مودی حکومت نے جمہوریت کا سبق سات سال بعد سیکھا: ششی تھرور

بھارتی پارلیمانی ممبر اور 23 سے زائد کتابوں کے مصنف ششی تھرور کا ’دی انڈپینڈنٹ‘ کے لیے اپنی خصوصی تحریر میں کہنا ہے کہ ’مودی سرکار نے جو سبق سیکھا، وہ یہ ہے کہ جمہوریت صرف الیکشن جیتنے کا نام نہیں، افسوس کی بات ہے کہ سات سال دیر سے سیکھا۔‘

بھارتی کسانوں کی احتجاجی مہم کے دوران ایک کسان دیوار پر بنی گریفٹی کے پاس سے گزر رہا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تین متنازع زرعی قوانین کو منسوخ کرنے  کے فیصلے سے ہندوستانی سیاست میں صدمے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہ قوانین ملک گیر احتجاج کا باعث بنے تھے۔

ایک ایسی انتظامیہ جس نے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی میں جلد بازی کی، اختلاف رائے کو دبانے کے لیے اپنی وحشیانہ اکثریت کا استعمال کیا اور کسانوں کی جانب سے ملکی دارالحکومت کے گھیراؤ اور پھر اپنے قوانین پر ہونے والی تمام تنقیدوں کے خلاف سختی سے مذاحمت کی تھی، وہ انتظامیہ اچانک پیچھے ہٹ گئی ہے اور ایسا حالیہ دور میں پہلی بار ہوا ہے۔

ایک سطح پر حکومت کی پسپائی کی وجہ سیاسی ہے۔ پانچ بھارتی ریاستوں میں فروری اور مارچ میں انتخابات ہونے کا امکان ہے، اور ان میں سے تین – پنجاب، اتر پردیش اور کچھ حد تک اتراکھنڈ،  زرعی قوانین کے خلاف احتجاج سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

مودی کی بی جے پی پارٹی کو احساس ہوا کہ وہ سخت مشکل میں ہے، کیونکہ کسان اور سول سوسائٹی ان کے خلاف بڑے پیمانے پر متحرک ہوگئی ہے۔ بی جے پی نے ووٹروں کے خون خرابے کو روکنے کے لیے سیاسی ضرورت کے تحت یہ اقدام اٹھایا۔

 کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بعد والی دو ریاستوں میں مودی کی حکومت کامیاب ہوجائے گی، جہاں بی جے پی کو امید ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو بے اثر کر لے گی۔

ہوسکتا ہے کہ پنجاب کے سکھ کسانوں کے لیے بھی کوئی حکمت عملی ہو۔ ایک ایسا حلقہ جہاں مودی نے حال ہی میں گرودواروں (سکھوں کی عبادت گاہوں) کے دورے کیے اور سکھ کیلنڈر کے سب سے مقدس دن، گرو پورب، گرونانک کے جنم دن کے موقع پر اعلان بھی کیا ہے۔

بہت سے لوگوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ سکھوں سے بیگانگی، اور حکمران جماعت کے معذرت خواہوں کی طرف سے انہیں ’خالصتانی‘ کے طور پر شیطانی شکل دینے کی احمقانہ کوششیں، پرانی علیحدگی پسند تحریک کی راکھ کو بحال کرنے میں مدد کر سکتی ہیں، جس کے ساتھ پاکستان بیرون ملک سکھ عسکریت پسندی کی سرپرستی کے ذریعے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب پنجاب کے انتخابات کے قریب ہیں۔

کچھ لوگوں نے وزیراعظم کے بیان میں تاخیر کو غلطی کے اعتراف کے طور پر لیا۔

لیکن یہ اس انتظامیہ کے لیے حد سے زیادہ سخاوت ہے جس نے کسانوں پر حملہ کیا، گرفتار کیا اور ان کی تذلیل کی، رکاوٹوں، خندقوں اور واٹر کینن کے ذریعے دہلی میں ان کے داخلے پر پابندی لگا دی، اور انہیں دھوکے بازاور ملک دشمن قرار دیا۔

کسانوں کے حالیہ احتجاج کے دوران ایک مرکزی وزیر کی گاڑی کے ذریعے چار کسانوں کی وحشیانہ موت کے بعد قوم ابھی تک سنبھل نہیں پائی۔

کسانوں کے ساتھ مذاکرات، زرعی سبسڈی، فصلوں کی کم از کم امدادی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا وعدہ اور پاکستان جانے کے لیے کرتار پور راہداری کھولنے کے باوجود، حکومت اس نقصان کو پورا نہیں کر پائی جو پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جلد بازی سے ہوا تھا۔

مودی کی بی جے پی نے اپنی اکثریت کو اختلاف رائے کے لیے استعمال کیا، زرعی یونینوں کے ساتھ زبردستی سے نمٹا اور قوانین کا سختی سے دفاع کیا۔ آخر میں، ناقابل تلافی سیاسی نقصان کو روکنے کے لیے قوانین کی منسوخی ہی واحد راستہ تھا۔

وزیر اعظم نے زرعی قوانین پر ایک ایسے وقت میں معافی مانگی ہے جب حکومت تمام محاذوں پر ناکام ہو رہی ہے۔

بھارت قیمتوں کے حوالے سے ایک حساس ملک ہے، اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، حکومت کے تیل پر زبردستی ٹیکسوں کی وجہ سے دیگر اشیا پر اثر پڑا ہے۔ بے روزگاری اب تک کی بلند ترین سطح پر ہے۔ حکومت کی بیان بازی کے باوجود معاشی ترقی اب بھی رکی ہوئی ہے۔

یہ تازہ ترین پیشرفت یقینی طور پر اس غلطی کی تصویر میں سوراخ کر دے گی جس کو مودی توا کے علم بردار دکھانا چاہتے ہیں۔

لیکن اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی لیبر قوانین سے لے کر حصول اراضی تک اپنے اقدام پر قوم اور اپوزیشن کو قائل کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔

کم سے کم بحث کے بغیر قوانین کو بلڈوز کرنا ، سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں، پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے پاس بلوں کا کوئی حوالہ نہیں، اور کوئی بھی لابنگ نہیں جو پچھلی حکومتوں نے نئی پالیسیوں کو منظور کروانے کیلئے کرنے کی کوشش کی تھی، زرعی قوانین کے متعلق سامنے آئی اور حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

اقتصادی اصلاح پسندوں کو تشویش ہے کہ زرعی قوانین کی واپسی بھارتی سیاست کی قلیل مدتی ضرورت کے پیش نظر اصلاحی کوششوں کی ایک اور ناکامی کا اشارہ ہے۔

 ان کے خیال میں، یہ بھارت کے لیے ایک مسئلہ ہے کہ اپنے ذاتی مفادات کا دفاع کرنے والے مشتعل افراد کا ایک پرعزم گروپ ان اصلاحات کو پٹڑی سے اتار سکتا ہے جس سے مجموعی طور پر معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ: ’کوئی بھی شخص جو چند ہزار لوگوں کو اکٹھا کر کے قومی شاہراہ کو غیر معینہ مدت کے لیے بلاک کر سکتا ہے، وہ اکثریتی حکومت کے خلاف راستہ اختیار کر سکتا ہے۔‘

یہ سچ ہے کہ ڈیموں سے لے کر تیز رفتار ریلوے تک کے مختلف ترقیاتی منصوبے ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی مخالفت کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں یا وقفے وقفے سے تاخیر کا شکار ہیں۔ حصول اراضی کے قوانین کو پہلے ہی ختم کر دیا گیا تھا جب حکمراں جماعت کے حامیوں نے بھی انکار کر دیا تھا۔

 ایندھن کے متبادل کے طور پر جوہری توانائی کو ہر اس علاقے کے لوگوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں ایسے پلانٹس لگانے کی تجویز ہے۔

 تعمیراتی سرگرمیوں کو کھدائی اور ریت کی کان کنی کے مخالفین کی طرف سے سنگین چیلنجوں کا سامنا ہے۔ ماحولیاتی کارکن اکثر نئے تعمیراتی اقدامات کے خلاف مقدمات دائر کرتے ہیں، جن کی عدلیہ اور خاص طور پر نیشنل گرین ٹریبونل سے ہمدردانہ سماعت ہوتی ہے۔

لیکن یہ چیلنجز ایک منحرف جمہوریت میں ناگزیر ہیں جہاں کسی بھی بامعنی تبدیلی کی تکمیل سے قبل متعدد سیاسی مفادات کو مشاورتی عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔

 مودی سرکار نے جو سبق سیکھا، وہ یہ ہے کہ جمہوریت صرف الیکشن جیتنے کا نام نہیں ہے اور نہ آپ کو جیسا چاہیں ویسا کرنے کا لائسنس ملتا ہے۔

جمہوریت اس بارے میں ہے کہ انتخابات کے درمیان کیا ہوتا ہے۔ رابطے، مشاورت اور سمجھوتہ کا مستقل عمل جس کے ذریعے جمہوری تبدیلی کی جاتی ہے۔ جس میں حکمران جماعت نااہل ثابت ہوئی ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ مودی حکومت نے یہ سبق سات سال دیر سے سیکھا۔ زرعی قوانین کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، لیکن کوئی بھی مذاحمت کے دوران مظاہرین کی 700 جانوں کی تلافی نہیں کر سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تباہ کن نوٹ بندی اور دیگر سنگین غلطیاں، جس نے بھارت کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو ڈھائی فیصد تک گرا دیا۔

انتہائی ضروری اشیا اور سروسز ٹیکس کےغلط نفاذ نے ترقی کی بعد کی کوششوں کو روک دیا۔ سبھی کے نقصان دہ نتائج تھے جن کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ قوانین کو منسوخ کرنے سے کسانوں کا مودی حکومت میں اعتماد بحال ہو گا اور سکھوں کی بے اطمینانی ختم ہو جائے گی۔ 2024 کے عام انتخابات میں صرف ڈھائی سال باقی رہ جانے کے ساتھ، حکمران جماعت کی مقبولیت بھی کم ہو سکتی ہے۔

اب اپوزیشن کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ وہ دوسرے غیر مقبول فیصلوں کو چیلنج کرے، جیسا کہ متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ کی منسوخی۔ جسے بھارت کے مسلمانوں کو بےاختیار کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

مودی حکومت کی میعاد کے بقیہ ڈھائی سال مسائل سے بھرے ہوئے ہیں۔


نوٹ: ششی تھرور بھارت کے سابق بین الاقوامی سفارت کار رہ چکے ہیں۔ وہ سیاست دان، مصنف اور دانشور بھی ہیں جو سال 2009 سے بھارتی لوک سبھا کے رکن ہیں۔

مضمون میں شامل آرا سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا