جنوبی وزیرستان میں فائرنگ سے پی پی پی کے رہنما ہلاک

سراروغہ میں ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں سوار مُسلح افراد نے نجیب اللہ کی گاڑی کو روکا، ان سے بات چیت کی اور پھر فائرنگ کر دی۔

نجیب اللہ سیاست کے ساتھ ایک ٹھیکے دار بھی تھے (نجیب اللہ فیس بک پیج)

پاکستان کے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نجیب اللہ محسود کو قتل کر دیا۔

پولیس آفسر نیاز محمد نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ لدھا سب ڈویژن کے علاقے سراروغہ میں ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں سوار مُسلح افراد نے نجیب اللہ کو اس وقت فائرنگ کرکے قتل کردیا جب وہ سراروغہ سے واپس ٹانک جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ نجیب اللہ اپنی ذاتی گاڑی میں سوار تھے کہ مُسلح افراد نے ان کی گاڑی کو روکا، بات چیت کی اور بعد میں فائرنگ کر دی۔

پولیس آفسر کا کہنا تھا کہ مقتول کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ قتل میں کالعم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسند ملوث ہیں لہٰذا وہ طالبان شدت پسندوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کرائیں گے۔

ایک دوسرے پولیس اہلکار نے بتایا کہ نجیب اللہ سیاست کے ساتھ ایک ٹھیکے دار بھی تھے اور سراروغہ میں ان کے کچھ تعمیراتی منصوبے چل رہے تھے۔

پولیس اہلکار کا دعویٰ تھا کہ علاقے میں جاری تمام تعمیراتی کاموں پر طالبان اپنا کمیشن لیتے ہیں اور یہ کہ نجیب اللہ نے کمیشن دینے سے انکار کیا تھا جس پر مبینہ طور پر طالبان نے ان کو گولی مار دی۔

پی پی پی کے صوبائی سٹڈی سرکل انچارج انور زیب نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نجیب اللہ کی قتل بہت افسوس ناک ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قاتلوں کو گرفتار کرکے سزا دے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک بار نہیں بلکہ متعدد بار کہا کہ علاقے کو دہشت گردوں سے صاف کردیا ہے مگر اس باوجود وزیرستان میں دہشت گرد کھلے عام پھرتے ہیں۔

انور زیب کے مطابق نجیب اللہ کی قتل کی ذمہ دار ریاست ہے اور علاقے میں امن قائم کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس واقعے کی تاحال کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ٹی ٹی پی نے خود پر لگے الزام پر فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا۔

ادھر وانا میں موجود شہری شہزاد خان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں ڈاکوں، راہ زنی، چوریوں اور بدامنی میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران نامعلوم افراد نے کاروباری حضرات سے لاکھوں روپے چھینے جس کی وجہ سے کاروباری برادری میں خوف و ہراس ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان