کوئٹہ: قدیم تلواروں اور بندوقوں جیسی چیزوں کے شوقین

کوئٹہ کے رہائشی جاوید کو پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے جن میں قدیم زمانے میں استعمال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔  

کوئٹہ کے رہائشی جاوید کو پرانی چیزیں جمع کرنے کا شوق ہے جن میں قدیم زمانے میں استعمال ہونے والی اشیا شامل ہیں۔  

وہ بتاتے ہیں کہ یہ ان کے والد کا شوق ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ڈھائی سو سے تین سو سال پرانی چیزیں بھی سنبھال کر رکھی ہیں۔ 

جاوید بھی اس شوق کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے انہوں نے قدیم چیزوں کو کہیں بند کرنے کے بجائے ایک کمرے میں سجا دیا ہے۔ یہ کمرے کسی میوزیم کا نظارہ پیش کرتا ہے۔

 اس کمرے میں بلوچستان میں زمانہ قدیم میں استعمال ہونے والی اشیا ترتیب سے رکھی ہیں۔ جو اپنی پائیداری، وزن اور بناوٹ سے بتا دیتی ہیں کہ وہ کن لوگوں کے ہاتھوں سے بنی ہیں۔

جاوید بتاتے ہیں کہ یہاں پرموجود 90 فیصد چیزیں ان کے خاندان کی ملکیت ہیں جنہیں ایک عرصے سے اسی حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ 

ان میں زمانہ قدیم میں لڑائی کے لیے استعمال ہونے والی تلواریں، نیزے، کلہاڑیاں، سر پر پہننے والی لوہے کی ٹوپی، ہتھکڑیاں اور ڈھال رکھی ہیں۔ 

وہیں پر ایک ڈھائی سو سال پرانی تلوار بھی موجود ہے جس کے بارے میں جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے دادا نے اس کو ایک تاریخی جنگ جو ایران کے شہر مشہد میں لڑی گئی تھی میں استعمال کیا تھا۔ ’یہ اب بھی اپنی اصل حالت میں محفوظ ہے۔‘

’ہم کچھی کے رہائشی ہیں۔ میرے دادا ایک قبائلی شخصیت تھے۔ بنگلزئی قبیلےسے تعلق رکھتے تھے۔ اس وقت خان قلات کی حکومت تھی جو لڑائی کے لیے قبائل سے ان کی تعداد کے مطابق بندے لیتا تھا۔ میرے دادا بھی ایسی ہی ایک لڑائی کے دوران ایران کے شہر مشہد گئے تھے جہاں انہوں نے اس تلوار سے لڑائی کی تھی۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس پرانے زمانے میں خواتین کے زیر استعمال چیزیں بھی ہیں جن میں سب سے اہم گلے میں ڈالنے والا طوق بھی ہے جو اس وقت کے فیشن کا حصہ رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جاوید کے مطابق زمانہ قدیم میں ہمارے لوگ گھروں میں ایک قسم کی چکی استعمال کرتے تھے۔  یہ چکی دو پتھروں کی بنی ہوتی ہے جس کا ایک سائیڈ والا حصہ لیول کیا جاتا تھا۔ اس کے درمیان میں ایک لکڑی لگاتے تھے اور گولائی میں ایک دوسری لکڑی لگاتے تھے جس کے ذریعے اس کو گھمایا جاتا ہے۔ 

جاوید کہتے ہیں کہ اس وقت ہمارے گھروں میں خواتین دن کو ضرورت کے حساب سے گندم کی پسائی کرتی تھیں تاکہ آٹا مل سکے اور وہ روٹیاں پکا سکیں۔ یہ چیزاب نایاب ہوتی جا رہی ہیں۔ 

’ایک تو یہ ہماری خاندانی چیزیں ہیں جن کو محفوظ کرنا اپنے لیے فرض سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف اب مجھے اس میں اپنی ثقافت کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ اس لیے بھی میں نے انہیں سنبھال کر رکھا ہے کیوں کہ کسی بھی قوم کی پہچان اس کی ثقافت ہوتی ہے۔‘ 

جاوید کہتے ہیں کہ انہیں لوگ تحفے کے طور پر بھی چیزیں دیتے ہیں جس طرح سندھی موسیقی کا آلہ ایک تارا بھی ہے۔ جسے سندھی زبان کے مشہور گلوکار جلال چانڈیو نے انہیں دیا تھا۔ وہ بھی اس میوزیم کا حصہ ہے۔ 

’اس کے علاوہ زمانہ قدیم میں گھریلو استمعال کی چیزیں جن میں چراغ، ٹرے، چائے دانی اور دیگر اشیا بھی شامل ہیں۔ وہ سب محفوظ حالت میں یہاں پر رکھی ہوئی ہیں۔‘ 

جاوید نے بتایا کہ ان چیزوں کو وہ سندھی، بلوچ اور پشتون کلچر ڈے کے پروگراموں میں بھی نمائش کے لیے لے جاتے ہیں جہاں لوگ ان کو دیکھ حیران ہوتے ہیں اور خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ