گوادر میں خواتین کی ’غیرمعمولی‘ ریلی

بلوچستان میں خواتین کم ہی سیاسی یا سماجی مسائل پر احتجاج کے لیے سامنے آتی ہیں، تاہم اس ریلی میں خواتین کے ہمراہ بچے اور نوجوان بھی شریک تھے۔

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں خواتین نے ’گوادر کو حق دو‘ تحریک کی حمایت میں سوموار کو ایک غیرمعمولی ریلی نکالی۔

مقامی لوگ اسے شہر کی تاریخ میں خواتین کی سب سے بڑی ریلی قرار دے رہے ہیں۔ بلوچستان میں خواتین کم ہی سیاسی یا سماجی مسائل پر احتجاج کے لیے سامنے آتی ہیں، تاہم اس ریلی میں خواتین کے ہمراہ بچے اور نوجوان بھی شریک تھے۔ 

حکومت بلوچستان نے تحریک کے چار مطالبات سے متعلق اعلامیہ جاری کیا ہے لیکن احتجاج کرنے والے اس پر عمل درآمد کے حوالے سے مطمئن نہیں۔

‏کمشنر مکران کے مطابق ’مطالبات پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے جن میں ٹرالرنگ کی روک تھام کے لیے محکمہ فشریز سے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ لی جا رہی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوادر میں ایک مقامی سیاسی شخصیت کی قیادت میں احتجاج کا سلسلہ کئی دنوں سے جاری ہے۔

مظاہرین کے اہم مطالبات میں نقل و حمل کے لیے ٹوکن نظام کا خاتمہ، لاپتہ افراد کی بازیابی، اورماڑہ گودار سے جیوانی تک سمندر میں غیرقانونی طور پر غیرملکی ٹرالرنگ پر پابندی، ہر ماہی گیر کو آزادانہ طور پر سمندر میں شکار کرنے کی اجازت، گودار میں شراب خانوں کے لائسنس منسوخ کیے جانے جیسے مطالبات شامل ہیں۔

اس کے ساتھ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایران بارڈر پر کسٹم اور کوسٹ گارڈ گوادر کے عوام کو اشیائے خورونوش لانے کی آزادی دیں، کوسٹ گارڈ اور کسٹم کی جانب سے ضبط کی گئی تمام کشتیاں اور گاڑیاں مالکان کو واپس دی جائیں، دربیلہ، زیارت مچھی، نگور، پشکان اور جیوانی کے علاقوں کو پانی فراہم کیا جائے اور سی پیک کے تحت گودار بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازمین اور دیگر علاقوں کے ملازمین کی برابر مزدوری اور بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت دی جائے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان