ای وی ایم: پارلیمانی قانون سازی سپریم کورٹ میں چیلنج ہو سکتی ہے؟

کئی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ اپوزیشن قانون سازی کے اس عمل میں شریک تھی اس لیے اس قانون سازی کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن کچھ ماہرین قانون کی رائے اس حوالے سے مختلف ہے۔

11 مارچ 2017 کی اس تصویر میں بھارتی الیکشن کے دوران ایک اہلکار پولنگ ایجنٹس کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر ظاہر اعداد و شمار دکھا رہا ہے(اے ایف پی فائل)

بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں  الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ انتخابات  الیکٹرانک  ووٹنگ مشین کے ذریعے کروانے کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ جب کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس سے قبل ہی  الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپنے تخفظات کا اظہار کر چکا ہے۔

 الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کا بل اب ایوان سے پاس ہو چکا ہے جس میں حکومتی ووٹ اکثریت کے ساتھ 221 تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ اپوزیشن اس قانون سازی کے عمل میں شریک تھی اور انہوں ووٹ بھی ڈالا ہے لیکن اُن کے ووٹ تعداد میں کم ہونے کی وجہ سے اُن کے اعتراضات منظور نہیں ہوئے۔ لیکن چونکہ وہ اس عمل میں شریک تھے اس لیے ان مبصرین کے مطابق قانون سازی کو عدالت میں چیلنج کرنے میں اب مشکل آسکتی ہے۔

کیا پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی اعلی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے؟ اور کیا قانون سازی کے عمل میں حصہ دار شکست کے بعد اسے چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں؟ کیا الیکشن کمیشن  الیکٹرانک ووٹنگ مشین کےاستعمال کو چیلنج کر سکتا ہے؟ ان تمام قانونی سوالات کے جوابات جاننے کے لیے انڈپینڈنڈٹ اردو نے مختلف ماہرین قانون سے رابطہ کیا۔

سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’یقیناً چیلنج ہو سکتی ہے اورایسا ماضی میں بھی ہوا ہے۔‘

 انہوں نے کہا کہ ’سال 2012 میں توہین عدالت ایکٹ آیا تھا جو پارلیمان میں منظور ہوا تھا۔ جو بنیادی طور پہ اس وقت کی حکومت نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کی سزا سے بچانے کے لیے پاس کیا تھا۔ جس میں موقف تھا توہین عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنےاور اُس اپیل کا فیصلہ آنے تک عدالت کا پہلا فیصلہ معطل کیا جائے۔‘

 عرفان قادر نے کہا کہ ’پارلیمنٹ میں پاس ہونےوالے اس ایکٹ کو ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اسے آئین سے متصادم قرار دے کر کالعدم کر دیا تھا۔‘

اس حوالے سے سابق جج شاہ خاور کا کہنا ہے کہ ’آئین سے متصادم ہونے کی صورت قانون سازی عدالت میں چیلنج ہو سکتی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 ان کے مطابق ’الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اُسے اس طرح قانون سازی کر کے پابند نہیں کیا جا سکتا کہ پارلیمنٹ کےطے شدہ خطوط پر ہی کام کرے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن کا کام شفاف انتخابات کروانا ہے اور اگر وہ سمجھتے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ کے ذریعے اُن کی یہ آئینی ذمہ داری متاثر ہو سکتی ہے تو وہ اس پر اعتراض کر سکتے ہیں۔‘

شاہ خاور کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن نے پہلے بھی اس پر اپنے تکنیکی تخفظات کا اظہار کر رکھا ہے۔‘

 انہوں نے مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن شائد براہ راست چیلنج نہیں کرے گا بلکہ سیاست دانوں کی جانب سے ہی اسے چیلنج کر کے الیکشن کمیشن کو فریق بنا لیا جائے گا جس کے بعد وہ اپنا موقف عدالت میں پیش کر سکیں گے۔‘

الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے اس حوالے سے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ بتایا کہ ’الیکشن کمیشن اس قانون سازی کو براہ راست چیلنج کرنے کاارادہ نہیں رکھتا اور نہ اسے الیکٹرانک مشین پر اعتراض ہے۔ اعتراض اگر ہے تو وہ اس سے وابسطہ تکنیکی مسائل پر ہے۔ اگر حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تجربہ کرنا چاہتی ہے تو پہلے اسے آنے والے بلدیاتی انتخابات میں استعمال کر لیا جائے تا کہ معلوم ہو سکے کہ تکنیکی نظام کیسے چلے گا۔‘

جب کہ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو چیلنج کرنے معاملے پرکہا کہ ’اپوزیشن کو ایک بار پھر کہتا ہوں عدالت کی بجائے سپیکر آفس آئیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اصلاحات کیلئے آپ کی تجاویزکا خیر مقدم کریں گے۔ EVM کے نظام کو پہلے صرف سمجھیں آپ کے تمام خدشات دور کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان