استعمال کی جاتی ہیں اس لیے ان کی رجسٹریشن کے لیے کوئی مکینزم بنایا جائے۔ نان کسٹم  پیڈ گاڑیوں کی تعداد کے بارے میں خاطر خواہ ڈیٹا موجود نہیں ہے تاہم سوات پولیس کے مطابق ملاکنڈ ڈویژن میں دو  لکھ سے زائد نان کسٹم پیڈ گاڑیاں موجود ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں بعد میں ’کٹ گاڑیوں‘ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو قیمت میں عام نان کسٹم پیڈ گاڑی سے سستی ملتی ہیں۔

میر آحمد تیمرگرہ بازار میں گاڑیوں کے مستری ہیں اور ’کٹ گاڑیوں‘ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان گاڑیوں کو ’کٹ گاڑیاں‘ اس لیے کہا جاتا کیونکہ یہ مختلف پرزوں میں آکر ملاکنڈ ڈویژن کے  ضلع دیر اور سوات میں ویلڈنگ کے ذریعے بنائی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے پرزے پہلے باہر سے سمگل ہو کر راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں کو سمگل کیے جاتے ہیں اور وہاں سے کنٹینر میں گاڑی کی انجن سمیت ان کے تین چار بڑے پرزے ڈال کر ملاکنڈ لائے جاتے ہیں اور یہاں پر گاڑیوں کے ڈینٹر ان کو ویلڈ کر اس سے پوری گاڑی بناتے ہے۔

تاہم سمیر کے مطابق ان گاڑیوں میں بھی دو قسمیں ہوتی ہیں، ایک جن کے پرزے تو لائے جاتے ہیں لیکن ان کا چیسس ٹھیک ہوتا ہے اور اس میں کوئی ٹیمپرنگ نہیں کی جاتی اور دوسری وہ جنہیں ’پیڈے وتے‘ (یعنی پیڈ نکلا ہوا) کہا جاتا ہے، جن کے چیسس میں بھی جوڑنے کے وقت ٹمپرنگ کی جاتی ہے۔  ان میں زیادہ تر گاڑیاں چوری شدہ ہوتی ہیں۔

سمیر کے مطابق: ’ان کے سب سے زیادہ ڈیلرز سوات اور چکدرہ میں ہیں جہاں پر کنٹینر خالی کیے جاتے ہیں۔ زیادہ تر اس میں چھوٹی گاڑیاں اور سوزوکی پک اپ گاڑیاں شامل ہیں۔‘

’کٹ گاڑیوں‘کی قیمتوں کے بارے میں سمیر نے بتایا کہ 2001 اور 2002 کا ٹویوٹا ویٹز ماڈل جو کسٹم پیڈ آج کل تقریباً دس سے 12 لاکھ تک ملتا ہے ، وہی گاڑی یہاں تین سے چار لاکھ میں مل جاتی ہے۔ اسی طرح اس میں جاپانی فیلڈرز گاڑیاں بھی زیادہ تعداد میں بنائی جاتی ہیں جو تقریباً چھ لاکھ روپے تک مل جاتی ہے۔

اس قسم کی گاڑیوں کے حوالے سے عدالت کے فیصلے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان گاڑیوں سے قانون نافذ کرنے والوں کو بھی مسائل درپیش ہیں کیونکہ اس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا جبکہ دوسرے طرف یہ پاکستان میں ٹرانسپورٹ قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے کہ اس قسم کے ویلڈ شدہ گاڑیاں روڈ پر چلیں۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایسی گاڑیاں جن کے پرزے ویلڈ کیے گئے ہوں اور چیسس میں ٹمرپنگ کی گئی ہو، پولیس انہیں ضبط کرے اور سرکاری وئیر ہاؤس میں رکھے اور کسی بھی سرکاری یا دوسرے افراد کو ان کو استعمال نہ کرنے دیا جائے۔

عدالتی فیصلے کے بعد کیا حکمت عملی اپنائی گئی؟

ضلع سوات کے ڈپٹی کمشنر ثاقب اسلم رضا نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ عدالتی فیصلے کے بعد تمام ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے پولیس کو مراسلہ جاری کیا گیا ہے کہ ایسی گاڑیوں کو سڑک پر نہ چھوڑا جائے اور ضبط کیا جائے۔

اسلم نے بتایا: ’عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ان گاڑیوں سے امن عامہ کو خطرہ ہے اس لیے ان کو ضبط کیا جائے اور ہم اسی فیصلے پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔‘

ریجنل پولیس آفس کی جانب سے آٹھ دسمبر کو کمشنر ملاکنڈ  کو ایک خط لکھا گیا ہے جس کی کاپی انڈپنڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے۔ اس خط میں بتایا گیا ہے کہ نان کسٹم پیڈ ’کٹ گاڑیوں‘ کی شکل میں چوری شدہ گاڑیوں کے پرزے استعمال کیے جاتے ہیں اور بعد میں اس کو نان کسٹم پیڈ گاڑی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

خط کے مطابق ’کٹ گاڑیوں‘ کی وجہ سے روڈ ایکسیڈنٹ میں انسانی جانوں کو بھی خطرہ ہے  کیونکہ اسی سال کے 11 مہینوں میں ایسی گاڑیوں کے 357  حادثات رپورٹ ہوئے ہیں جس میں 87 واقعات میں لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کو سکریپ شدہ پرزوں سے بنایا جاتا ہے جو پاکستان پینل کوڈ کی دفع 287 کی خلاف ورزی بھی ہے کیونکہ اس قانون کے تحت کسی بھی ایسی مشینری  کے استعمال پر پابندی ہے جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو جائے۔

کمشنر ملاکنڈ کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن  کے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہے کہ ’کٹ گاڑیوں‘ کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے اور ان کو سڑک پر نہ آنے دیا جائے۔

 ڈپٹی کمشنر دیر کے ایک اہلکار نے انڈپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان گاڑیوں کے خلاف آپریشن کا بتایا گیا ہے تاہم ان کے مالکان کو ریلیف دینے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان گاڑیوں کو سکریپ نہیں بلکہ ڈیسمنٹل یعنی ان کے پرزے علیحدہ کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یہی پرزے  مالکان کو واپس کیے جائے گے تاکہ وہ ان کو کباڑ میں بطور سپیئر پارٹس بیچ کر اس سے کچھ نہ کچھ رقم واپس حاصل کر سکے ۔

ایکسائز ڈیپارمنٹ کیا کہتا ہے ؟

اس قسم کے گاڑیوں کے رجسٹریشن اور ریکارڈ کے حوالے سے مسائل پہلے سے موجود ہیں تاہم ابھی تک صوبائی حکومت کی جانب سے اس کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی ہے۔ ایکسائز ڈیپارمنٹ کے ترجمان عطا اللہ نے بتایا کہ  نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور اضلاع  میں اس حوالے سے بہتر  انتظام کے لیے ایکسائز کے ضلعی دفاتر کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی رجسٹریشن کی اتھارٹی اگر ایکسائز کو دی جائے تو اس سے ایک فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ ’کٹ گاڑیوں‘ کا سلسہ روکا جائے گا جس میں زیادہ تر چوری کی گاڑیاں ہوتی ہیں۔ ان کو رجسٹرڈ نہیں کیا جائے گا اور صرف نام کسٹم پیڈ گاڑیاں جن کا چیسس ٹمپر نہیں کیا گیا انہیں رجسرڈ کیا جائے گا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان