او آئی سی اجلاس، بحران میں مبتلا افغانوں کے لیے امید کی کرن

آج کا دن اسلامی تعاون تنظیم کے لیے فخر کا دن ثابت ہوگا۔ ایک ایسا ادارہ جس کے بارے میں عموماً منفی تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ عملی اقدامات میں کافی پیچھے ہے۔ یہ تاثر کسی حد تک آج زائل ہوگا۔

یہ دن پاکستان کی افغانستان کے لوگوں کی بہتری کے لیے تگ و دو اور کوششوں کی گواہی دے گا۔ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ اسلام آباد میں سنیچر کو آمد کے موقعے پر  ملاقات کر رہے ہیں (پی آئی ڈی) 

آج کا دن افغانستان کے 3.8 کروڑ لوگوں جن میں ایک شدید انسانی بحران میں مبتلا بوڑھے بچے، خواتین شامل ہیں کے لیے امید کا دن ہے۔

یہ افغان شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جنہیں قحط سالی کا سامنا ہے، جو بےروزگاری اور بیماری کی لپیٹ میں ہیں اور بڑی تعداد میں بےگھر بھی ہیں، جن کو شاید ایک وقت کی روٹی بھی مشکل سے میسر ہے، جن کے بچے اور بوڑھے شدید سردی اور بیماری کی نظر ہو رہے ہیں، ان سب کے لیے ایک پرامید دن ثابت ہوگا۔

آج اسلام آباد میں جمع مسلمانوں کی بین الاقوامی تنظیم او آئی سی کے 57 ممبران جن میں وزرائے خارجہ، سینیئر حکام اور خصوصی ایلچی ایک نہایت اہم اجلاس میں ان افغانوں کی صورت حال پر غور کریں گے۔

او آئی سی کی کونسل آف فارن منسٹرز کا یہ خصوصی اجلاس سعودی عرب نے طلب کیا اور پاکستان اس تاریخی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔

او آئی سی کے اس خصوصی اجلاس میں تمام اہم ممالک جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جاپان جیسے ممالک کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔

ساتھ میں تمام اہم بین الاقوامی ادارے جو افغانستان کی بگڑتی ہوئی انسانی بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں مثلا اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک وغیرہ کو بھی پاکستان نے شمولیت کی دعوت دی۔

اس اجلاس میں 437 غیرملکی مندوبین شریک ہوں گے یعنی تمام وہ ممالک اور ادارے جو کہ افغانستان کی موجودہ معاشی ناکہ بندی کی وجہ بنے یا اس کے خلاف ایک آواز اٹھائے ہوئے ہیں وہ سب اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

ان تمام لوگوں کی موجودگی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ سب مل کر افغانستان کی صورت حال اور بڑھتے ہوئے شدید بحران کا حل تلاش کرنے کے اب حامی ہیں۔

نومبر 18 کو اقوام متحدہ کی افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ڈیبرا لیون نےافغانستان کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

پھر چند روز پہلے 11 امریکی جنریلوں اور سفرا جو افغانستان میں رہ چکے ہیں انہوں نے ایک جریدے میں امریکی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے اقتصادی بحران کو ختم کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرے کیوں کہ یہ امریکہ کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ساتھ ہی یورپ میں بھی اب یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکی پابندیاں بین الاقوامی قانون کے تحت انسانی حقوق کی پامالی نہیں کر سکتیں اور یہ کہ دنیا افغان عوام کی بگڑتی ہوئی حالت زار سے ہرگز کنارہ کشی نہیں کرسکتی۔

جو بات پاکستان نے غنی حکومت کے خاتمے پر ببانگ دہل کہی تھی اس بات کی سمجھ اب دنیا کو آتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

پاکستان کا اصرار تھا کے جہاں افغانستان کی طالبان حکومت پر کچھ پابندی عائد کی جائیں اور اس کو تسلیم نہ کیا جائے وہاں افغانستان کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اہم انسانی اور اقتصادی فیصلے بھی کیے جائیں۔

طالبان پر اس نوعیت کا دباؤ نہ ڈالا جائے جس کے نتیجے میں افغانستان کا معاشی بحران اس سطح تک پہنچ جائے کہ افغانستان بحیثیت ایک ملک کے شدید بحران کا شکار ہو اور وہاں کے لوگ ملک چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوں، ملک کے اندر لاچاری کا سامنا کریں اور ان حالات میں دہشت گردی کو بڑھاوا ملے۔

لیکن اس وقت ایک شدید شکست سے دوچار امریکہ اور اس کے بہت سے مغربی حامی نے افغانستان میں طالبان کی حکومت پر ان گنت پابندیاں لگائیں ہیں۔

آئی ایم ایف نے افغانستان کو ساڑھے چار سو ملین ڈالر کی ادائیگی روک دی ہے اور امریکہ نے افغان حکومت کے نو ارب ڈالر سے زیادہ امریکی بینکوں میں منجمد کر دیے۔

اس سب کے نتیجے میں افغانستان کا بینکاری کا نظام معطل ہوگیا اور جو اربوں ڈالر سالانہ امریکہ سمیت مغربی ممالک اپنی پسندیدہ افغان حکومت کو دے رہے تھے اور اپنی 20 سالہ جنگ کو جاری رکھنے کے لیے ڈالر لا رہے تھے وہ بھی سب روک دیئے گئے۔

اگست 15 کے بعد افغان حکومت کے تمام ملازمین جن کا تعلق چاہیے تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے سے ہو وہ سب بغیر تنخواہ کے کام کر رہے تھے۔ معاشی بدحالی کا یہ بگاڑ اب تک جاری ہے۔

آنے والے دنوں میں ایک معاشی طور پر مفلوج افغانستان میں بھوک بیماری لاچاری اور موت کا راج ہوسکتا ہے اگر فوری طور پر صورت حال کو نہ بدلہ گیا۔

اس کا بدلنا جہاں کسی ایک ملک یا ادارے پر محیط نہیں وہاں امریکہ کا کردار یقینا نہایت اہم ہے۔ آخر امریکی معاشی پابندیوں کے نتیجے میں ہی افغانستان کا بینکاری کا نظام مفلوج ہوا ہے۔

کچھ روز پہلے امریکہ کی اجازت سے جزوی طور پر کچھ نجی بینک اپنا کام شروع کر سکے ہیں لیکن یہ بھی معاملات کا حل نہیں۔

توقع ہے کہ او آئی سی کا خصوصی اجلاس پالیسی کی سطح پر بات چیت کر کے اور باہمی مشاورت کے نتیجے میں افغانستان کی عوام کے حق میں اہم فیصلے کرے گا۔

دو، تین روز سے اہم مندوبین کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی نے متعدد اہم مندوبین سے بھی ملاقات کی ہے۔ ان اہم ملاقاتوں میں ایک ملاقات امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی ٹام ویسٹ سے بھی ہوئی۔

آج کا دن اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے لیے فخر کا دن ثابت ہوگا۔ ایک ایسا ادارہ جس کے بارے میں عموما منفی تاثر پایا جاتا ہے جیسے کہ اس ادارے سے بات چیت کے علاوہ عملی اقدامات کی کم ہی توقع کی جاتی ہے، اس کا افغانستان جیسے انسانی بحران میں الجھے ہوئے ملک کے لیے ایک مثبت کردار ادا کرنا خوش آئند ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نئی افغان حکومت کو بھی او آئی سی کے پلیٹ فارم سے دونوں اقتصادی اور سفارتی سطح پر یقینی فائدہ ہوگا۔

اس سے بڑھ کر زیادہ تر مسلمان ممالک کا بھی اقتصادی بحران میں مغربی ممالک سے مدد کی توقع رکھنا کی روایت بھی ایک شرمندگی کا باعث رہی ہے۔ امید ہے اسلام آباد میں ایک نئی روایت قائم کی جائے گی۔

آج کا او آئی سی اجلاس تنظیم کے رکن ممالک کے لوگوں میں اور شاید انسانی بحران سے نمٹنے والی تنظیموں میں اس کے بارے میں کچھ مثبت سوچ پیدا کرے۔

سوچ سے بڑھ کر او آئی سی بحیثیت ایک تنظیم کے افغانستان کے بحران کو ختم کرنے کے لیے آنے والے دنوں میں ایک عملی کردار بھی ادا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی ساکھ میں بھی بہتری آئے گی۔

جہاں آج کا دن افغانستان کے شہریوں او آئی سی کے لیے مثبت ثابت ہوگا یہ دن پاکستان کی افغانستان کے لوگوں کی بہتری کے لیے تگ و دو اور کوششوں کی گواہی بھی دے گا۔

یہ او آئی سی کا اجلاس پاکستان کی ایک مربوط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، جو پاکستان کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کے افغانستان اور پاکستان جہاں یقینا دو آزاد ملک ہیں وہی ان کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ