جسٹس شمیم رانا بنام جسٹس ثاقب نثار

جناب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معاملے کا نوٹس لینا خوش آئند ہے لیکن مجھے ڈر ہے یہ ازالہ محض عدالتی کارروائی سے نہیں ہو سکے گا۔

اہل سیاست کا معاملہ بھی عجب ہے۔ ان کے ہاں کسی چیز کو قبول یا رد کرنے کا پیمانہ دلیل نہیں مفاد ہے۔ کوئی چیز اگر ان کے مفاد کے مطابق ہو تو یہ ان کے نزدیک حرف حق ہے(اے ایف پی فائل)

یہ تحریر کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے کلک کیجیے

 

جسٹس ثاقب نثار صاحب پر لگائے گئے جسٹس شمیم رانا صاحب کے الزامات درست ثابت ہوں یا غلط، اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ چھری خربوزے پر گرے یا خربوزہ چھری پر، انجام ایک ہی ہوتا ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے معاملے پر نوٹس لیا ہے جو ایک احسن اقدام ہے۔ ادارے کے سربراہ کے طور پر اپنے اخلاقی وجود کے بارے میں انہیں اسی حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ اب یہاں کا چیف جسٹس غلط ثابت ہوتا ہے یا وہاں کا، اس سے کوئی ایک فریق تو سرخرو ہو سکتا ہے، نظام انصاف نہیں۔ کیونکہ عدلیہ پر عوام کا اعتماد ہر دو صورتوں میں مجروح ہو گا۔

بد اعتمادی کے اس رشتے کا تعلق قانونی ضابطوں کی پیچیدگی اور توہین عدالت کی بندشوں سے نہیں ہوتا، یہ ایک خود رو تصور ہے جو چپکے سے سینوں میں وسوسے کی صورت اگتی ہے اور معلوم اس وقت ہوتا ہے جب یہ تناور درخت بن چکی ہوتی ہے۔

اہل سیاست کا معاملہ بھی عجب ہے۔ ان کے ہاں کسی چیز کو قبول یا رد کرنے کا پیمانہ دلیل نہیں مفاد ہے۔ کوئی چیز اگر ان کے مفاد کے مطابق ہو تو یہ ان کے نزدیک حرف حق ہے۔ اس صورت میں کسی بھی موقف کو دلیل کی بنیاد پر، پرکھے بغیر ایک طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں مسلم لیگ ن کے ہاں سرشاری کی کیفیت ہے تو وہ قابل فہم ہے۔

ن لیگ کی اس سرشاری سے مگر ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی ترجیح کیا ہے؟ آزاد عدلیہ یا ’ شرافت کی عدالت‘؟ مسلم لیگ ن اگر واقعتاً آزاد عدلیہ کی خواہاں ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ ماضی کا آسیب اس کے کندھوں پر رکھا ہے اور ن لیگ نے اپنے نامہ اعمال پر آج تک قوم سے رسمی سی معافی بھی نہیں مانگی۔

ویڈیو ٹیپ سیکنڈل کس کا تھا؟ اس پر جسٹس قیوم صاحب کو تو مستعفی ہونا پڑا۔ لیکن مسلم لیگ ن یا قبلہ شہباز شریف صاحب نے آج تک قوم سے رسمی سی معذرت بھی گوارا نہیں کی۔

جسٹس سجاد علی شاہ صاحب کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ جی ٹی روڈ کے اطراف سے جتھے بلوا کر سپریم کورٹ پر حملہ کرایا گیا تھا۔ یہ ایک شرمناک ترین باب ہے کہ ایک حکمران سیاسی جماعت سپریم کورٹ پر ہی چڑھ دوڑے۔ سامنے کی حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور اس کے سربراہ نے آج تک اس حرکت پر قوم سے معذرت تک نہیں کی۔

بریف کیس سیکنڈل کیا تھا؟ کس کے دور میں یہ کارنامہ انجام دیا گیا؟ کون رات کی تاریکی میں وزیر اعظم نواز شریف کے خصوصی طیارے پر کوئٹہ گیا تھا اور کس کے حکم پر ضابطوں کو پامال کرتے ہوئے رات گئے کوئٹہ میں طیارے کو لینڈ کرنے دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت کوئٹہ ایئر پورٹ پر رات کی لینڈنگ نہیں ہوتی تھی؟

ایئر پورٹ سٹاف کو حکم جاری کیا گیا کہ عزت مآب کا دورہ ’کانفیڈنشل‘ ہے۔ کانفیڈنشل دورے کے نتیجے میں پھر ایک فیصلہ آیا اور چیف جسٹس کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

انہی خدمات کے صلے میں جب نواز شریف صاحب نے جسٹس (ر)رفیق تارڑ کو سینیٹر کے بعد صدر پاکستان بنانے کا فیصلہ کیا تو ایک رکاوٹ کھڑی ہو گئی۔ الیکشن کمیشن نے رفیق تارڑ کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے۔ کیا آپ کو معلوم ہے اس کے بعد کیا ہوا؟

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر عدالت نے سٹے آرڈر جاری کر دیا۔ سٹے آرڈر جاری کرنے والے وہی ٹیپ سکینڈل والے جسٹس ملک قیوم تھے، بے نظیر بھٹو مرحوم سے روایت ہے کہ جسٹس صاحب اس وقت والدہ کی وفات پر چھٹیوں پر تھے لیکن انہوں نے جلدی سے واپس آ کر سٹے عطا فرما دیا۔ اور یوں رفیق تارڑ صاحب ایک سٹے کے صدقے صدر پاکستان بن گئے۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے خلاف رفیق تارڑ کو استعمال کرنے سے قبل نواز شریف نے گوہر ایوب کی خدمات لینے کی بھی کوشش کی لیکن انہوں نے معذرت کر لی۔ اپنی کتاب Glimpses into the Corridor of Power  میں گوہر ایوب لکھتے ہیں کہ پہلے نواز شریف نے چیف جسٹس کو قومی اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کے سامنے طلب کرنے کا کہا۔ جب انہیں بتایا گیا کہ ایسا ممکن نہیں اور چیف جسٹس طلبی کے اس نوٹس کو معطل کر دیں گے تو نواز شریف نے وہاں سے روانہ ہوتے وقت گوہر ایوب سے کہا میرے ساتھ گاڑی میں بیٹھیں۔ راستے میں نواز شریف نے گوہر ایوب کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر کہا، ’گوہر صاحب کوئی راستہ بتائیں کہ چیف جسٹس کو گرفتار کیا جا سکے۔ میں اسے ایک رات جیل میں رکھنا چاہتا ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یعنی جو جج مبینہ طور پر فون کال پر میاں صاحب کے لیے خدمات بجا لائے یا خدمات دیگر کے لیے رات کی تاریکی میں کوئٹہ چلا جائے اس کو تو نوازا جاتا ہے۔ لیکن جو ’شرافت کی عدالت‘ پر یقین نہ رکھتا ہو اس کی عدالت پر حملہ کیا جاتا ہے، اسے استحقاق کمیٹی کے حضور طلب کرنے کی خواہش کی جاتی ہے اور اسے گرفتار کرنے کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ چنانچہ حالیہ قصے میں مسلم لیگ کی بے تابی سے منطقی طور پر یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ اس کا مقصود کیا ہے۔ آزاد عدلیہ یا ’شرافت کی عدالت؟‘

تاہم قطع نظر اس بات کے کہ مسلم لیگ ن کا مقصد کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے نے عدلیہ پر عوامی اعتماد کے پیمانوں کو مزید شکستہ کیا ہے۔ ایک متوازن اور صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے اس شکستگی کا ازالہ کیا جائے۔

 جناب چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے معاملے کا نوٹس لینا خوش آئند ہے لیکن مجھے ڈر ہے یہ ازالہ محض عدالتی کارروائی سے نہیں ہو سکے گا۔

عدلیہ کا احترام اور اس پر اعتماد اگر محض زبان و بیاں کا معاملہ ہو تو اس کے لیے توہین عدالت کا قانون ہی کافی ہے لیکن عدلیہ جیسے محترم اور مقدس ادارے کی تقدیس اور فعالیت کے لیے لازم ہے کہ اس کا احترام صرف زباں کا معاملہ نہ ہو بلکہ اس کے حضور دل بھی زباں کا رفیق ہو اور دلوں میں اندیشوں کی بجائے اعتماد ہو۔

اس کے لیے اصلاحات کا ایک ہمہ جہت پروگرام ناگزیر ہو چکا ہے۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر