بھارتی پارلیمان: کسانوں سے متعلق متنازع قوانین منسوخ

حکومت کا موقف ہے کہ وہ کسانوں کو تبدیلی کی ضرورت پر قائل کرنے سے قاصر رہی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں 29 نومبر 2021 کو شرکت کے لیے آمد کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے ہیں (تصویر: اے ایف پی)

ہندوستانی پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر متنازع ’فارم قوانین‘ کو منسوخ کر دیا ہے جس نے ملک میں سب سے طویل عرصے تک جاری رہنے والے احتجاج کو جنم دیا تھا اور اس نے نریندر مودی حکومت کو کسانوں کے مطالبات ماننے پر مجبور کیا گیا تھا۔

’فارم لاز ریپیل بل 2021‘ پیر کو متعارف کرایا گیا جس سے چند دن قبل ہی نریندر مودی نے حیرت انگیز طور پر اعلان کیا کہ وہ مجوزہ اصلاحات کو روک رہے ہیں کیونکہ ان کی حکومت ’کسانوں کو راضی نہیں کر پا رہی ہے۔‘

غیر مقبول اصلاحات تنازعات میں گھری ہوئی تھیں اسی لیے انہیں کیا جا رہا تھا اور انہیں پارلیمنٹ میں بغیر کسی بحث کے منسوخ کر دیا گیا۔

بھارتی پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی حکمراں جماعت بی جے پی کے زیر اثر چلائی جانے والی لوک سبھا میں بل پیش کیے جانے کے بعد حزب اختلاف کی جماعتوں نے احتجاج شروع کر دیا کیوں کے اس پر بحث کے لیے کوئی وقت نہیں دیا گیا تھا۔ منسوخی کا بل بعد میں صرف چار منٹ کے اندر پاس کر دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا میں یہ بل مختصر بحث کے بعد منظور کر لیا گیا۔ اب اسے حتمی منظوری کے لیے صدر کو بھیجا جائے گا۔

حزب اختلاف کے ارکان نے نئے بل کی جلد بازی میں منظوری کو ’غیر جمہوری‘ عمل قرار دیا اور انہوں نے اسے ستمبر 2020 میں متنازع بلوں کو پہلی بار متعارف کرائے جانے کے طریقے سے تشبیہ دی۔

لوک سبھا کے رکن اور بھارتی حزب اختلاف کی جماعت انڈین نیشنل کانگریس (آئی این سی) کے سابق صدر نے پارلیمنٹ کے باہر بھارتی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ ’پہلے ہم نے کہا تھا کہ حکومت کو فارم قوانین واپس لینے ہوں گے اور آج ان قوانین کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ فارم کے قوانین کو بغیر بحث کے منسوخ کر دیا گیا۔ یہ حکومت بحث کرنے سے ڈرتی ہے۔‘

انڈیا کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا ’بغیر بحث کے منظوری، بغیر بحث کے منسوخی۔ ایک نئے ہندوستان کے لیے جمہوریت کا ایک نیا نمونہ۔‘

فارم بلز جو ہندوستان کی زرعی معیشت کو بہتر بنانے کے پرجوش ہدف کے طور پر لائے گئے تھے، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بہت کم یا بغیر کسی جانچ پڑتال کے ختم کر دیے گئے۔

یہ قوانین کاشتکاری کو نجی شعبے کے لیے کھولنے کے لیے بنائے گئے تھے اور حکومت نے انہیں بھاری سبسڈی والے نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک ضروری قدم قرار دیا تھا جو اب اسی مقصد کے لیے موزوں نہیں ہے۔

البتہ کسانوں کو خدشہ ہے کہ ان اقدامات کے بعد موجودہ حکومت کی قریب بڑی کارپوریشنز ان کا استحصال کر سکتی ہیں۔

اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا گیا کیونکہ بلوں کو بڑے پیمانے پر ’کاشتکار مخالف‘ قرار دیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں ایک سال تک طویل احتجاج کیا گیا جس کے دوران 700 سے زیادہ اموات ہوئیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا