مودی کو خوش آمدید کہنے نہیں احتجاج کرنے آئے ہیں: مظاہرین

وزیر اعظم نریندر مودی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھارتی نژاد سکھوں، مسلمانوں اور مسیحی برادری نے احتجاج کیا ہے۔

نیویارک میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا، جہاں بھارتی حکومت اور مودی کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

مظاہرے میں بھارتی نژاد سکھوں اور مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری بھی شریک ہوئی۔

مظاہرین بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی شدت پسندی پر مبنی پالیسیوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

اس کے علاوہ بھارت میں زراعت سے متعلق متعارف کرائی گئی متنازع اصلاحات کے خلاف بھی سکھ برادری نے احتجاج کیا۔

مظاہرے میں شریک بھارتی نژاد سکھ جپنیت سنگھ نے کہا کہ وہ وزیر اعظم مودی کو خوش آمدید کہنے کے لیے نہیں بلکہ یہ بتانے آئے ہیں کہ وہ سراپا احتجاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’اکیلے سکھ ہی نہیں بلکہ ہمارے مسلمان بہن بھائی، ہمارے مسیحی بہن بھائی، ہمارے ہندو بہن بھائی۔ سب اس حکومت کی وجہ سے ظلم برداشت کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روچرز نامی ایک بھارتی نژاد مسیحی خاتون بھی احتجاج کا حصہ تھیں، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اقلیتوں سے بھارتی حکومت کے سلوک کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’مجھے بہت مایوسی ہے کہ بھارتی حکومت خصوصاً بھارتیہ جنتا پارٹی اقلیتوں کو نشانہ بنا رہی ہے، خصوصاً مسیحوں اور مسلمانوں کو۔ وہ عمارتوں میں گرجا گھروں میں داخل ہو جاتے ہیں، تباہی پھیلاتے ہیں، لوٹ مار کرتے ہیں اور جنسی زیادتی اور لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔‘

احتجاج میں شریک بھارتی نژاد مسلمان عائشہ نے بتایا: ’بھارت میں مسلمانوں کے خلاف جو سلوک ہو رہا ہے وہ الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ سر عام کوڑے مارے جا رہے ہیں۔ زبردستی مذہب تبدیل کروایا جا رہا ہے اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے والوں کو انتخابی ڈھونگ کے نام پر گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنرل اسمبلی میں لفظی جھڑپوں کی گونج اس وقت سنائی دی تھی جب جمعے کی شب عمران خان نے بھارتی حکومت پر مسلمانوں کے خلاف ’دہشت کا راج‘ نافذ کرنے الزام لگایا تھا۔

دوسری جانب نریندر مودی نے ہفتے کو اپنے خطاب میں کسی ملک کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ یہ یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گردی پھیلانے اور دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا