’اپنے سی ایم کو شکریہ کہنا‘: نریندر مودی مظاہرین کے درمیان پل پر پھنس گئے

بھارتی پنجاب میں 20 منٹ تک مظاہرین کے درمیان پھنسے رہنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے ہوائی اڈے پر پہنچنے پر حکام کو کہا کہ کانگریس کے وزیر اعلیٰ کو ’شکریہ کہنا کہ میں زندہ لوٹ آیا۔‘

وزیر اعظم نریندر مودی 13 دسمبر کو وراناسی میں ایک تقریب کے دوران۔ وہ پانچ جنوری کو پنجاب میں مظاہرین کے ایک  ہجوم میں پھنسے رہے جسے ’بڑی سکیورٹی کوتاہی‘ قرار دیا جا رہا ہے (اے ایف پی)

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بدھ کو مشرقی پنجاب میں مظاہرین نے 15 سے 20 منٹ تک ایک فلائی اوور پر پھنسائے رکھا جسے سکیورٹی میں کوتاہی قرار دیا جا رہا تھا۔

نریندر مودی بٹھنڈا میں ایک یادگار کا دورہ کرنے جا رہے تھے۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سفر کرنا تھا مگر موسم کی خرابی کی وجہ سے سڑک سے جانا پڑ گیا۔

اسی موقعے پر احتجاج کرنے والے کسانوں نے ان کا راستہ روک دیا۔ مظاہرین ایک ایسے وزیر کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے جس کے بیٹے پر کسانوں کی اموات کا الزام لگایا گیا ہے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کی سکیورٹی میں یہ ایک ’بڑی کوتاہی‘ تھی۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے فیروز پور میں ایک انتخابی ریلی سے بھی خطاب کرنا تھا۔

لیکن وزارت داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم کا قافلہ حفاظت میں کوتاہی کی وجہ سے واپس لوٹ آیا۔

مظاہرین جونیئر وزیر داخلہ اجے مشرا کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے جن کے بیٹے کو آٹھ افراد کی ہلاکت کے واقعے میں موردالزام ٹھہرایا گیا ہے۔

2021 میں اجے مشرا سے منسلک ایک کار اترپردیش میں احتجاج کرنے والے کسانوں پر چڑھا دی گئی تھی جس میں چار افراد ہلاک ہو گئے تھے، جس کے بعد ہونے والے فسادات میں مزید چار افراد مارے گئے۔

کسانوں نے الزام لگایا کہ اس حملے کے پیچھے اجے مشرا کے بیٹے آشیش مشرا کا ہاتھ تھا لیکن وہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اخبار انڈین ایکسپریس کے مطابق مظاہرین کی تعداد چار سے پانچ سو کے درمیان تھی، جن کی وجہ سے نریندر مودی کی گاڑی 15 سے 20 منٹ تک بٹھنڈا کے ایک پل پر رکی رہی۔

’اپنے سی ایم کو تھینکس کہنا‘

بھارتی خبررساں ادارے اے این آئی نے ٹویٹ کی کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بٹھنڈا ایئر پورٹ واپسی پر وہاں کے حکام سے کہا، ’اپنے سی ایم کو تھینکس کہنا کہ میں بٹھنڈا ایئرپورٹ تک زندہ لوٹ پایا۔‘

سوشل میڈیا پر اس واقعے پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے اور بہت سے لوگوں نے پنجاب کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس واقعے میں ان کا ہاتھ تھا۔ ٹوئٹر پر کئی صارفین نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی۔

امن کور نامی ایک صارف کو اس واقعے میں کچھ اور نظر آ گیا۔ انہوں نے ٹویٹ کی، ’کسانوں کا احتجاج پرامن تھا، سکیورٹی کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ بی جے پی نے 70 ہزار لوگوں کا بندوبست کیا تھا، لیکن صرف 700 آئے۔ شاید وزیرِ اعظم کے واپس جانے کی یہی وجہ تھی۔‘

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا