پولیس عائشہ اور ریمبو کے ’آڈیو کلپس‘ کی فرانزک جانچ کرائے گی

ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور منصور امان نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس کو آڈیوز ملی ہیں اور پولیس اس کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

گریٹر اقبال پارک میں 14اگست کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیےجانے، کپڑے پھاڑنے اور زدوکوب کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا (تصویر: انڈپینڈنٹ اردو)

لاہور میں گریٹر اقبال پارک کیس کی متاثرہ خاتون عائشہ اکرم اور ان کے ساتھی ریمبو کے درمیان مبینہ گفتگو کی آڈیو لیک ہوئی ہے جس کی تصدیق کے لیے لاہور پولیس فرانزک جانچ کرائے گی۔

پولیس ذرائع کے مطابق یہ آڈیو ریمبو نے پولیس کو فراہم کی ہیں اور ان کو پولیس ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور منصور امان نے پیر کو انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس کو آڈیوز ملی ہیں اور پولیس اس کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ آڈیو ٹیپس صحیح ہیں یا نہیں یہ جاننے کے لیے ان کی وائس فارنزک جانچ کروا رہے ہیں۔‘

ریمبو اس وقت چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں ہیں۔ 

لیک ہونے والی ایک آڈیو میں پولیس کی جانب سے شناخت کیے گئے چھ ملزمان سے مبینہ طور پر پانچ، پانچ لاکھ روپے لینے کی بات کی جا رہی ہے۔

آڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ بظاہر ’ریمبو عائشہ سے پوچھ رہے ہیں کہ شناخت کیے گئے ملزمان چھ ہیں کہ سات جس پر عائشہ جواب میں کہتی ہیں پانچ ہیں۔‘

اس پر ریمبو ان سے پوچھتے ہیں کہ ’فی ملزم سے سمجھوتہ کرنے کے اندازاً کتنے پیسے لیے جائیں؟‘

اس کے بعد ریمبو ان سے کہتے ہیں کہ وہ یہ تو جانتی ہیں کہ وہ سب زیادہ تر غریب ہی ہیں جس پر عائشہ انہیں کہتی ہیں کہ یہ مشکل سے یہ پانچ پانچ لاکھ کر پائیں گے۔

اس مبینہ گفتگو کی آڈیو کے علاوہ بھی دو آڈیو کالز سامنے آئیں ہیں جن میں بظاہر ریمبو عائشہ کو فون پر دھمکا رہے ہیں۔

ریمبو اور عائشہ کے مبینہ مکالمے میں سنا جا سکتا ہے کہ وہ انہیں کسی ویڈیو کے بارے میں بتا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایک ویڈیو تمہیں مل گئی ہے دوسری آئی فون میں ہے وہ بھی میں تمہیں نکال کر بھیجتا ہوں۔

لیک ہونے والی آڈیو میں ریمبو مبینہ طور پر عائشہ سے کہتے ہیں کہ تم جہاں جہاں جاتی رہی ہو اس کی ایک ایک تصویر ایک ایک ویڈیو ان کے پاس ہے جس کے جواب میں عائشہ انہیں کہتی ہیں کہ ٹھیک انہیں یہ مواد جہاں بھیجنا ہے وہ بھیج دیں۔

اس کے بعد بظاہر ریمبو کی آواز میں ان سے کہا جاتا ہے کہ ’تم داتا صاحب رش میں پھنسی ہو میرے پاس اس کی ویڈیو ہے جہاں تم رکی ہو وہاں کی میرے پاس ویڈیو آئی ہے۔‘

اس کے بعد بظاہر ریمبو ان سے کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا۔ جس پر بظاہر عائشہ انہیں کہتی ہیں کہ یہ میرا کام ہے میں کام نہ کروں؟

آڈیو میں بظاہر عائشہ کی آواز میں مزید کہا جاتا ہے کہ جب میرے والدین میرے ساتھ ہیں تو تم میرے خاوند نہیں ہو کہ مجھے اس طرح سے دھمکیاں لگا رہے ہو۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جس کے بعد مبینہ طور پر ریمبو انہیں ان کی دوسری ویڈیوز بھی کسی کو بھیجنے کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ خود بھی مریں گے اور عائشہ بھی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک اور آڈیو میں ریمبو مبینہ طور پر عائشہ سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ویڈیوز انہیں بھی بھیج رہیں ہیں اور باقی سب کو بھی نہ کھیلیں گے نہ کھیلنیں دیں گے اگر میں نہیں تو تم بھی نہیں۔

مبینہ طور پر ریمبو ان سے کہتے ہیں کہ وہ انہیں برباد کرنا چاہتی ہیں اور اب ان کی برداشت ختم ہو گئی ہے۔ اور وہ ان سے کہتے ہیں کہ وہ ان کے سیٹ پر موجود سب لوگوں کو ویڈیوز بھیجیں گے اور ساتھ ہی وہ سب نیوز چینلز کو بھی ویڈیوز بھیجیں گے۔

مبینہ طور پر ریمبو عائشہ سے کہتے ہیں کہ تم کہتی ہو نہ میں تمہیں بلیک میل کر رہا ہوں تو میں خود بھی مروں گا اور تمہیں بھی ساتھ لے کر مروں گا جس پر عائشہ انہیں جواب میں صرف ٹھیک ہے کہتی ہیں۔

اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو نے عائشہ کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ کیا تاہم تاحال جواب موصول نہیں ہوا ہے۔

لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں مینار پاکستان کے نیچے 14 اگست کو ہراسانی کا نشانہ بننے والی خاتون ٹک ٹاکر عائشہ اکرم نے چند روز قبل اپنے ساتھی ٹک ٹاکر ریمبو پر سنگین الزمات عائد کیے تھے جس کے بعد پولیس نے ریمبو کو حراست میں لے لیا تھا۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انویسٹی گیشن شارق جمال کے مطابق خاتون نے ریمبو سمیت 12 افراد کے خلاف تحریری بیان دیا تھا، جس کے بعد ریمبو سمیت سات افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

 

پولیس کو دیے جانے والے تحریری بیان میں عائشہ اکرم نے گریٹر اقبال پارک لے جانے کی منصوبہ بندی اور دیگر ساتھیوں کےساتھ مل کر پہلے دست درازی کرانے کی ذمہ داری بھی ریمبو پر ڈالی تھی۔

مینار پاکستان واقعے کی متاثرہ خاتون عائشہ اکرم نے اپنے ہی ساتھی اور پورے واقعے میں ہیرو کے طور پر سامنے آنے والے ریمبو کو ’ولن‘ بنا دیا تھا۔

ریمبو وہی ہیں جو ویڈیوز میں عائشہ کو ہراسانی سے بچانے والوں میں شامل ہونے کا بیان دیتے رہے ہیں لیکن عائشہ اکرم نے اب تمام واقعے کا ذمہ دار اپنے ساتھی ریمبو کوہی ٹھہرا دیا ہے۔

عائشہ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن کو تحریری بیان جمع کروایا تھا۔ بیان کے مطابق عائشہ کا کہنا ہے کہ گریٹر اقبال پارک جانے کا پلان ریمبو نے ہی بنایا تھا۔

ان کے مطابق: ’ریمبو نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میری نازیبا ویڈیوز بنا رکھی ہیں اور ان ویڈیوز کی وجہ سے ریمبو مجھے بلیک میل کرتا رہا ہے۔‘

عائشہ اکرم کےتحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریمبو انہیں بلیک میل کرکے 10 لاکھ روپے لے چکا ہے وہ اپنی تنخواہ میں سے آدھے پیسے ریمبو کو دیتی تھیں۔

عائشہ نے الزام لگایا ہے کہ ریمبو اپنے ساتھی بادشاہ کے ساتھ مل کر ٹک ٹاک ویڈیو بنا کرفروخت کرنے والا گینگ چلاتا ہے۔

گریٹر اقبال پارک میں 14 اگست کے موقع پر خاتون ٹک ٹاکر کو سینکڑوں افراد کی جانب سے ہراساں کیےجانے، کپڑے پھاڑنے اور زدوکوب کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے 300 سے زیادہ افراد کو جیو فینسنگ کی مدد سے حراست میں لیا تھا۔ جن میں سے متاثرہ خاتون نے شناخت پریڈ میں صرف چھ ملزمان کو شناخت کیا تھا جو ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ باقی افراد رہا کیے جا چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان