جج کے اندر آگ بھی لگی ہو تو خود کو پرسکون رکھتےہیں: جسٹس بندیال

سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی نے مشتعل ہو کر کہا کہ ’اداروں کے سربراہان میری گردن کے پیچھے تھے، توہین عدالت جاری کرتا تو میرے ساتھ کیا ہوتا؟‘

ایک پولیس اہلکار اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت کے باہر گشت کر رہا ہے جب کہ اندر 28 نومبر 2019 کو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کا مقدمہ چل رہا ہے (تصویر: اے ایف پی فائل)

جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی کی برطرفی کے مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’ججوں کے بارے میں خاص بات یہ ہے جج کے اندر آگ بھی لگی ہو تو وہ خود کو پرسکون رکھتے ہیں۔‘

سپریم کورٹ میں پیر کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں لارجر بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے برطرف جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران انہوں نے کہا کہ ’ججز پر بہت سے الزامات لگتے رہتے ہیں لیکن جج اپنے فیصلے سے بولتا ہے۔‘

سابق جج اسلام آباد ہائی کورٹ کمرہ عدالت میں اس وقت ضبط کھو بیٹھے جب عدالت نے سوال کیا کہ ’جب انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ حاضر سروس جج سے ملے تو انہوں نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیوں نہ کیا؟‘

اس پر شوکت صدیقی نے مشتعل ہو کر کہا کہ ’اداروں کے سربراہان میری گردن کے پیچھے تھے، توہین عدالت جاری کرتا تو میرے ساتھ کیا ہوتا۔‘

جسٹس سردار طارق مسعود نے شوکت عزیز صدیقی کے وکیل سے استفسار کیا کہ ’کیا یہ آپ کی طرف سے تسلیم شدہ حقائق ہیں کہ آپ سے جرنیل ملے؟ جب جرنیل آپ سے ملے تو آپ نے ان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیوں نہیں کیا؟‘

’اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی تو یہ عدالت کا نوٹس بنتا تھا لیکن آپ نے کسی چیف جسٹس کو اطلاع بھی نہیں دی تو کیا یہ آپ کا مس کنڈکٹ نہیں تھا؟‘

شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ’میرے موکل کو بس اس لیے نکالا نہیں جاسکتا کہ انہوں نے جرنیل کو نوٹس نہیں کیا۔ میرے موکل نے چیف جسٹس کو خط لکھا تھا تو اس پر سپریم کورٹ کو توہین عدالت کا نوٹس دینا چاہیے تھا کہ ایک جج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘

جسٹس سردار طارق مسعود نے استفسار کیا کہ 28 جون 2018 کو جرنیل آپ سے ملے لیکن آپ نے 31 جولائی کو چیف جسٹس کو خط لکھا۔ ایک ماہ تک انتظار کیوں کیا؟

جسٹس سردار طارق کے ان سوالات پر شوکت عزیز صدیقی جذباتی ہو کر روسٹرم پر آ گئے اور مشتعل ہوکر بولے کہ ’آپ اس وقت کی صورتحال دیکھیں کہ صورتحال کیا تھی اداروں کے سربراہان میری گردن کے پیچھے تھے۔ ثاقب نثار بھی میری گردن کے پیچھے تھے میں اگر نوٹس جاری کر دیتا تو کیا کچھ ہو جاتا۔ اس کے بعد اگر آپ مجھے پھانسی دیں گےتو دے دیں۔‘

شوکت عزیز صدیقی نے مزید کہا کہ ’23 سال بطور وکیل، سات سال بطور جج اور تین سال بطور سائل ہوگئے ہیں۔ میں اس نظام کو بہت اچھے سے سمجھتا ہوں۔‘ اس پر عدالت کا ماحول ایک دم کشیدہ ہو گیا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کے جذباتی رویے پر اظہار برہمی کیا اور ان کے وکیل سے مخاطب ہو کر کہا کہ حامد خان صاحب آپ نے دانستہ خاموشی اختیار کی ہے۔

’جب آپ کے موکل نے اس عدالت کی تضحیک کی تو آپ خاموش رہے۔‘

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’جس طرح آپ کے موکل پھٹ پڑے یہ ہر لحاظ سے غیر معیاری ہے۔ آپ نے شوکت عزیز صدیقی کی خاموش رہ کر حوصلہ افزائی کی۔‘

حامد خان نے عدالت سے کہا کہ ’معذرت کرتا ہوں، جذبات اکثر آڑے آ جاتے ہیں۔‘

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ’جذبات کی یہاں کوئی جگہ نہیں۔ ہمیں یہ انداز بلکل پسند نہیں آیا۔ آپ اپنے موکل کو اجازت دیتے رہے کہ وہ عدالت کی تضحیک کرتے رہیں۔‘

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اپنے موکل کو سمجھائیں کہ جب ان کے وکیل موجود ہیں تو وہ بات نا کریں۔

انہوں نے وکیل سے کچھ سوالات کرتے ہوئے مزید کہا کہ صرف شوکت عزیز صدیقی کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا گیا؟ آئی ایس آئی کو تنگ کرنے پر جوڈیشل کونسل کیوں کارروائی کرے گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ ’شوکت صدیقی آئی ایس آئی کو تنگ کرتے تھے اس لیے ٹارگٹ کیا گیا۔ ادارے سمجھتے تھے کہ شوکت صدیقی آزاد جج ہیں۔ فیض آباد دھرنا کیس میں ریمارکس پر بھی جوڈیشل کونسل نے شوکاز بھیجا۔‘

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ریمارکس دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ جج آزاد تھے یا پہلے سے ذہن بنایا ہوا تھا۔

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ’فیض آباد دھرنا کیس بار میں تقریر سے پہلے ہوا تھا۔ برطرفی تقریر پر ہوئی دونوں کا آپس میں تعلق نہیں بنتا۔‘ جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال اٹھایا کہ شوکت عزیز صدیقی نے کیا ریمارکس دیے تھے؟

حامد خان نے بتایا کہ شوکت عزیز صدیقی نے فیض آباد دھرنا کیس میں ریمارکس دیے تھے اور ججز سماعت کے دوران آبزرویشن دیتے رہتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے پوچھا کیا شوکت صدیقی نے خود سے منصوب ریمارکس کی تردید کی تھی؟

انہوں نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ نہیں کہا کہ آپ نے تقریر میں سب باتیں غلط کی ہیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے یہ کہا کہ تقریر کرنا غلط تھا۔

شوکت عزیز صدیقی کا موقف ہے کہ بطور جج آپ کا حق ہے جو مرضی کہیں۔ آپ کا موقف یہ ہے کہ ایک جج کو اپنے جذبات کا اظہارکرنا ہو تو وہ اپنے اعتماد کے وکلا کے پاس جا سکتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تقریر اور ریمارکس تسلیم شدہ ہیں جن پر کونسل نے فیصلہ کیا۔ لیکن آپ ہمیں بتا رہے ہیں کہ شوکت عزیز صدیقی پر اس وقت نفسیاتی دباو تھا۔ عدالت نے مزید دلائل کے لیے کیس کی سماعت منگل سات دسمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج شوکت صدیقی کو اکتوبر 2018 میں حساس اداروں کےخلاف تقریر کرنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان