بھارت: فضائی آلودگی سے ہر سال ایک لاکھ بچے ہلاک

ہر سال بھارت میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 12.5 فیصد کی وجہ فضائی آلودگی ہے، رپورٹ

گذشتہ سال اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا کے 15 آلودہ ترین شہروں میں سے 14 بھارت میں واقع ہیں(اے ایف پی)

بھارت کی فضاؤں میں موجود زہریلی گیس ہر سال پانچ سال سے کم عمر کے ایک لاکھ بچوں کی ہلاکت کا سبب بن رہی ہیں۔

 یہ انکشاف ماحولیات کے عالمی دن پر جاری ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا، جس کے مطابق بھارت بارہا ماحول کو لاحق خطرات سے نمٹنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق، گذشتہ سال اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا کے 15 آلودہ ترین شہروں میں سے 14 بھارت میں واقع ہیں۔ عالمی سطح پر اس بارے میں متعدد بار توجہ دینے کی اپیلوں کے باوجود گذشتہ انتخابا ت میں بھارتی سیاست دانوں نے اس مسئلے کو مکمل نظر انداز کردیا۔

سٹیٹ آف انڈیا انوائرمنٹ (ایس او ای) کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ہر سال بھارت میں ہونے والی ہلاکتوں میں سے 12.5 فیصد کی وجہ فضائی آلودگی ہے، جو موجودہ بھارتی حکومت کی ماحولیات کے حوالے سے سنجیدگی کی کافی بری تصویر پیش کرتی ہے۔

سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ (سی ایس ای) کی ایک رپورٹ کے مطابق پورے بھارت میں پانی کے 86 فیصد ذخیرے بھی ’شدید آلودہ‘ پائے گئے جبکہ ری نیو ایبل انرجی کے حوالے سے بھارت کی پیش رفت کافی مایوس ہے۔

 گذشتہ ماہ تک بھارت میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی تعداد 2 لاکھ اسی ہزار رہی جو کہ 2020 تک مخصوص کردہ ہدف یعنی ڈیڑھ کروڑ گاڑیوں سے بہت کم ہے۔ بھارت میں گرین ہاؤس گیس کے اخراج کی شرح میں 2010 ۔ 2014 کے دوران 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ اس کی قدرتی گیس اور پن بجلی کے منصوبے بھی بری حالت میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

رپورٹ کے مطابق گیس پر چلنے والے بجلی کے منصوبے اپنی استعداد کا 24 فیصد جبکہ پن بجلی کے منصوبے محض 19 فیصد پیدا کر پا رہے ہیں۔ سی ایس ای کے مطابق ری نیو ایبل انرجی کے حوالے سے بھارت کی پیش رفت مایوس کن ہے۔’ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے ہدف کا صرف 6.3 فیصد جبکہ شمسی بجلی کے ہدف کا محض 5.86 فیصد حاصل ہو سکا ہے۔‘

اسی طرح، بھارت میں زہریلا مادہ خارج کرنے والی صنعتوں کی تعداد میں 2009 ۔ 2016 کے دوران 56 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا جبکہ 2011 ۔ 2018 کے دوران بڑے پیمانے پر آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی شرح 136 فیصد تک بڑھی ۔

بھارت 2050 تک دنیا کی شہری آبادی میں اکتالیس کروڑ نفوس کا اضافہ کرنے والا ہے لیکن دوبارہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم نریندرا مودی نےاپنی الیکشن مہم میں ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر تک نہ کیا۔ بس ماحولیات کے عالمی دن پر انہوں نے ایک ٹویٹ میں پیغام دیا : ’فطرت کے ساتھ اتحاد میں رہو‘۔

مودی کہتے ہیں : ’ہم ایک روایت میں پلے بڑھے ہیں جہاں فطرت کو خدا کے برابر مانا جاتا ہے جہاں فطرت کا تقدس مقدم جانا جاتا ہے اور اس کی حفاظت انسانوں کی حفاظت جتنی ضروری ہے۔ اس ماحولیات کے عالمی دن پر ہمیں کچھ وقت نکال کر سوچنا ہو گا کہ ہم دنیا کو کیسے صاف اور سرسبز بنا سکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات