پی ٹی ایم کے وکیل کا گھر پر چھاپے کا دعویٰ، پولیس کا لاعلمی کا اظہار

وکیل قادر خان کا دعویٰ ہے کہ باوردی اہلکاروں نے گذشتہ شب ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر والوں کو ہراساں کیا، تاہم پولیس کے مطابق انہیں ایسے کسی چھاپے کی اطلاع نہیں، نہ ہی متاثرہ خاندان نے اسے رپورٹ کیا ہے۔

قادر خان نے کہا ہے کہ گذشتہ شب کچھ باوردی اہلکاروں نے ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کرنے کے ساتھ گھروالوں کو ہراساں کیا (تصویر: ایڈووکیٹ قادر خان)

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنماؤں پر درج مقدمات کی عدالتی پیروی کرنے والے وکیل قادر خان ایڈووکیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ باوردی اہلکاروں نے ان کے گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور گھر والوں کو ہراساں کیا، تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو ایسے کسی چھاپے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔

یہ واقعہ مبینہ طور پر قادر خان کی کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع رہائش گاہ پر گذشتہ رات دیر سے پیش آیا، اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اہلکار وکیل کے ایک بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے قادر خان ایڈوکیٹ نے بتایا کہ وہ کسی کام سے ضلع سانگھڑ گئے ہوئے تھے جب جمعرات کو رات گئے ان کے بیٹے نے انہیں ٹیلی فون کیا۔

ان کا کہنا تھا: ’بیٹے نے بتایا کہ کچھ اہلکار گھر میں گھس آئے تھے اور توڑ پھوڑ کے ساتھ بچوں کے سکول بیگ کی بھی تلاشی لے رہے تھے۔ اہلکاروں نے گھر والوں کو ہراساں بھی کیا۔‘

 

قادر خان ایڈووکیٹ کے مطابق اہلکار تین موبائل گاڑیوں اور ایک جیمر والی گاڑی میں آئے تھے۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے رات کو ہی متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو ٹیلی فون کیا، مگر ایس ایچ او نے کہا ان کو چھاپے کے متعلق معلوم نہیں۔ صبح میں نے دوبارہ پولیس اور پیراملٹری سے معلوم کیا، مگر دونوں نے کہا کہ ان کو اس سے متعلق نہیں معلوم کہ چھاپہ کس نے اور کیوں مارا۔‘ 

جب ان سے پوچھا گیا کہ اس طرح گھر پر چھاپے کی کیا وجوہات ہوسکتی ہیں، تو انہوں نے کہا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہیں اور نہ ہی انہوں نے کچھ کیا ہے۔

قادر خان نے کہا: ’میرے خیال میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مقدمات کی پیروی ہی ممکنہ طور پر اس کا سبب ہوسکتی ہے۔‘

پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں دعویٰ کیا کہ چھاپے کے بعد اہلکار قادر خان کے بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قادر خان کے بیٹے کو رہا کیا جائے۔ 

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سابق سیکریٹری جنرل اور سابق سینیٹر افراسیاب خٹک نے بھی قادر خان کے گھر پر مبینہ چھاپے کی مذمت کی۔ 

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں افراسیاب خٹک نے کہا: ’کراچی میں وکیل قادر خان کے گھر پر چھاپہ اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا جانا قابل مذمت اقدام ہے، اور سندھ کی صوبائی حکومت کو اس بارے میں اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔‘ 

پی ٹی ایم کراچی نے واقعے کے خلاف جمعے کی شام کو کراچی پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا، جس دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ قادر خان کے بیٹے کو رہا کیا جائے۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے قادر خان کے چھوٹے بیٹے حماد خان نے کہا کہ ان کے والد گھر پر نہیں تھے، اور چھاپہ مارنے والے اہلکار ان کے بڑے بھائی اسد خان کو اپنے ساتھ لے گئے، جن کو تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔

حماد خان نے مزید کہا کہ واقعے کے فوری بعد انہوں نے 15 پر کال کی مگر کوئی جواب دیے بغیر فون کاٹ دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قادر خان ایڈووکیٹ کراچی میں پی ٹی ایم کے رہنماؤں بشمول علی وزیر، پی ٹی ایم کے سربراہ منظور پشتین، رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، محمد شفیع اور ہدایت اللہ پشتین سمیت کئی ارکان پر دائر تمام پولیس مقدمات کی عدالتی پیروی کررہے ہیں۔ 

کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ، ملیر سمیت مختلف علاقوں میں پی ٹی ایم قیادت پر درج مقدمات کی ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور انسداد دہشتگردی کی عدالتوں میں چلنے والے کیسز کی پیروی بھی قادر خان کرتے ہیں۔ 

حال ہی میں انہوں نے پی ٹی ایم رہنما علی وزیر پر درج بغاوت کے مقدمے میں سپریم کورٹ سے ضمانت منظور کروائی تھی۔

جب پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واقعے کے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

نیو ٹاؤن تھانے کے ایک افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میرے علم میں نہیں ہے کہ ایسا کوئی چھاپہ پڑا ہو یا کسی خفیہ ادارے نے ایسے چھاپے کے بارے میں ہمیں آگاہ کیا ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’نہ ہی متاثر ہونے والے خاندان نے تاحال ہم سے رابطہ کرکے واقعے کو رپورٹ کیا ہے۔‘

جب اس حوالے سے قادر خان سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا: ’ہم نے واقعے کے متعلق درخواست نیو ٹاؤن تھانے کی پولیس کو دے دی ہے، مگر اس پر کوئی کارروائی تاحال نہیں ہوسکی ہے۔ اب میں عدالت میں پٹیشن داخل کروں گا۔‘

بیٹے کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا وہ اب تک واپس نہیں آیا۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان