’بھارتی کسانوں کے جذبے اور جرات کو سلام‘

کسان رہنما تیجویر سنگھ کی طرح سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ مودی حکومت نے متنازع زرعی قوانین پر ’یو ٹرن‘ پنجاب اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لیا ہے۔

29 ستمبر 2017 کی اس تصویر میں بھارتی کسان اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگاتے ریلوے لائن کے ساتھ بیٹھے احتجاج کر رہے ہیں(اے ایف پی فائل)

’یہ متنازع زرعی قوانین کسی بھی کسان تنظیم سے مشاورت اور قانون ساز اداروں میں بحث و مباحثے کے بغیر ہی کسانوں پر تھوپے گئے تھے۔ ان کے خلاف 500 کسان تنظیموں نے مورچہ سنبھالا۔ میں کسانوں کے جذبے اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آج وزیر اعظم مودی یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ہم سے غلطی ہوئی تھی۔‘

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز کے سینیئر رہنما محمد یوسف تاریگامی نے یہ الفاظ انڈپینڈنٹ اردو کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے تین متنازع زرعی قوانین واپس لینے کے اچانک اعلان کے متعلق پوچھے جانے پر کہے۔

نریندر مودی نے جمعے کی صبح سکھ مذہب کے بانی اور روحانی پیشوا بابا گرو نانک دیو جی کے 552 ویں جنم دن کے موقع پر بھارتی عوام سے اپنے خطاب میں ان کی حکومت کے ’کسان دوست‘ اقدامات کو گنواتے ہوئے تین متنازع زرعی قوانین کو واپس لینے کا اعلان کر دیا۔

بھارتی کسان مودی حکومت کے ستمبر 2020 میں منظور کردہ ان متنازع زرعی قوانین کی واپسی، اناج منڈیوں کو ختم نہ کرنے، فصلوں کی کم از کم قیمت کی ادائیگی یا ایم ایس پی کو برقرار رکھنے اور کسانوں کے قرضے معاف کرنے کے مطالبات کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہے تھے۔

ان کا ماننا ہے کہ تین متنازع قوانین کا مقصد زراعت کے شعبے میں نجی سیکٹر سے وابستہ بڑے اور ’حکومت کے چہیتے‘ صنعتی و کاروباری گھرانوں کے براہ راست عمل دخل کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا۔

جہاں کسان رہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں نے نریندر مودی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے وہیں ساتھ ہی اسے اگلے سال پنجاب اور اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر ان کی سیاسی مجبوریوں سے تعبیر کیا ہے۔

ہریانہ سے تعلق رکھنے والے کسان رہنما تیجویر سنگھ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’متنازع زرعی قوانین کو واپس لینا ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی ایک سیاسی مجبوری تھی۔‘

’ہم نے ہمت نہیں ہاری اور مسلسل لڑتے رہے۔ ان کو نے نقاب کرتے رہے۔ ان کے سامنے پنجاب اور اتر پردیش کے الیکشن کھڑے ہیں۔ انہیں تو یہ کالے قوانین واپس لینے ہی تھے۔ ہم فصلوں کی کم از کم قیمت کی ادائیگی کے سسٹم کو لاگو کرانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔‘

کسانوں کی نمائندہ تنظیم بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے اعلان کیا ہے کہ کسانوں کا احتجاج پارلیمان میں تین متنازع قوانین کی واپسی تک جاری رہے گا۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ فصلوں کی کم از کم قیمت کی ادائیگی اور دیگر معاملات پر کسانوں سے فوراً بات چیت کرے۔

کسانوں کی ایک اور نمائندہ تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ متنازع قوانین کی پارلیمان میں واپسی کا انتظار کریں گے اور فوری طور پر احتجاج کو ختم نہیں کریں گے۔

تاہم بھارتی دارالحکومت نئی دہلی سے متصل سنگھو اور ٹکری سرحدوں پر احتجاج پر بیٹھے کسانوں نے جمعے کو اپنی کامیابی کا جشن منایا اور ایک دوسرے کو مٹھائیاں کھلائیں۔

کسانوں کی جیت

محمد یوسف تاریگامی کہتے ہیں کہ متنازع زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کسانوں کی جیت کے ساتھ ساتھ انصاف کے لیے آواز بلند کرنے والوں کی بھی جیت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’مودی حکومت کی ہٹ دھرمی سے کسانوں کو بے حد مشکلات سے دوچار ہونا پڑا، انہیں دہشت گرد، پاکستانی اور خالصانی کہا گیا، ڈنڈے کھانے پڑے، ان کو گالیاں دی گئیں۔‘

’اتر پردیش میں اقتدار کے نشے میں ان کو مارا گیا لیکن انہوں نے جدوجہد کا جھنڈا تھامے رکھا جس کے نتیجے میں یہ مغرور حکومت عوام کے سامنے جھکنے پر مجبور ہو گئی۔‘

ان کے مطابق ’یہ کسان مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے مشکل وقت میں بھی دانشمندی کا ثبوت دیا۔ ہمیں امید ہے کہ آنے والے وقت میں بھی یہ لوگ اپنے دوسرے مسائل کو لے کر جدوجہد کا راستہ اختیار کریں گے اور ملک کی اس مغرور حکومت کو عوام کی بات سننے پر مجبور کریں گے۔‘

سنگھو سرحد پر کسانوں کے لیے کئی ماہ تک لنگر چلانے والی مسلم تنظیم ’مسلم فیڈریشن آف پنجاب‘ کے سربراہ ایڈوکیٹ مبین فاروقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم بہت خوش ہیں کہ اللہ نے ہماری دعائیں سن لی ہیں۔

ان کے مطابق ’کسانوں کا احتجاج 15 ماہ تک جاری رہا۔ میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جہاں بھی وہ احتجاج کریں گے مجھے ساتھ پائیں گے۔ جب کسانوں نے دہلی کا رخ کیا تو میں ان کے ساتھ چل پڑا۔‘

’میں نے ان کے جذبے کو قریب سے دیکھا۔ پہلے دن ہی فیصلہ کیا گیا تھا چاہے کتنا بھی وقت لگے ہم ان کالے قوانین کی واپسی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ آج جو وزیر اعظم مودی نے اعلان کیا ہے وہ کسانوں کے جذبے کی جیت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کسانوں نے اس حکومت کی اکڑ کو ملیا میٹ کیا ہے۔ ان کے غرور کو چکنا چور کیا ہے۔ بہت سے لوگ ان کالے قوانین کے منفی اثرات سے واقف نہیں تھے۔ کسانوں نے ایک بڑی آبادی کو تباہی سے بچایا ہے۔ ان قوانین کا مقصد کسانوں کی زمین اور اناج کو کارپوریٹ ہاﺅسز کے سپرد کرنا تھا۔‘

’مختصراً کسانوں نے ملک کو ایک بہت بڑی مصیبت سے بچایا ہے۔ احتجاج کے دوران 700 کسان شہید ہوئے ہیں۔ ان کو ان شہادتوں کا بھی حساب دینا ہو گا۔ ان کا سیاسی نقصان ہونا ہی ہے۔‘

مودی حکومت کی مجبوری

کسان رہنما تیجویر سنگھ کی طرح سیاسی تجزیہ کاروں کا بھی ماننا ہے کہ مودی حکومت نے متنازع زرعی قوانین پر ’یو ٹرن‘ پنجاب اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سکھوں کی اکثریت زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے اور نریندر مودی کا گرو نانک دیو جی کے جنم دن کو متنازع زرعی قوانین کی واپسی کے لیے چننا بھی بڑا معنی خیز ہے۔

دہلی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے سابق پروفیسر ڈاکٹر شمس الاسلام نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’بی جے پی والے انتخابات سے ڈرتے ہیں۔‘

’یہ لوگ کہتے تھے کہ ہمارے لیے انتخابات کوئی مطلب نہیں رکھتے ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ انتخابات کا مطلب ضرور ہوتا ہے اور یہ لوگ انتخابات سے ڈرتے ہیں۔‘

’کسانوں کی جدوجہد کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہندتوا کو بھی عوام کے عزم سے شکست دی جا سکتی ہے۔ کسانوں کی جدوجہد نے متنازع شہریت ترمیمی قوانین مخالف جد وجہد کے لیے زمین ہموار کی ہے۔ کسانوں نے سنہ 1857 کے بعد سے ہی ملک کی بقا اور آزادی کے لیے جدوجہد کی ہے۔‘

معذرت کے ساتھ واپسی

نریندر مودی نے جمعے کی صبح بھارتی عوام کے نام اپنے 17 منٹ طویل خطاب کا آغاز دنیا بھر کے لوگوں کو گرو نانک دیو جی کے جنم دن کی مبارک باد دینے سے کیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے تین زرعی قوانین کسانوں کی حالت سدھارنے کے لیے نافذ کرائے تھے۔

مودی کے مطابق ’مقصد یہ تھا کہ ملک کے کسانوں کو مزید ترقی ملے، انہیں اپنی پیداوار کے لیے مناسب قیمت اور اسے فروخت کرنے کے لیے زیاہ سے زیادہ اختیارات مل سکیں۔ برسوں سے ملک کے کسان، زرعی و اقتصادی ماہرین اور ملک کی کسان تنظیمیں ان قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی تھیں۔‘

بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’اس سے قبل بھی کئی حکومتوں مذکورہ قوانین لانے پر غور و فکر کر چکی تھیں۔ اس بار بھی پارلیمان میں بحث ہوئی، غور و فکر ہوا اور یہ قوانین لائے گئے۔ ملک کے کونے کونے میں بے شمار کسانوں اور کئی زرعی تنظیموں نے ان قوانین کا خیر مقدم کیا۔ میں آج ان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘

مودی نے کہا کہ ان کی حکومت ’کچھ کسانوں‘ کو ان زرعی قوانین کے فوائد سمجھا نہیں پائی لہٰذا انہیں ’معذرت کے ساتھ‘ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مودی کے مطابق ’بھلے ہی کسانوں کا محض ایک طبقہ ہی مخالفت کر رہا تھا لیکن پھر بھی یہ ہمارے لیے بہت اہم تھا۔ حالاںکہ ماہرین اقتصادیات اور ترقی پسند کسانوں نے بھی مخالفت کرنے والوں کو مذکورہ قوانین کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی اور ہم بھی انہیں نہایت عاجزی کے ساتھ سمجھاتے رہے۔‘

بھارتی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’ہم نے کسانوں کے نقطہ نظر اور ان کے دلائل کو سمجھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حکومت نے مذکورہ قوانین کی ان شقوں کو تبدیل کرنے پر رضا مندی ظاہر کی تھی جن پر کسانوں کو اعتراض تھا۔ یہاں تک کہ ان قوانین کو دو سال تک معطل کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اسی دوران یہ مسئلہ سپریم کورٹ بھی پہنچا۔ یہ سارے معاملات ملک کی عوام کے سامنے ہیں اس لیے میں ان پر تفصیلی گفتگو نہیں کروں گا۔‘

مودی نے کہا کہ ’میں آپ سب سے معذرت کرتے ہوئے صاف دل سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شاید ہماری ہی محنت اور مقصد میں کوئی کمی رہ گئی جس کی وجہ سے روشنی کے مانند ایک سچائی کو ہم ’کچھ کسان بھائیوں‘ کو سمجھا نہیں سکے۔ آج گرو نانک جی کا تہوار ہے اور یہ وقت کسی پر بھی الزام لگانے کا نہیں ہے۔ آج میں پورے ملک کو یہ بتانے آیا ہوں کہ ہم نے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مودی کے مطابق ’اسی مہینے کے آخر میں شروع ہونے والے پارلیمان کے اجلاس میں ہم مذکورہ قوانین کی واپسی کا آئینی عمل مکمل کریں گے۔‘

وزیر اعظم مودی نے 15 ماہ سے احتجاج پر بیٹھے کسانوں سے مخاطب ہو کر کہا: ’میں آج اپنے ان تمام ساتھیوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آج گرو جی کا مقدس تہوار ہے لہٰذا آپ سب اپنے گھروں کو جائیں، اپنے کھیتوں میں واپس جائیں، اپنے خاندان کے پاس جائیں۔‘

انہوں نے کسانوں کو فصلوں کی کم از کم قیمت دینے کے مطالبے پر کہا کہ اس اور دوسرے مطالبات کا حل ڈھونڈنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ کمیٹی مرکزی حکومت، صوبائی حکومتوں کے ساتھ کسانوں، زرعی سائنسدانوں، ماہرین اقتصادیات پر مشتمل ہو گی۔ ہماری حکومت کسانوں کی بھلائی کے لیے کام کرتی رہی ہے اور آگے بھی کرتی رہے گی۔‘

کب کیا ہوا؟

  • جون 2020 میں تین زرعی قوانین ’فارمرز پروڈیوس ٹریڈ اینڈ کامرس (پروموشن اینڈ فیسیلی ٹیشن) ایکٹ 2020‘، ’ فارمرز (ایمپاورمنٹ اینڈ پروڈکشن) اگریمنٹ آن پرائز ایشورنس اینڈ فارم سروسز ایکٹ 2020‘ اور ’دا ایسنشیل کموڈیٹیز (امینڈمنٹ) ایکٹ 2020‘ کو آرڈیننسز کے ذریعے متعارف کروایا گیا جس کے بعد پنجاب میں کسانوں نے ان آرڈیننسز کی مخالفت میں احتجاج شروع کیا۔
  •  ستمبر 2020 میں بھارتی پارلیمان نے ان تین زرعی قوانین کی منظوری دے دی۔ بھارتی لوک سبھا 17 ستمبر کو جب کہ راجیہ سبھا نے 20 نومبر کو ان قوانین کی منظوری دی۔ جس کے بعد بھارت کے صدر رام ناتھ کووند نے 27 ستمبر کو ان قوانین کو منظوری دے دی۔ اس دوران کسانوں کا احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا اور پنجاب میں ’ریل روکو‘ تحریک چلائی گئی۔
  •  اکتوبر 2020 میں بھارتی سپریم کورٹ میں تینوں قوانین کے آئینی جواز کو چلینج کرنے والی درخواست پر سماعت کی گئی اور وفاقی حکومت سے جواب طلب کر لیا گیا۔ یہ درخواست کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں نے دائر کی تھی۔ جس کے بعد حکومت نے آٹھ اکتوبر کو تمام کسان تنظیموں کو ایک کانفرنس میں مدعو کیا لیکن کسانوں نے اس دعوت کو رد کر دیا۔ تاہم طرفین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور 14 اکتوبر کو ہوا تھا۔
  •  نومبر 2020 میں مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا جو بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہو گیا۔ جس پر کسان احتجاج کو بڑے پیمانے پر لانے کا اعلان کرتے ہیں۔ احتجاجی کسان 26 نومبر کو ’یوم آئین کے موقع پر‘ دہلی کی طرف مارچ شروع کرتے ہیں۔ کسانوں اور ہریانہ پولیس کے درمیان آمنا سامنا ہو جاتا ہے لیکن کسان دہلی کے مضافات تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور وہیں پر اپنا ڈیرہ ڈالتے ہیں۔
  •  دسمبر 2020 کی پہلی، تیسری اور پانچویں تاریخ کو حکومت اور کسانوں کے درمیان بات چیت کا تیسرا، چوتھا اور پانچواں مرحلہ ہوتا ہے لیکن تعطل برقرار ہی رہتا ہے۔ آٹھ دسمبر کو ’بھارت بند‘ کی کال دی جاتی ہے اور وفاقی وزیر داخلہ امت شاہ غیر رسمی طور پر کسانوں سے ملتے ہیں۔ مذاکرات پھر کسی انجام تک نہیں پہنچتے ہیں اور کسان رہنما نو دسمبر کو ہونے والے مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ 13 دسمبر کو احتجاجی کسان دہلی جے پور شاہراہ کو بند کرتے ہیں اور بالآخر 30 دسمبر کو مذاکرات کا چھٹا مرحلہ ہوتا ہے جس میں کسانوں کے چار مطالبوں میں سے دو پر اتفاق ہوتا ہے جبکہ منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت اور زرعی قوانین کی منسوخی پر تعطل جاری رہتا ہے۔
  •  جنوری 2021 میں مذاکرات کا ساتواں اور آٹھواں مرحلہ ہوتا ہے لیکن ایک بار پھر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا ہے۔ سپریم کورٹ میں 11 جنوری کو قوانین کو چلینج کرنے والی عرضیوں کی سماعت ہوتی ہے۔ 12 جنوری کو ان قوانین کی عمل درآمد پر اگلے احکامات جاری ہونے تک روک لگائی جاتی ہے اور مذاکرات کے لیے چار رکنی کمیٹی بنائی جاتی ہے۔ 26 جنوری یعنی بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر احتجاجی کسان دہلی میں ’ٹریکٹر مارچ‘ کرتے ہیں تاکہ ان قوانین کی منسوخی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا جا سکے، اس مارچ کے دوران تشدد بھڑک اٹھتا ہے جس میں کم از کم ایک کسان ہلاک جبکہ کئی پولیس اہلکار زخمی ہو جاتے ہیں۔
  • کسان چھ فروری 2021 کو ملک گیر ’چکہ جام‘ پروگرام کا اعلان کرتے ہیں اور 14 فروری کو موسمیاتی کارکن دیشا روی کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا ’ٹول کٹ‘ بنانے اور شیئر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے ان کو 23 فروری کو ضمانت پر رہا کیا جاتا ہے۔
  •  مارچ 2021 میں پنجاب اسمبلی ان تینوں قوانین کی غیر مشروط واپسی کے لیے قرارداد منظور کرتی ہے۔
  •  اپریل 2021 میں سو دن گزر جانے کے باوجود بھی دہلی میں کسانوں کا احتجاج جاری رہتا ہے۔ کچھ احتجاجی فصل کٹائی کے سیزن کے پیش نظر پنجاب واپس آتے ہیں جبکہ کچھ احتجاج جاری رکھتے ہیں۔
  •  جولائی 2021 میں بھارتی پارلیمان کے مون سون سیشن کے دوران دہلی میں جنتر منتر پر ’کسان سنسد‘ شروع ہو جاتی ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمان میں زرعی قوانین پر ہونے والے بحث پر کڑی نظر رکھیں گے۔
  •  ستمبر 2021 میں زرعی قوانین کی منظوری کا ایک سال مکمل ہو جاتا ہے۔ 17 ستمبر کو قوانین کا ایک سال مکمل ہونے پر کسان یونینوں کی طرف سے ‘بھارت بند‘ منایا جاتا ہے۔
  •  اکتوبر 2021 میں سپریم کورٹ کسانوں کے احتجاج سے مسافروں کو پہنچنے والی تکلیف پر بات کرتی ہے۔ دہلی پولیس غازی پور اور ٹکری سرحدوں سے رکاوٹیں ہٹانے کا کام شروع کرتی ہے تاہم کسان احتجاج جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔
  • 19 نومبر 2021 کو بالآخر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تین زرعی قوانین کی منسوخی کا اعلان کرتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا