’جنوبی کوریا کی ویڈیوز دیکھنے پر شمالی کوریا میں سات افراد قتل‘

ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کی ویڈیوز دیکھنے اور تقسیم کرنے کے الزام میں سات لوگوں کو عوامی پھانسی دینے کے عمل کی صدارت کی ہے۔

یکم اگست ،2019 کو شمالی کوریا کے براڈکاسٹر کے سی ٹی وی سے لی گئی اس فائلاسکرین گریب تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان 31 جولائی کے اوائل میں شمالی کوریا میں کسی نامعلوم مقام پر بیلسٹک میزائل کی لانچ کو دیکھ رہے ہیں (اے ایف پی/فائل)

ایک انسانی حقوق کی تنظیم نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کی ویڈیوز دیکھنے اور تقسیم کرنے کے الزام میں سات لوگوں کو عوامی پھانسی دینے کے عمل کی صدارت کی ہے۔

سیول میں فعال عبوری جسٹس ورکنگ گروپ نے چھ سال کے دوران شمالی کوریا سے انحراف کرنے والے 683 افراد کے ساتھ انٹرویوز کیے۔

ان میں گروپ نے 27 قتل، جن میں سے بیش تر فائرنگ سکواڈ کے ذریعے کیے گئے، ریکارڈ کیے۔ یہ نشہ آور ادویات کے استعمال، جسم فروشی اور انسانی سمگلنگ جیسے جرائم سے منسلک تھے۔

یہ مئی 2021 میں کیے جانے والے اس دعوے کے بعد سامنے آیا جس میں جنوبی کوریا سے چلنے والے شمالی کوریا مخالف آن لائن لائن اخبار ڈیلی این کے کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کے حکام نے عوامی طور پر ایک آدمی کو اس بات پر پھانسی دی کہ وہ ناجائر طور پر جنوبی کوریا کی فلموں اور موسیقی کی ویڈیوز والی سی ڈیز اور یو ایس بی بیچ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریکارڈ شدہ سات میں سے چھ کیسز میں ملوث افراد کا، جن پر جنوبی کوریا کی فلمیں دیکھنے یا تقسیم کرنے کا الزام تھا، تعلق ریانگ گنگ صوبے کے علاقے ہئیسان سے تھا۔

ان پر 2012 سے 2014 کے دوران ایسا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ جب 2015 میں ریکارڈ شدہ کیس میں ملوث ایک شخص کا تعلق چونگ جن شہر سے تھا جو ہیم گیانگ صوبے میں واقع ہے۔

اس تحقیق کا نام میپنگ کلنگز انڈر کم جونگ ان: نارتھ کوریاز رسپانس ٹو انٹرنیشنل پریشررکھا گیا تھا۔ اس میں مزید سامنے آیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر تنقید کیے جانے بعد پیانگ یانگ نے نجی طور پر سزائے موت دینے کا عمل شروع کر دیا تھا تاکہ یہ اطلاعات باہر نہ نکل سکیں۔

بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مرکزی مصنف پارک اے ییونگ کا کہنا ہے کہ: ’ہماری تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ کم جونگ ان کی حکومت بین الاقوامی تنقید میں اضافے کی وجہ سے انسانی حقوق کے مسائل پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔‘

مصنف کا کہنا ہے کہ: ’اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں انسانی حقوق کی صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ ریاستی قیادت میں قتل و غارت گری ایسے طریقوں سے ہوتی رہی ہے جو پہلے کی طرح عوامی طور پر نظر نہیں آتی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شمالی کوریا نے جیل کیمپوں کے وجود سے انکار کیا ہے اور مغربی ممالک پر الزام لگایا کہ وہ انسانی حقوق کی تنقید کو اس کے خلاف مخالفت کی پالیسی کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

گروپ کا کہنا ہے کہ ماضی میں، شمالی کوریا نے گاؤں اور جیلوں میں پھانسیاں دی ہیں یعنی جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں، تاکہ عوامی طور پر ایک تنبیہ دی جا سکے۔

لیکن شمالی کوریا نے بہت زیادہ آبادی والے رہائشی علاقوں میں پھانسیوں سے گریز کیا تھا، جہاں حکام کو شرکت کرنے والوں پر نظر رکھنے میں دشواری ہوتی تھی۔

 گروپ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنی سرحدوں کے قریب اور ایسی تنصیبات پر پھانسیوں کا انعقاد روک دیا ہے جن کی سیٹلائٹ کے ذریعے آسانی سے نگرانی کی جا سکتی ہے۔

گروپ کے مطابق ’مقامات میں یہ تبدیلی اس بات کی وضاحت کر سکتی ہے کہ ریاست کی کارروائی کس طرح بین الاقوامی برادری کی جانچ پڑتال سے متاثر ہو رہی ہے۔‘


اس خبر میں روئٹرز کی اضافی رپورٹنگ شامل ہے

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا