پاکستان میں خفیہ کا راج

یہ خفیہ پن، یہ چھپانے کی عادت، یہ عوام کو مشرق کی طرف دوڑا کر مغرب کی سمت نیت باندھنے کا اہتمام دوسرے شعبوں میں بھی نظر آتا ہے۔

خفیہ کارروائیوں میں ملوث ہر فرد کو پتہ ہے کہ جس دن عوام کو پتہ چل گیا کہ یہ سب گورکھ دھندہ کیا ہے، سب کا بھرم جاتا رہے گا  (فوٹو: پکسابے)

کہنے کو تو اس وقت ایک شفاف معلوماتی نظام موجود ہے جو افسر شاہی اور سیاسی مافیا کے دباؤ کے باوجود عوام تک خبریں پہنچا ہی دیتا ہے۔

حکومتِ وقت اس نظام سے اتنی نالاں ہے کہ اس کو لگام دینے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے۔ کبھی ایک قانون بناتی ہے اور کبھی دوسرا۔ کبھی صحافی اٹھائے جاتے ہیں اور کبھی ذرائع ابلاغ پر ڈھکن کس دیے جاتے ہیں۔

اگر معلومات کا نظام کام نہ کر رہا ہوتا تو اوپر سے لے کر نیچے تک پریشانی کا عالم یہ نہ ہوتا۔ مگر یہ شفافیت ایک نظر کا دھوکہ ہے۔ ایک ایسا سوانگ ہے جس نے وقتی طور پر عوام کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے کہ شاید اب سب کچھ کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔ پوری تصویر نہ سہی لیکن پتہ چل جاتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے۔

یہ تصور حقیقت سے اتنا ہی دور ہے جتنا اس ملک کی معیشت کو چلانے والے عوام کی بے چارگیوں اور بے بسیوں سے۔ ایک نہیں درجنوں مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ پاکستان میں ہر اہم معاملہ خفیہ ہے۔ تحریک لبیک سے معاہدے کو ہی لے لیں، درجنوں افراد نے بات چیت میں شرکت کی، بیسیوں ملاقاتیں ہوئیں، وعدے کیے گئے، قسمیں کھائی گئیں اور حلف لیے گئے۔

باقاعدہ تحریر کی صورت میں سب کچھ طے ہوا۔ مگر اکا دکا خبریں بننے کے علاوہ کچھ پتہ نہیں کہ اس معاہدے کے نکات کیا ہیں۔ مصنفوں نے پولیس کی میتیں کس سمجھوتے کے تحت خاموشی سے دفنائی ہیں؟ حکومتی کمیٹیوں کو چلانے والے کون تھے؟ ریاست نے اپنی رٹ کس دام نیلام کی؟

تمام خبروں، تجزیوں، مباحثوں، پریس کانفرنسز کے باوجود یہ سب کچھ جو آپ کے سامنے ہوا آپ سے مخفی ہے۔ پچھلے معاہدے بھی کچھ ایسے ہی تھے۔ اگرچہ ان کے مندرجات سامنے آئے لیکن نہ وہ مقام تشت ازبام ہوئے جہاں پر یہ ملاقاتیں ہوئی تھیں اور نہ وہ نام سامنے آئے جنہوں نے معاہدے کرنے والوں کے ہاتھ اور کان پکڑے ہوئے تھے۔

ایک اور مثال آئی ایم ایف کے ساتھ واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات ہیں۔ ایک پوری قوم کے معاشی مستقبل کے فیصلے ایک ایسے نمائندے نے کیے، جس کی نہ کوئی سیاسی حیثیت ہے اور نہ اپنی دولت کے علاوہ کوئی خاص کوائف۔

ستم ظریقی یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شوکت ترین نہ وزیر تھے اور نہ مشیر مگر پھر بھی 22 کروڑ عوام اور ان کی آنے والی نسلوں پر اثر انداز ہونے والی بات چیت کا مرکزی کردار تھے۔ اس وقت سے لے کر اب تک تمام شور شرابے کے باوجود کچھ پتہ نہیں کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیا طے کر آئے ہیں۔ عوام کو کیوں بڑھتی ہوئی قیمتوں، مہنگائی کے طوفان اور معاشی افرا تفری کی سولی پر لٹکایا ہوا ہے۔ صرف یہ اندازہ ہے کہ جو کچھ بھی طے ہوا وہ ناقابل بیان حد تک خوفناک ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تفصیلات ابھی بھی چھپی ہوئی ہیں۔ پوری قوم کی گردن پر چھری چل رہی ہے، مگر اس امر کی رازداری ہے کہ ہتھیار کند ہے یا تیز، جلد گلا کاٹے گا یا آہستہ آہستہ قتل کرے گا؟ چین کے ساتھ سی پیک کا معاہدہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس معاہدے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہر کوئی روشن مستقبل کا ایک ایسا منظر کھینچتا ہے کہ دل وجاں کو تسکین ہونے لگتی ہے۔

یہ خوشخبری خبر سے عاری ہے۔ قوم کو صرف یہی بتایا گیا ہے کہ آپ خوشیاں منائیں مگر یہ کبھی نہ پوچھیں کہ اس مسرت کے عالم کو بنانے والے عناصر کیا ہیں؟ ہاں یہ خاموشی صرف اس وقت ٹوٹتی ہے جب امریکہ آئی ایم ایف کے ذریعے گردن دبوچتا ہے۔

پھر سی پیک کا ہر حرف صاحب بہادر کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے تاکہ وہ جان پائے کہ پاکستان اور چین کے درمیان سی پیک کا معاہدہ کس بنیاد پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے عوام اور خواص بہرحال سی پیک کی تفصیلات سے محروم ہیں۔

یہ محرومی امریکہ کے ساتھ ہوائی راستوں کے استعمال کے معاملے میں بھی واضح ہے۔ عوام کو بتایا جاتا ہے absolutely not اور پھر ان دو الفاظ کے ڈھول سوشل میڈیا اور پریس کانفرنسز میں ایسے بجتے ہیں کہ جیسے ستاروں پر کمند ڈال دی گئی ہو۔

امریکی اخبار ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اندر خانے ہماری مملکت خداداد کے زمینی اور فضائی راستے امریکی عسکری قوت کے استعمال کے لیے کھلے ہیں اور ان کو مزید کھلا رکھنے کے لیے بات چیت حتمی موڑ پر آن پہنچی ہے۔ مگر مجال ہے کہ کوئی پاکستان میں سے یہ جان پائے کہ امریکہ کے ساتھ ہم یہ مذاکرات کس بنیاد پر کر رہے ہیں اور ان میں بیٹھنے والے کون لوگ ہیں جو اس ملک کو ایک ایسے بندھن میں باندھنے میں مصروف ہیں جو کل کو مکڑی کا جالا ثابت ہو سکتا ہے۔

ایسا ہی حال بھارت کے ساتھ تقریباً دو سال چلنے والی بات چیت کا تھا جو دلی کی کشمیر میں تاریخی واردات سے پہلے بھی جاری تھی اور بالا کوٹ واقعے کے دوران اور بعد میں بھی ہوتی رہی۔ کچھ پتہ نہیں کہ اس کو شروع کس نے کیا، جاری کس نے رکھا اور انجام کیا ہوا۔

یا شاید یہ ابھی بھی جاری ہے۔ وہ دشمن جس کو نیست و نابود کرنے کے لیے قوم سے ہر وقت قربانیاں مانگی جاتی ہیں، جس سے لڑنے کے لیے اتنا بڑھیا اور مہنگا دفاعی نظام بنایا گیا ہے، اس سے اتنے بڑے پیمانے پر رابطے ایک چھوٹی سی خبر کے برابر بھی معلومات سے عاری ہیں۔

یہ خفیہ پن، یہ چھپانے کی عادت، یہ عوام کو مشرق کی طرف دوڑا کر مغرب کی سمت نیت باندھنے کا اہتمام دوسرے شعبوں میں بھی نظر آتا ہے۔ چینی مافیا کے خلاف جہاد کہاں تک پہنچا؟ کچھ پتہ نہیں۔ آٹا سکینڈل کا کیا ہوا؟ کچھ پتہ نہیں۔ قرضے لینے اور قومی خزانہ لوٹنے کے الزامات پر تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟ مکمل خاموشی۔ فارن فنڈنگ کیس میں کتنے پیسے کتنے اکاؤنٹس سے آئے؟ ایک لفظ نہیں اگلتے۔ کتنے تحفے کس نے دیے؟ کوئی تفصیلات مہیا نہیں ہوتیں۔

نیب چیئرمین کے پاس 800 ارب روپے سے زیادہ ریکوریاں آئیں اور پھر کدھر گئیں کچھ پتہ نہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی کا مسئلہ کیوں سامنے آیا اور آخر میں کیسے حل ہوا؟ کچھ پتہ نہیں۔ سب کچھ خفیہ ہے۔

کیوں کہ خفیہ کارروائیوں میں ملوث ہر فرد کو پتہ ہے کہ جس دن عوام کو پتہ چل گیا کہ یہ سب گورکھ دھندہ کیا ہے، سب کا بھرم جاتا رہے گا۔ سب کے تخت اچھالے جائیں گے، عزتیں خاک ہوں گی اور اکڑی گردنیں ڈھیلی پڑ جائیں گی۔ لہذا سب خفیہ خفیہ کھیل رہے ہیں۔ بس خفیہ ہی کا راج ہے۔


نوٹ: یہ تحریر و تجزیہ مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔ ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ