آئی ایم ایف پروگرام : ’خوش خبری‘ یا ’قرض کا جال‘؟

سٹیٹ بینک گورنر رضا باقر نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ ’آئی ایم ایف پروگرام کو دوبارہ پٹری پر ڈالنے کے لیے بات چیت جاری ہے‘ دوسری جانب اقتصادی ماہرین کی رائے میں ’قرض کے جال میں پھنسے رہنے سے پاکستان کو طویل مدتی پائیدار نمو حاصل کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔‘

(اے ایف پی)

پاکستان کے مرکزی بینک کے گورنر رضا باقر نے پیر کو کہا ہے کہ مالی اعانت کے پروگرام کو دوبارہ پٹری پر ڈالنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بات چیت کی جارہی ہے۔

ڈاکٹر رضا باقر نے روئٹرز نیکسٹ کانفرنس کے دوران ایک انٹرویو میں کہا: 'یہ مارکیٹ اور دنیا کے لیے خوشخبری ہے کہ ہم اس پروگرام کو دوبارہ پٹری پر ڈال رہے ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے گراوٹ کے باوجود معاشی نقطہ نظر کے بارے میں پر امید ہیں۔

زوال پذیر زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی عدم استحکام کے ساتھ پاکستان نے 2019 میں چھ ارب ڈالر کے تین سالہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پروگرام میں شمولیت اختیار کی، لیکن ابھی اس کا دوسرا جائزہ منظور ہونا باقی ہے، جو گذشتہ سال کے اوائل سے زیر التواء ہے۔

گذشتہ برس آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کے فنڈز میں 450 ملین ڈالر کی ادائیگی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا، جس کی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے لینا تاحال باقی ہے۔

گونر سٹیٹ بینک باقر نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے مابین حتمی مقصد پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہے جبکہ پاکستان کو اپنے کم ٹیکس کو جی ڈی پی کے تناسب سے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور آئی ایم ایف، خاص طور پر ٹیکس وصولی کے لیے، آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والی معاشی اصلاحات کے نفاذ کے لیے کام کر رہے ہیں، جس کا مقصد معیشت کو مستحکم اور مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔

اگرچہ بیل آؤٹ پروگرام ابھی باقی ہے، پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد موصول ہوئی تاکہ اس سے وسیع پیمانے پر کرونا وبا کی وجہ سے بیماریوں کو روکنے اور اس کے معاشی اثرات کو کم کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

پاکستان کی مالی حیثیت کو تقویت بخشنے اور اس کی معیشت پر عالمی اعتماد بڑھانے کے لیے حکام آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج پر انحصار کر رہے ہیں۔

پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ٹریسا ڈابن سانچیز نے روئٹرز کو بتایا: 'پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کی ٹیم کی بات چیت جاری ہے۔ دونوں ٹیمیں پروگرام کے جائزے کو مثبت نتیجے پر پہنچانے کے لیے سخت محنت سے کام کر رہی ہیں۔'

اس ساری صورت حال پر ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم نے انڈپینڈںٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی سے بات کرتے ہوئے کہا: 'آئی ایم ایف پروگرام کا فائدہ اتنا ہی ہے کہ دوسری بین الاقوامی فنانشل باڈیز پاکستان میں شاید سرمایہ کاری کریں۔ اب تک آئی ایم ایف نے ایک ارب دیا ہے اور پانچ ارب ابھی انہوں نے دینا ہے لیکن یہ پروگرام کرونا کے سبب خلل میں پڑ گیا، ان کی شرط ہے کہ جی ڈپی ٹو انڈیکس ریشو کو بڑھائیں وہ ہم بڑھا نہیں سکے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قیس اسلم نے مزید کہا: 'اس مرتبہ تو یہ بھی ہوا کہ گذشتہ برس سے بہت کم ٹیکس ریٹرنز فائل ہوئے کیونکہ انہوں نے ٹیکس فائلنگ کی مدت کو نہیں بڑھایا نہیں تھا اور جنہوں نے ٹیکس نہیں دیا ان پر جرمانے عائد کیے جارہے ہیں۔'

بقول قیس اسلم: 'مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے بغیر چل سکتا ہے مگر وہیں ہمیں ان کی ضرورت بھی ہے تاکہ ہماری ساکھ بین الاقوامی فنانشل مارکیٹ میں بنی رہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'دراصل ہمارے بیورو کریٹس اور سیاسی اشرافیہ کو ان کو عادت پڑ گئی ہے کہ وہ خود کچھ پیدا نہ کریں اور دوسروں سے لیں جبکہ اس بار یہ عادت بھی پڑ گئی ہے کہ انہیں خود اقتصادی پالیسی نہیں بنانی پڑ رہی بلکہ آئی ایم ایف ہی انہیں اچھی بری پالیسیاں بناکر دیے جارہا ہے۔'

دوسری جانب ماہر اقتصادیات اکرام الحق سمجھتے ہیں کہ 'قرض کے جال میں پھنسے رہنے سے ہمیں طویل مدتی پائیدار نمو حاصل کرنے میں مدد نہیں ملے گی۔'

انڈپینڈنٹ اردو کی نامہ نگار فاطمہ علی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: 'گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اگر ہمارے معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے دی گئی ہدایات اچھی ہیں تو ہمیں اپنے طور پر انہیں نافذ کرنا چاہیے۔' ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا:  'ٹیکس نظام اور عوامی خزانے میں طویل التوا اور بہت تاخیر سے اصلاحات کرنے کے لیے ہمیں پیسوں کی کیا ضرورت ہے۔؟توانائی کے بحران سے لے کر اضافی خرچوں میں کمی تک، کیا ہمیں آئی ایم ایف کے فنڈز کی ضرورت ہے؟'

بقول اکرام الحق: 'اب وزیر اعظم پاکستان کے مطابق ہم سرپلس میں ہیں، اس لیے یہ اچھا وقت ہے کہ آئی ایم ایف کو الوداع کہا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں، جن سے ہماری معاشی صورتحال بہتر ہو اور تمام ایسے سرکاری ادارے جو نقصان میں جارہے ہیں اور معیشیت پر بوجھ ہیں ان سے بھی چھٹکارا حاصل کر لینا چاہیے۔ ایک بار جب ہم یہ کام کرلیں گے تو ہم خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ ہمیں پھر آئی ایم ایف یا دیگر قرض دہندگان کے پیسوں کی ضرورت نہیں ہوگی۔'

کرونا وائرس اور ویکسین

انٹرویو کے دوران رضا باقر نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پاکستان کرونا وائرس کی دوسری لہر کا مقابلہ کر رہا ہے لیکن پھر بھی وہ معاشی نقطہ نظر کے حوالے سے پر امید ہیں۔

'ہم ان چیلنجوں کے لیے تیار ہیں جن کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ہم پہلے ہی بغیر کسی ویکسین کے کرونا کے خلاف جنگ کے وسط میں ہیں اور ایک بار جب یہ ویکسین آجائے گی تو صورت حال مزید بہتر ہوجائے گی۔'

رضا باقر نے مزید کہا کہ معاشی بحالی کا کام جاری ہے اور جب تک کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہوتی، تب تک بینک کا کام اس معاشی بہتری کو سپورٹ کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں پاکستان کا مقصد 1.5 فیصد سے 2.5 فیصد جی ڈی پی گروتھ حاصل کرنا ہے۔

'میرے خیال میں اگلے دو یا تین سال اقتصادی محاذ پر کچھ اچھی خبر لائیں گے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت