شمالی وزیرستان: نان کسٹم پیڈ گاڑی میں سوار افراد کی فائرنگ، ڈاکٹر قتل

ڈاکٹر زاہد اقبال جو وقوعے پر ڈاکٹر ولی اللہ کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے، انہوں نے ایک آڈیو پیغام  میں بتایا کہ میرعلی بائی پاس پر یہ واقعہ پیش آیا نیز ان کے ساتھ گاڑی میں ان کے بھائی احسان بھی موجود تھے مگر وہ دونوں معجزانہ طور پر بچ گئے۔

(ڈاکٹر ولی اللہ صوابی میں پیتھالوجسٹ تھے۔ دلاور خان وزیر)

شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد نے ایک ڈاکٹر کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ہے جس کے بعد تمام افراد ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں فرار ہوگئے۔

شمالی وزیرستان میں ضلعی پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ ڈاکٹر ولی اللہ گزشتہ رات نو بجے کے قریب پشاور سے میرعلی میں واقع اپنے گاؤں حرمز جارہے تھے کہ میرعلی بائی پاس پر نامعلوم افراد نے ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی سے ان کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق ولی اللہ کو سینے میں گولیاں لگی تھی اور سینے میں لگنے والی گولی ہی موت کی سبب بھی بنی ہے۔

ڈپٹی کمشنر شاہد علی نے انڈپینڈنٹ اُردو کو بتایا کہ ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے البتہ پولیس نے شمالی وزیرستان سے ملنے والے تمام راستوں پر ناکے لگائے ہیں اور مشکوک افراد پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر زاہد اقبال جو وقوعے پر ڈاکٹر ولی اللہ کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے، انہوں نے ایک آڈیو پیغام  میں بتایا کہ میرعلی بائی پاس پر یہ واقعہ پیش آیا نیز ان کے ساتھ گاڑی میں ان کے بھائی احسان بھی موجود تھے مگر وہ دونوں معجزانہ طور پر بچ گئے۔

 مقتول ڈاکٹر ولی اللہ کے کزن ڈاکٹر زاہد اقبال نے مزید بتایا کہ وہ ذاتی گاڑی میں نہیں تھے اور پشاور سے میرعلی جانے والی کرایہ کی ایک گاڑی میں سوار تھے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی دیر میں خطرہ محسوس ہوتا، پانچ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں ڈاکٹر ولی اللہ کو گولی لگ چکی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر زاہد کے مطابق وہ ولی اللہ کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے اور ان کے بھائی احسان اگلی سیٹ پر موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ولی اللہ ڈرائیور کی طرف پچھلی سیٹ پر بیھٹے تھے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھےکہ  فائرنگ شروع ہو گئی۔ 

 ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد وہ گاڑی کے فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور ڈرائیور ہسپتال کی طرف تیزی سے گاڑی  کو بھگا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بہت جلد ہسپتال پہنچے مگر ڈاکٹر ولی اللہ کے سینے پر پیچھے سے جو گولی لگی تھی وہ خطرناک ثابت ہوئی اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ گئے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر ولی اللہ صوابی میں پیتھالوجسٹ تھے اور ان دونوں نے ایک ساتھ میرعلی میں پرائیوٹ کلینک کھولا تھا جہاں دونوں ہفتے اور اتوار کو پرائیوٹ کلینک کے لیے جاتے تھے۔  

سماجی کارکن احسان کے مطابق ڈاکٹر ولی اللہ کا حال ہی میں بنوں سے یہاں ٹرانسفر ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان