گوادر تحریک اور قوم پرستوں کی چہ میگوئیاں

اس ساحلی شہر میں مولانا کی بظاہر کامیاب حکمت عملی سے کیا لوگ نصف صدی سے صوبائی سیاست پر چھائے قوم پرستوں کو بھول جائیں گے؟

گوادر میں مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں مقامی لوگوں کو درپیش کئی مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے(تصویر: عابد  حاجی)

ویسے تو گوادر آج کل سراپا احتجاج ہے لیکن پورے بلوچستان میں جشن محسوس ہوتا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے زائد عرصہ میں پہلی بار ایسا لگ رہا ہے کہ لوگوں کو بیک وقت احتجاج کا حق  اور موقع مل گئے ہیں۔

لوگ آج کل سڑکوں پر آسکتے ہیں، اپنے مطالبات کے حق میں نعرہ بازی کر سکتے ہیں اور حکومت سے انصاف طلب کر سکتے ہیں۔ ویسے تو کسی بھی جمہوری معاشرے میں یہ سب کچھ معمول ہونا چاہیے لیکن بلوچستان کے تناظر میں اس میں منفرد بات یہ ہے کہ شورش کی وجہ سے حکومتیں پرامن جدوجہد کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی آرہی ہیں۔

مظاہرین پر تشدد کرنا، انہیں غیرملکی عناصر کا آلہ کار قرار دینا اور کئی کا لاپتہ ہونا ایک ایسی پالیسی بن گئی ہے جس کی زد میں بلوچوں کی ایک نسل آئی ہے۔ ماضی قریب میں نوجوان سیاسی کارکن زیر زمین چلے گئے، کچھ لاپتہ ہوئے اور بہت سارے مار دیئے گئے۔ یوں بلوچستان میں خوف و ہراس کا ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جس نے سٹریٹ پالیٹکس کو بھی ہڑپ کر لیا۔

اگرچہ گوادر میں مظاہرین کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت نے ہزاروں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب کی بار احتجاج کرنے والے اس بات پر مشکور نظر آتے ہیں کہ کم از کم انہیں لاپتہ تو نہیں کیا جائے گا۔ ماضی بعید میں گمنام اور اب بلوچستان بھر میں زیر بحث نئے رہنما مولانا ہدایت الرحمن کی تحریک میں وہ لوگ بھی شامل ہو رہے ہیں جو ان کی تنظیم (جماعت اسلامی) سے نظریاتی اتفاق تو نہیں کرتے لیکن وہ کئی سالوں کی خاموشی کے بعد اپنی سیاسی تشنگی بجھانے اور اپنے خیالات اور مطالبات کو سامنے رکھنے کا موقع دیکھ رہے ہیں۔ 

 دو بیانیے

کئی سالوں سے گوادر کے حوالے سے دو بیانیے رہے ہیں۔ پہلے بیانیے کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں  نے ایک عرصہ سے تشہیر  کی کہ گوادر بندرگاہ پر ترقی زور و شور سے جاری ہے۔ گوادر اگلا دبئی یا سنگاپور بننے جا رہا ہے۔ حکومتی سرپرستی میں غیرملکی وی لاگرز کو بلایا گیا اور ڈرون ویڈیوگرافی کے ذریعے بیرون ملک سیاحوں کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی کہ اگر انہوں نے دنیا کا ایک خوبصورت علاقہ نہیں دیکھا ہے اور جہاں انہیں اپنا اگلا سفر پلان کرنا ہے تو وہ ہے گوادر۔

قومی فنکاروں اور کھلاڑیوں کو گوادر لے جایا گیا۔ نامور صحافیوں اور اینکر پرسنز کو گوادر کا ٹور کرایا گیا جہاں سے انہوں نے براہ راست نشریات کیں۔ ان صحافیوں کے ساتھ وزیراعلیٰ بلوچستان کے خصوصی انٹرویوز کرائے گئے تاکہ وہ پورے ملک میں گوادر کے حوالے سے ’مثبت صحافت‘ کریں۔

پوری قوم کو بتایا گیا کہ گوادر کا کرکٹ سٹیڈیم دنیا کا خوبصورت ترین میدان ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ بیرونی کھلاڑی اس خوبصورت ساحلی شہر میں نا آئیں۔

دوسرا بیانیہ وہ تھا جسے حکومتیں کئ سالوں سے چھپاتی آئی ہیں۔ اور وہ ہے گوادر اور بلوچستان کے مقامی لوگوں کا بیانیہ جو سادہ الفاظ میں یہ کہتے آرہے ہیں کہ گوادر کی بندرگاہ پر جو ’ترقی‘ ہو رہی ہے اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ اس  ترقی کے ثمرات ان تک نہیں پہنچ رہے۔

گوادر میں غیرمقامی لوگوں کی آمد سے وہ اقلیت میں بدل جائیں گے۔ وہ یہ گلہ کرتے رہے کہ سمندر کے باجود انہیں پینے کا پانی دستیاب نہیں۔ گوادر پورٹ کے حوالے سے  تنقید کرنے یا خدشات کا اظہار کرنا ملک دشمنی کے زمرے میں ڈال دیا گیا۔ جب بھی مقامی لوگ اپنے حق کی بات کرتے، قومی میڈیا ان کی شنوائی نہیں کرتا کیونکہ بلوچستان سے باہر باقی پاکستان یہ غیرمقبول بیانیہ سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

کوئی یہ ماننے کو کیسے تیار ہوتا کہ گوادر میں صاف پانی نہیں ہے جب کہ شہر کی سنگاپور سے مماثلت رکھنی والی تصویریں ملک کے بڑے بڑے شہروں میں بل بورڈز پر، قومی اخبارات کے صفحہ اول اور خصوصی ضمیموں میں شائع ہوئیں۔ کون یہ ماننے کو تیار تھا کہ قوم کے ساتھ اتنا بڑا فریب ہوا ہے کہ گوادر میں واقعی 20 سالوں میں ترقی نہیں بلکہ پروپیگینڈا ہوا ہے۔ پھر مقامی لوگ اپنے مطالبات سے دستبردار ہونے کو تیار بھی نہیں۔

مزاحمت کی تاریخ

یہ تاثر غلط ہے کہ گوادر میں لوگ اپنے حقوق کی خاطر پہلی بار کھڑے ہوئے ہیں۔ دراصل سب سے پہلے وہاں بے چینی اور عدم اطمینان کی بو اس وقت آنے لگی جب مسلح بلوچ قوم پرستوں نے 2004 میں چینی انجینرز پر حملہ کیا۔ اس کے بعد وقتا فوقتاً مسلح تنظیموں نے گوادر ہی کی وجہ سے کارروائیاں کیں۔

اسی طرح سیاسی جماعتوں میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے 2006 میں لشکر بلوچستان کے نام سے گوادر میں گوادر سے متعلق اپنے تحفظات پیش کرنے کے لیے لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس اعلان کے فورا بعد سابق وزیراعلیٰ سردار اختر مینگل اور بی این پی کی تمام سینیئر قیادت جیل میں ڈال دی گئی۔

جوں جوں حکومتوں نے سیاسی جماعتوں کے لیے جلسے جلوس اور مظاہروں کے راستے بند کیے، مسلح تنظیموں، بالخصوص بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے ترقیاتی منصوبوں اور چینی مفادات پر حملوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں جو مظاہرے ہو رہے ہیں ان میں مقامی لوگوں کو درپیش کئ مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت بلوچستان بھی بدستور مولانا سے رابطہ میں ہے۔ کئی سالوں کے بعد پہلی مرتبہ یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات سے توجہ ہٹانے کی خاطر انہیں ’غیرملکی ایجنٹ‘ قرار دینے کی بجائے اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ مقامی ماہی گیروں کے مطالبات جائز ہیں۔

بلوچستان عوامی پارٹی کے بارے میں یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس کے پاس اختیارات نہیں ہیں لیکن اگر قدوس بزنجو کی حکومت مولانا کے مطالبات کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدام اٹھاتی ہے تو خود حکومت کی ساکھ بحال ہوگی اور صوبہ کی حکمران جماعت پر لوگوں کے شکوک و شبہات میں وقتی طو پر کمی آئے گی ۔

تحریک کا مستقبل

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مولانا نے جو تاریخی عوامی تحریک شروع کی ہے جس میں خواتین کی بھرپور شمولیت نے بھی سب کو متاثر کیا، اس کا مستقبل کیا ہوگا؟ سیاسی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ ان کا عروج اس لیے ممکن ہوا کیونکہ مقامی لوگوں کے حقوق کےنام پر سیاست کرنے والے بلوچ قوم پرستوں نے (خاص کر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک کے دور میں) مقامی لوگوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ لوگ قوم پرستوں سے مایوس ہوگئے اور ان کا نعم البدل اس وقت تک ڈھونڈتے رہے جب تک مولانا صاحب سیاسی افق پر نمودار نہیں ہوئے۔

مان لیا کہ حکومت مولانا کے مطالبات مان لیتی ہے لیکن انہوں نے جس انداز میں عوام کو اکٹھا کیا ہے اس سے لوگوں کی توقعات ان سے روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ لوگ سمجھنے لگے ہیں کہ اگر وہ گوادر کی پانیوں میں غیرقانونی ٹرالنگ کے خلاف کھڑے ہوسکتے ہیں تو انہیں لاپتہ افراد کے معاملہ پر بھی بولنا چاہیے۔ دیگر مسائل جیسے کہ (پاک ایران باڈر، چیک پوسٹس وغیرہ) پر بھی وہ عوام کی ترجمانی کریں۔

مولانا کے لیے بھی اپنی سیاسی بقا کے لیے لازمی ہے کہ وہ بدستور نئے مسائل ڈھونڈتے رہیں تاکہ وہ عوامی و سیاسی سطح پر اپنی اہمیت برقرار رکھ سکیں۔ اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا وہ مقامی لوگوں کو اپنی طرف اتنی دیر تک متوجہ رکھ سکتے ہیں کہ لوگ نصف صدی سے صوبائی سیاست پر چھائے قوم پرستوں کو بھول جائیں۔ مولانا کی تحریک کے نتیجے میں بلوچ قوم پرستوں کے درمیان فل الحال چہ میگوئیاں شروع ہوگئی ہیں کہ اب ان کا کیا ہوگا۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ