خورشید شاہ کی ضمانت منظور، نام ای سی ایل میں شامل

قومی احتساب بیورو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے نیب ریفرنس میں گرفتار کیا تھا۔

ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر خورشید شاہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی تھی ( تصویر: اے ایف پی/ فائل)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعرات کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ کی ضمانت منظور کرلی ہے لیکن ان کا نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ 

قومی احتساب بیورو نے قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کو 18 ستمبر 2019 کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے رواں برس جولائی میں خورشید شاہ کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے مقدمے کو ترجیحی طور پر چھ ماہ میں نمٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔

ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر خورشید شاہ نے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیل دائر کی تھی جو آج منظور کر لی گئی ہے۔ 

سپریم کورٹ نے سید خورشید شاہ کی ضمانت ایک کروڑ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی ہے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ضمانت کی درخواست کی سماعت کے دوران نیب اہلکاروں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی استدعا کی جو عدالت عظمی نے قبول کرلی۔ 

سپریم کورٹ کے جج جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب بیورو تحقیقات جاری رکھے لیکن سید خورشید شاہ کو جیل میں مستقل نہ رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے بدھ کو قومی احتساب بیورو (نیب) کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید احمد شاہ کی گرفتاری سے متعلق بنیادی مواد پیش کرے جو آج عدالت کے سامنے رکھا گیا تھا۔

نیب کے الزام کے مطابق خورشید شاہ کے نام پر 2005، 2008 اور 2019 میں جائیدادیں ان کے وارثوں اور بے نامی داروں کے نام خریدی گئی تھیں اور ان جائیدادوں کی مالیت خورشید شاہ کے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست