بی ایم ڈبلیو نے رنگ بدلنے والی پہلی گاڑی متعارف کروا دی

بی ایم ڈبلیو آئی ایکس فلو کہلانے والی یہ کار ایک ایپ پر بٹن دبانے سے اپنا بیرونی رنگ سفید اور سرمئی میں تبدیل کرنے کے لیے الیکٹرانک انک ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے۔

جرمنی کی کار ساز کمپنی بی ایم ڈبلیو نے امریکی شہر لاس ویگاس میں ہونے والے کنزیومر الیکٹرانکس شو میں دنیا کی پہلی ’رنگ تبدیل کرنے والی‘ گاڑی متعارف کروا دی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بی ایم ڈبلیو آئی ایکس فلو کہلانے والی یہ کار اپنا بیرونی رنگ سفید اور سرمئی میں تبدیل کرنے کے لیے الیکٹرانک انک (ای انک) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتی ہے جو عام طور پر ای ریڈرز(آن لائن پرھنے کے لیے استعمال ہونے والے ٹیبلیٹس) میں پائی جاتی ہے۔

بی ایم ڈبلیو کی ریسرچ انجینئر سٹیلا کلارک نے گاڑی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ ای انک ٹیکنالوجی کے استعمال سے توانائی کی بچت کرتے ہوئے رنگ تبدیل کرتی ہے۔ ہم نے یہ مواد لیا، جو ایک موٹا کاغذ ہے، اور ہمارا چیلنج یہ تھا کہ ہم اسے اپنی کاروں کی طرح تھری ڈی ماڈل پر لائیں۔‘

موبائل ایپ سے کنٹرول ہونے والے الیکٹریکل سگنلز ملتے ہی یہ مواد مختلف رنگوں کو(کار کی) سطح پر لے آتا ہے، جس کی وجہ سے کار کا رنگ یا ڈیزائن تبدیل ہوجاتا ہے، جیسے کہ ریسنگ کار پر بنی ترچھی دھاریاں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سٹیلا کلارک نے کہا کہ مستقبل میں رنگ کو کار کے ڈیش بورڈ پر لگے بٹن یا ہاتھ کے اشارے سے بھی تبدیل کیا جا سکے گا۔ بی ایم ڈبلیو کے مطابق ڈرائیور کے منتخب کردہ رنگ کو تبدیل کرنے کے لیے کسی توانائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔

بی ایم ڈبلیو کی ریسرچ انجینئر نے کہا: ’میں ایسے رنگ کا استعمال پسند کرتی ہوں جو سورج کی روشنی کو منعکس کر سکے۔ شدید گرم دن میں جب سورج نکلا ہو تو آپ رنگ کو سفید میں تبدیل کر سکتے تاکہ سورج کی روشنی کو منعکس کیا جا سکے۔ اور سردی والے دن اس کو سیاہ کر سکتے ہیں تاکہ وہ گرمی کو جذب کرسکے۔‘

جو گاڑی کنزیومر الیکٹرانکس شو میں نمائش کے لیے پیش کی گئی تھی وہ صرف سرمئی اور سفید رنگ میں تبدیل ہو سکتی تھی، تاہم بی ایم ڈبلیو کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں مزید کئی رنگوں کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی