ٹی ایل پی کی بات بن گئی

منیر کمیشن نے اس مسئلے کا عندیہ 1954 میں دیا تھا - لیکن ریاست اور سیاست اسی خطرناک راستے کو چھوڑنے سے اب تک انکاری نظر آ رہی ہیں۔

مفتی منیب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ اسلام آباد میں اخباری کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں لیکن انہوں نے معاہدے کے نقاط کے باے میں بات نہیں کی(پی آئی ڈی)

معاہدہ ہو گیا - ہونا تو تھا - اب تحریک لبیک پاکستان دھرنے ختم کرے گی، تمام سڑکیں کھول دی جائیں گی، شہری جو بند سڑکوں کی وجہ سے پریشان تھے ان کی پریشانی ختم ہو گی - زندگی معمول پر واپس لوٹے گی۔

کاروبار ہستی میں ان دھرنوں سے جن میں اسلحہ بھی تھا اور ڈیزل کے ڈرم بھی جو نفسیاتی خوف پھیلا تھا وہ تو ختم ہوا۔ کوئی مریض کوئی مزدور کوئی استاد کوئی شاگرد کوئی اماں کوئی آیا گھبرائے ہوئے گھر میں بند، وہ سب سکھ کا سانس لیں گے۔

اب تو پولیس فورس نے بھی شکر کیا ہو گا کہ ایک مسئلہ کم ہوا، آخر ان کے تو دس ساتھی جان سے گئے - رینجرز بھی اپنی بیس پر واپس لوٹیں گے۔

یہ غیرمعمولی حالات کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔ یہ ہنگامی حالات تو انفرادی اور اجتماعی طور پر نقصان دہ ہیں۔ تو یقیناً اب اس وقت خوشی تو سب کو ہوئی ہے۔ کہیں کوئی بہت بڑی کامیابی کی بات کر رہا ہے تو کئی مذاکرات کرنے کی مہارت کی قصیدہ گوئی فرما رہے ہیں!

پرس کانفرنس کا پیغام ۔۔ بہت سے لوگوں کو ۔۔ علما، حمایتی جماعتوں کو میڈیا کو ۔۔ سب کا شکریہ ۔۔ اور اب مثبت بات کریں کچھ بتایا نہیں جائے گا لیکن مثبت نتائج سامنے آئیں گے- پرس کانفرنس میں بہت کچھ کہا گیا ۔۔ جوش پر ہوش حاوی ہوا، قوم کی فلاح کے لیے فیصلے ہوئے ملک کو انتشار سے بچایا گیا ۔۔ مفتی منیب نے حکومت اور لبیک کے درمیان مفاہمت کی بات کی۔

طاقت کا استعمال نہ کرنا۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ جو اسلحہ پاکستان کے ہاں بنتا ہے اپنے لوگوں کے خلاف نہیں وہ دشمنوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔

آج کے معاہدے کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں دیں گئیں لیکن یہ ضرور کہ دو روز کے لیے مییڈیا اپنی دکان کو بند رکھے اور مثبت بات کرے۔

معاہدہ 

مفتی صاحب نے معاہدے کے نقاط کے باے میں بات نہیں کی۔ ان کا یہ کہنا کہ میڈیا بات نہ کرے اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاہدے میں شاید کچھ مسئلہ ہے نہیں تو خاموش رہنے کی بات کیوں ہوتی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جو خبریں مصدقہ ذرائعے سے سامنے آئی ہیں ان سے یہ معلوم ہوا ہے کہ حکومت ماضی کے معاہدوں پر عمل کرے گی، تحریک لبیک اب سیاسی سرگرمیوں میں شامل ہو گی، ایک سیاسی جماعت کی مانند متحرک رہ سکتی ہے لیکن تشدد سے گریز کرے گی۔ اس سب کا مطلب ہوا کہ فورتھ شیڈول سے بھی نکالی جائے گی، یہ وعدہ کرے گی کہ اب دھرنے نہیں ہوں گے اور پولیس پر اور ریاستی اداروں پر حملے نہیں ہوں گے۔

حکومت نے اس جماعت کو کالعدم قرار دیا تھا لیکن اس فیصلے کو تبدیل کیا جائے گا۔ ابھی کچھ وزرا جن میں فواد چوہدری بھی شامل ہیں ان کے قانون کی بلادستی اور پاکستان میں بادشاہت کا نہ ہونا لیکن عدلیہ کا حکم چلنا اب بہت کمزور پڑتا نظر آتا ہے۔

وزیر اعظم کے اپنے بیانات بھی پورے نہ ہو پائے - سکیورٹی کمیٹی میں بات چیت کی پالیسی اور ہر قیمت پر دھرنے والوں پر گولی نہ چلانا اور دھرنا ختم کروانا طے ہوا۔

اور پھر یوں ہی ہوا۔ راولپنڈی اور آبپارا میں تیار کردہ پالیسی پر پورا پورا عمل ہوا۔

یہ حکومت چلانے کا ایک نرالا طریقہ ہے۔ چاہے ہمیں اس طریقے سے جتنی بھی واقفیت ہو! کچھ ہزار لوگ باہر نکلیں کچھ کو قتل کریں کچھ دھرنے منعقد کریں اسلام کا نام لیوا ہوں اور پھر مرضی ان کی ہی چلے - اور ملک کے آئین کو ناکافی قرار دیں اور عدالت اور ریاست کو بھی اپنی مرضی کا رنگ دیں۔

یہ سب کچھ بھی پاور پلے کا ایک رخ ہے جس میں شراکت کاری بہت سے اداکاروں کی اور اداروں کی رہی ہے - یہ نسخہ قانون کی بالادستی کا ہر گز نہیں۔

منیر کمیشن نے اس مسئلے کا عندیہ 1954 میں دیا تھا - لیکن ریاست اور سیاست اسی خطرناک راستے کو چھوڑنے سے اب تک انکاری نظر آ رہی ہیں۔

کل کیا کوئی نیا راستہ اپنایا جائے گا۔

ہم دیکھیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ