میسو پوٹامیہ کی تہذیب میں عورت دوسرے درجے کی مخلوق

میسوپوٹامیہ میں بڑے شہر آباد ہوئے جیسے اُرُک، لوکاش، نینوا اور نیمروو وغیرہ۔ یہاں مختلف شاہی خاندانوں کی حکومت رہی، جنگیں ہوئیں، تجارت میں ترقی ہوئی، ادب پیدا ہوا اور معاشرے کی بنیاد پدرسری نظام پر پڑی ،جس میں عورت کی حیثیت مرد کے مقابلے میں کم تر تھی۔

(اے ایف پی)

دجلہ اور فرات کی وادی میں ارتقا پذیر ہونے والی تہذیب کو میسوپوٹامیہ کی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ یونانی لفظ ہے جس کے معنی ہیں دو دریاؤں کی سرزمین۔

یہاں چار بڑی تہذیبیں پیدا ہوئیں۔ سمیری، کلدانی، اسیری اور بابلی۔ تہذیب کی ترقی کا اظہار شہروں کی آبادی اور اس کی سیاسی، سماجی اور معاشی سرگرمیوں سے ہوتا ہے۔ میسوپوٹامیہ میں بڑے شہر آباد ہوئے جیسے اُرُک، لوکاش، نینوا اور نیمروو وغیرہ۔ یہاں مختلف شاہی خاندانوں کی حکومت رہی، جنگیں ہوئیں، تجارت میں ترقی ہوئی، ادب پیدا ہوا اور معاشرے کی بنیاد پدرسری نظام پر پڑی ،جس میں عورت کی حیثیت مرد کے مقابلے میں کم تر تھی۔ اگرچہ اُس کو ایک مخصوص دائرے میں رہتے ہوئے کچھ حقوق بھی حاصل تھے۔

خاندان کا سربراہ باپ ہوا کرتا تھا اُسے اپنی اولاد پر پورا حق تھا کہ جس طرح سے چاہے اُن سے معاملات طے کرے۔ عورت کے لیے ضروری تھا کہ وہ باپ یا شوہر کی نگرانی میں رہے۔ اکیلی اور تنہا عورت کو غیرمحفوظ سمجھا جاتا تھا۔ لڑکی کی شادی عموماً 18 سال کی عمر میں کر دی جاتی تھی۔ شادی دو خاندانوں کے درمیان معاہدہ ہوتا تھا جس کا اندراج نہیں کیا جاتا تھا۔

شادی کے موقعے پر جہیز دینے کی روایت شروع ہو چکی تھی۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی تھی کہ نئے شادی شدہ جوڑے کو شادی کے بعد جن اشیا کی ضرورت ہوتی ہے اُنہیں پورا کیا جائے۔ اس کے عوض لڑکا لڑکی کے باپ کو بطور تحفہ رقم ادا کرتا تھا۔ شادی کے بعد لڑکی کے فرائض میں سے تھا کہ وہ خود کو گھریلو کاموں میں مصروف رکھے، شوہر اور اُس کے خاندان کے افراد کی خدمت کرے۔

اگرچہ مرد ایک ہی عورت سے شادی کرتا تھا مگر اُس کے بانجھ ہونے کی صورت میں دوسری شادی بھی کر سکتا تھا۔ عورت پر سخت پابندی تھی کہ اپنے شوہر کے علاوہ کسی اور سے جنسی تعلق قائم نہ کرے۔ انحراف کی سزا موت تھی۔ لیکن مرد کو آزادی تھی کہ وہ طوائفوں سے تعلق رکھے یا گھر میں داشتائیں بھی رکھے۔

طلاق کا طریقہ کار مرد کے لیے آسان تھا۔ طلاق کی صورت میں اُسے بیوی کا جہیز واپس دینا پڑتا تھا، لیکن اگر عورت طلاق چاہتی تھی تو اُس کے لیے ضروری تھا کہ وہ شوہر پر کوئی الزام لگائے۔ اُس کے الزام کی تحقیق ہوتی تھی اور درست ثابت ہونے پر وہ طلاق کی حق دار ہو جاتی تھی اور اپنا جہیز واپس لے جاتی تھی اور دوبارہ سے باپ کی نگرانی میں چلی جاتی تھی۔

جب ہم میسوپوٹامیہ کے بارے میں عورت کے مقام کا تعین کرتے ہیں تو اس کو طبقاتی نقطۂ نظر سے دیکھنا پڑتا ہے۔ کسان عورتیں، زراعت کھیتی باڑی اور مویشیوں کی دیکھ بھال میں اپنے مردوں کے ساتھ مصروف رہتی تھیں جب کہ شہروں میں مذہبی اور سماجی طور پر عورتوں کے کردار میں تبدیلی آجاتی تھی۔ کیونکہ مادرسری عہد کی پوجا ہوتی تھی، لہٰذا عورتیں مندر میں پجارنیں بن کر دیوی دیوتاؤں کی خدمت کرتی تھیں۔

 یہ رواج بھی تھا کہ باپ اپنی بیٹیوں کو مندرکے لیے وقف کر دیتے تھے جہاں وہ جسم فروشی کر کے اپنی آمدنی مندر کے حوالے کر دیتی تھیں۔ اُس وقت اس کو ایک مقدس پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ جبکہ عام پیشہ ور طوائفیں بھی ہوا کرتی تھیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عورتوں کو تجارتی شے بنا کر اُسے آمدنی کا ذریعہ بنا دیا گیا تھا۔

گھریلو کام کاج کے علاوہ عورتیں تجارت میں بھی مصروف رہتی تھیں۔ خاص طور سے کپڑا بُننا اور اُس کو فروخت کرنے کے بعد آمدنی سے اُن کے گھریلو اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔ اس کے علاوہ کھانے کی مختلف اقسام تیار کرنا، بیئر اور شراب کشید کرنا، خوشبوؤں کو تیار کرنا۔ یہ سب اُن کے دائرے میں آتا تھا۔ خاص طور سے دائی کا پیشہ عورتیں ہی اختیار کرتی تھیں اور اس وقت کے لحاظ سے معاشرے میں اُن کی بڑی اہمیت تھی۔

ڈاکٹر مبارک علی کے دیگر کالم 

عورت، انسانی تہذیب کی بانی

مادرسری نظام کیا تھا اور کیا یہ کبھی واپس آ سکتا ہے؟

 

شاہی خاندان کی عورتوں کا مقام دوسری طبقاتی عورتوں کے مقابلے میں زیادہ اہم تھا۔ بادشاہ حرم رکھتے تھے جہاں اُن کی بیویاں اور کنیزیں ہوا کرتی تھیں۔ اُن کی سختی کے ساتھ نگرانی کی جاتی تھیں کہ وہ حرم سے باہر کسی سے رابطہ نہ رکھیں۔ اُن کی نگرانی کے لیے خواجہ سرا ہوا کرتے تھے۔ لیکن خواجہ سراؤں کو بھی بغیر اجازت حرم کی عورتوں سے بات کرنے پر پابندی تھی۔ حرم کی عورتوں کے لیے ہر قسم کی سہولیات تھیں۔ رہائش کے لیے محلات، خدمت کے لیے کنیزیں، کھانے کے لیے انواع و اقسام کے کھانے، زیورات اور نفیس ملبوسات۔ لیکن اُن کی زندگی محل کی چاردیواری ہی میں گزرتی تھی اور باہر کی دنیا سے وہ ناواقف رہتی تھیں۔

18ویں صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ ہمورابی نے قوانین روشناس کرائے جو ایک چٹان پر کندہ تھے۔ قوانین کی یہ چٹان اب فرانس کے میوزیم میں ہے۔ ان قوانین کا مقصد سلطنت میں عدل و انصاف ہو اور سخت سزاؤں کے ذریعے جرائم کا خاتمہ ہو۔ لہٰذا دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ والا اصول تھا۔

ان قوانین میں خصوصیت سے بابلی سماج میں خاندان کے استحکام کو برقرار رکھنا تھا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ شادی بیاہ، جہیز، مہر، طلاق، جائیداد کی تقسیم اور وراثت کے بارے میں قوانین ہیں۔ عورت چونکہ شادی کے بعد شوہر کی ملکیت ہو جاتی تھی اس لیے اُس کا سب سے بڑا جرم جنسی بے راہ روی کا تھا جس کی سخت سزا تھی۔ عورت اور اس کے عاشق کو باندھ کر دریا میں پھینک دیا جاتا تھا۔ اگر عورت پر شبہ ہوتا تھا تو وہ اپنی بےگناہی کے لیے امتحان سے گزرتی تھی۔ اُسے دریا میں پھینک دیا جاتا تھا۔ اگر وہ ڈوب جاتی تو گنہگار ٹھہرتی ورنہ بے قصور سمجھی جاتی تھی۔

ہمورابی کے قوانین کے ذریعے عورت کو وراثت اور جائیداد کے انتظام کرنے میں کچھ حقوق حاصل تھے جن کو وہ استعمال کرتی تھی۔ لیکن بہ حیثیت مجموعی میسوپوٹامیہ کی تہذیب میں مردوں کی برتری تھی اور عورت کو باعزت مقام کے لیے ابھی کئی صدیاں انتظار کرنا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی میگزین