نئے چینی سرحدی قانون پر بھارت کو کیا تشویش ہے؟

چین تمام سیکٹرز میں حقیقی لائن آف کنٹرول کے ساتھ سرحدی دفاع کے لیے ’جدید‘ دیہات تعمیر کر رہا ہے اور نیا قانون اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اگرچہ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ قانون بھارت کے لیے نہیں ہے لیکن اس کا کچھ اثر ضرور ہوگا۔

یکم ستمبر 2020 کو لی گئی اس تصویر میں ریاست ہماچل پردیش میں ایک سرنگ مکمل ہونے کے قریب ہے جو چینی سرحد پر فوجیوں کو بھیجنے کے لیے درکار وقت کو کم کر دے گی(فائل تصویر: اے ایف پی)

چین کی قائمہ کمیٹی نے زمینی سرحدوں کے تحفظ کے لیے یکم جنوری سے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے۔

یہ قانون ایک ایسے وقت میں نافذ ہوا جب لداخ میں چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع اب تک حل طلب ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ چین نے اروناچل پردیش میں مزید علاقوں پر تسلط کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے نام بدلے ہیں اور نئی دہلی میں چینی سفارت خانے نے ایک بھارتی وزیر سمیت ان اراکین پارلیمان کو خط لکھے ہیں جنہوں نے جلاوطن تبتی پارلیمان کے ایک عشائیے میں شرکت کی۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کی قائمہ کمیٹی نے ’ملک کی زمینی سرحدوں کے تحفظ اور استحصال سے بچاؤ‘ کے لیے یہ نیا قانون منظور کیا ہے۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا کے مطابق اس معاملے پر حکومت کا موقف ہے کہ ’چین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت مقدس اور ناقابل تسخیر ہے اور ان کے تحفظ کے لیے ریاست کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، نیز قانون ریاست کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ سرحدی علاقوں میں دفاع سمیت معاشی اور سماجی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کرے اور وہاں پبلک سروسز اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو بہتر کرے۔‘

شنہوا پر دیے گئے سرکاری بیان کے مطابق قانون ریاست پر زور دیتا ہے کہ وہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحد سے متعلق معاملات کو بات چیت سے حل کرے تاکہ زمین کے حوالے سے تنازعے یا طویل مدتی سرحدی تنازعات کو حل کیا جا سکے۔

چین نے قانون کیوں متعارف کیا؟

واشنگٹن میں بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق قانون لانے کی ایک وجہ چین کی اپنی زمینی سرحدوں کی حفاظت ہو سکتی ہے، جہاں اسے تنازعات کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق قانون سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ وسطی ایشیا میں اپنے سرحدی علاقوں میں استحکام کے حوالے سے بھی پریشان ہے، خاص طور پر افغانستان کے حوالے سے جہاں طالبان کے کنٹرول کے بعد انتہاپسندی میں اضافے کا خدشہ ہے جس کے اثرات اس کے خطے سنکیانگ پر بھی پڑسکتے ہیں۔

ملک کی سیاست بھی ایک اہم وجہ ہو سکتی ہے کیوں کہ اس قانون سے صدر شی جن پنگ کی مزید مقبولیت اور تیسری بار عہدے پر منتخب ہونے کا بھی امکان ہے۔

اس قانون کا بھارت سے کیا تعلق ہے؟

انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ قانون بھارت کے لیے نہیں ہے، مگر اس کا کچھ اثر اس پر ضرور ہوگا۔

اگرچہ یہ قانون خاص طور پر بھارت کے لیے نہیں ہے لیکن پھر بھی بھارت پر اس کے کچھ اثرات مرتب ہوں گے۔ چین اور بھارت کے درمیان 3488 کلومیٹر طویل متنازع سرحد ہے۔ منگولیا اور روس کے ساتھ ملنے والی یہ سرحد چین کی 14 ملکوں کے ساتھ 22457 کلومیٹر طویل سرحدوں میں سے تیسری طویل ترین سرحد ہے۔

بھارت کے علاوہ بھوٹان (477 کلومیٹر) واحد دوسرا ملک ہے جس کے ساتھ چین کی متنازع زمینی سرحد ہے۔

یہ شبہ بڑھتا جا رہا ہے کہ چین اس نئے قانون کے نفاذ کے لیے مشرقی لداخ کے تعطل پر مزید مذاکرات روک رہا ہو۔ دونوں ملکوں کے کور کمانڈرز کی آخری ملاقات اکتوبر میں ہوئی تھی اور بھارت کو امید تھی کہ چین ہاٹ سپرنگز میں پیٹرولنگ پوائنٹ 15 سے پیچھے ہٹنے پر راضی ہو جائے گا لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔

تاہم کور کمانڈرز کی ملاقات کے بعد مشترکہ بیان تک جاری نہیں کیا گیا جیسا کہ اس سے پہلے کی اکثرایسی ملاقاتوں میں ہوتا رہا ہے۔ راؤنڈ ٹیبل مذاکرات کی تاریخ کا بھی ان خدشات کے ساتھ انتظار کیا جا رہا ہے کہ چینی وفد نئے قانون کا استعمال کرکے اپنے موجودہ ٹھکانوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

پیٹرولنگ پوائنٹ 15 کے علاوہ چین پیٹرولنگ پوائنٹ 10، پیٹرولنگ پوائنٹ 11 اور 11 اے، پیٹرولنگ پوائنٹ 12 اور پیٹرولنگ پوائنٹ 13 پر گشت کی روایتی حدود تک بھارتی رسائی میں رکاوٹ پیدا کر رہا ہے۔ یہ بھی ہوا ہے کہ بعض ’نام نہاد شہریوں‘ نے دمچوک میں حقیقی لائن آف کنٹرول پر بھارت کے علاقے میں خیمے لگا دیے ہیں اور یہ جگہ خالی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ایک اور اہم نکتہ یہ ہوسکتا ہے کہ نیا قانون چین کی اجازت کے بغیر سرحد کے قریب مستقل بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر پابندی لگاتا ہے۔ جب سے تعطل شروع ہوا ہے بھارت اور چین دونوں اس علاقے میں تیزی سے نئی سڑکیں، پل اور دیگر سہولیات تعمیر کر رہے ہیں۔ درحقیقت چین نے پہلے بھی بھارت کے کارکنوں پر اعتراض کیا تھا۔

 نئے قانون کا بھارت اور چین کے تعلقات پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

اس حوالے سے رائے اب بھی منقسم ہے۔ نئے قانون سے قطع نظر بہت کچھ چین کے اقدامات پر منحصر ہے۔ چند ماہرین کا خیال ہے کہ نیا قانون چین کو جاری تعطل کے ساتھ ساتھ وسیع تر سرحدی مسئلے کے حل کے لیے اپنے مؤقف پر جمے رہنے کا موقع فراہم کرے گا۔ چند دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق نیا قانون صرف ایک آلہ ہے جسے چین کی حکومت اگر چاہے گی تو استعمال کرے گی کیوں کہ اس قانون سے پہلے بھی اس کے اقدامات جارحانہ رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تحقیق کرنے والے امریکی ادارے بروکنگز نے نومبر میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا: ’ایسا لگتا ہے کہ بیجنگ سرحدی تنازع اپنی ترجیحی شرائط پر حل کرنے کے ارادے کا اشارہ دے رہا ہے۔ قانون واضح طور پر ارادے کے حوالے سے مجموعی لہجے کا تعین کرتا ہے۔‘

گوتم بمباوالے جو18-2017 کے دوران چین میں بھارت کے سفیر تھے اور بیجنگ کے ساتھ طویل عرصے تک سفارت کاری کر چکے ہیں، نے قبل ازیں دی انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا کہ قانون صرف ’ظاہری بات کو بیان کرتا ہے۔‘ کیونکہ ہر ملک اپنی علاقائی سلامتی کی حفاظت میں مصروف ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ آپ کا علاقہ ہے کون سا اور یہاں ہم ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مشرقی لداخ میں اپنے اقدامات کے ذریعے ’چینی واضح طور پر اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ سرحدی یا حقیقی لائن آف کنٹرول کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ اشارہ کر رہے ہیں کہ وہ مسئلہ طاقت کا استعمال کرکے حل کریں گے۔‘

حال ہی میں بھارتی فوج سے ریٹائر ہونے والے میجر جنرل اشوک کمار نے دسمبرمیں تھنک ٹینک سینٹر فار لینڈ وارفیئر سٹڈیز کے لیے ایک مختصر تحریر میں لکھا کہ نیا قانون ’چین کی جانب سے بھارت اور بھوٹان کے ساتھ علاقائی حدود کا یک طرفہ طور پر تعین اور حد بندی کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔‘

اس قانون میں بھارت کے لیے بہت زیادہ مضمرات ہیں۔ متنازع زمینی سرحدوں کے ساتھ اور ان کے اندر تیزی سے 624 ’جدید‘ دیہاتوں کی تعمیر کے پیش نظر یہ مسئلہ خالصتاً فوجی طریقے سے حل کرنے سے زیادہ قومی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی نے ’سرحدی تنازع فوجی طور پرحل کرنے کے حالات پیدا کر دیے ہیں۔‘

یہ دیہات کیا ہیں اور نئے قانون سے ان کا کیا تعلق ہے؟

چین تمام سیکٹرز میں حقیقی لائن آف کنٹرول کے ساتھ سرحدی دفاع کے لیے ’جدید‘ دیہات تعمیر کر رہا ہے اور نیا قانون اس عمل کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ چین کے صدر شی نے گذشتہ جولائی میں بھارتی ریاست ارونا چل پردیش کی سرحد کے قریب تبت میں واقع گاؤں کا دورہ کیا تھا۔ قانون کے اعلان سے بھی پہلے اکتوبر میں مشرقی فوجی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل منوج پانڈے نے جو سکم سے لے کر اروناچل پردیش تک 1346 کلومیٹر طویل حقیقی لائن آف کنٹرول کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ہیں، نے کہا تھا کہ ’ان کی پالیسی یا حکمت عملی کے مطابق ماڈل دیہات سرحد کے قریب تعمیر کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے لیے یہ تشویش کی بات ہے کہ وہ ان تنصیبات اور دیہات کا فوجی اور سول دونوں طرح کے مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کر سکتے ہیں۔‘

بھارتی فوج کے سابق ناردرن کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہودا نے دی انڈین ایکسپریس کو قبل ازیں بتایا تھا کہ ’اگر آپ (چین) دوسری طرف کی آبادی کو سرحد پار پھیلانا شروع کرتے ہیں، جسے ہم (بھارت) محسوس کرتے ہیں کہ وہ ہماری سرحد ہے تو بعد کے کسی مرحلے پر جب بھی وہ آئے، جب آپ دو فریقوں کے درمیان سرحد کے معاملے بات چیت شروع کرتے ہیں تو وہ (چین) کہیں گے کہ اس علاقے میں ہمارے لوگ آباد ہیں۔‘ تاہم بمباوالے کا کہنا تھا کہ چین بہرحال ایسا کر رہا ہے۔ ’قانون ایسا کرنے کے قابل ہونے کے لیے ضروری شرط نہیں ہے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا