ایسا عرس جہاں مسلمان اور ہندو دریا کے آر پار پٹاخے پھینکتے ہیں

صوفی بزرگ عبدالرحمٰن میاں مانک شاہ بادشاہ کے عرس پر منائے جانے والے اس تہوار کو’چلے کلاں‘ کہا جاتا ہے۔ یہ 40 دن کی سخت سردی کی ابتدا بھی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سری نگر کے قدیم علاقے میاں شاہ صاحب کی گنجان گلیوں سے گزر کر جھیل کے کنارے سجی ہوئی ایک چھوٹی سی درگاہ پر لوگوں کی کافی ہلچل ہے۔

اس علاقے کا نام صوفی بزرگ عبدالرحمٰن میاں مانک شاہ بادشاہ کے نام پر رکھا گیا ہے، جنہیں مقامی طور پر میاں شاہ صاحب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو اپنی کرامات کی وجہ سے پندرہویں صدی کے مقبول صوفی بزرگ ہیں۔

مرد، خواتین اور بچے ان کے عرس کے موقع پر جمع ہیں۔ درگاہ کے اندر مردوں اور خواتین کا ایک گروپ شام کو نماز سے پہلے درود پڑھ رہا ہے۔

احاطے میں ایک ہنگامہ برپا ہے، جہاں بچے شام کے لیے تیاری کر رہے ہیں اور وہ بچے  جو جھیل کے پار برف کی گیندوں کو دوسرے علاقے میں پھینکتے تھے، وہ اب بے صبری سے شام کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ پٹاخے پھینکنے کی روایت پر عمل کیا جا سکے۔

اس علاقے کے لوگ دہائیوں سے یہ تہوار منا رہے ہیں۔ ایک مقامی شہری غلام احمد میر نے بتایا کہ اس دن کو کشمیری پنڈت (ہندو برادری کے لوگ) بھی منایا کرتے تھے اور اس موقع پر مزار پر جمع بھی ہوتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تہوار کو’چلے کلاں‘ کہا جاتا ہے، جو ہر سال 21 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔ یہ 40 دن کی سخت سردی کی ابتدا بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندو کلینڈر کے مطابق بھی یہ دن منایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے برسوں پہلے کشمیر چھوڑ دیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ عبدالرحمٰن میاں مانک شاہ بادشاہ کا تعلق پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے تھا اور ایک کشمیری پنڈت انہیں اپنے گھر ٹھہرانے کے لیے لائے تھے۔

پٹاخے پھینکنے کی روایت کے آثار گذشتہ دہائیوں سے موجود ہیں، جب یہ مٹی سے بنے روایتی پٹاخے ہوا کرتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ جھیل کے پار ہندو برادری کے ایک سادھو نے صوفی سے کچھ آگ مانگی اور صوفی نے ان کی طرف آگ پھینکی تھی، چنانچہ اس وقت سے کشمیری مسلمان اور ہندو روایت میں حصہ لیتے تھے۔

ایک مقامی شخص نے یہ بھی بتایا کہ جھیل کے پار ایک دوسرے پر پٹاخے پھینکتے وقت سینکڑوں افراد زخمی بھی ہو جاتے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا