ایک افغان خاتون کی خواہش: ’میں پاکستانی ہوتی تو کرکٹ کھیلتی‘

خیبر پختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم خزانہ کیمپ میں رہنے والی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ اگر وہ افغان نہ ہوتیں تو انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوتے جو باقی دنیا میں خواتین کو حاصل ہیں۔

خیبر پختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے لیے قائم خزانہ کیمپ میں رہنے والی ایک خاتون نے شکوہ کیا ہے کہ اگر وہ افغان نہ ہوتیں تو انہیں وہ تمام حقوق حاصل ہوتے جو باقی دنیا میں خواتین کو حاصل ہیں۔

خزانہ کیمپ میں رہنے والی صدف کہتی ہیں کہ باقی دنیا کی خواتین کی طرح وہ بھی اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتی ہیں اور انہیں بھی باہر کی دنیا دیکھنے کا شوق ہے۔

پاکستان میں ایک اعشاریہ چار ملین سے زائد رجسٹرڈ افغان پناہ گزین موجود ہیں جو افغانستان میں جاری شورش کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

ان کی اکثریت 1979 میں سوویت یونین کے حملوں کے بعد تقریباً 40 سال پہلے پاکستان میں داخل ہوئی تھی۔

 25 سالہ افغان خاتون صدف کے والدین نے بھی اسی طرح پاکستان ہجرت کی اور تب سے وہ اس کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

صدف آٹھویں جماعت تک تعلیم کر پائی ہیں اور کرونا کی وبا سے پہلے کیمپ کے ایک سکول میں بطور کمیونٹی ٹیچر تین ہزار ماہانہ تنخواہ پر پڑھاتی تھیں، لیکن جب کرونا کے دوران سکول بند ہو گئے تو ان کی نوکری بھی چلی گئی اور وہ گھر بیٹھ گئیں۔

وہ اس ساری صورت حال کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’میں ایک افغان خاتون ہوں اور  ہمیں بچپن سے ہی مختلف ہنر سکھائے جاتے ہیں لیکن جو خواتین کیمپوں میں رہ رہی ہیں وہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر ہنر جانتی ہیں، کیونکہ یہاں اتنی سہولیات نہیں ہیں۔‘

صدف کہتی ہیں کہ انہیں اپنے افغان ہونے پر فخر ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایک شکوہ بھی کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میں افغان نہ ہوتی تو میں نرسنگ کرتی، میری کرکٹ ٹیم میں حصہ لینے کی خواہش تھی، لیکن میں افغان ہوں تو ہمیں اتنا حق اور حصہ نہیں ملتا۔‘

صدف کا مزید کہنا ہے کہ ’ہمارے کلچر میں خواتین کو ان کے حقوق نہیں دیے جاتے اور انہیں اتنی آزادی نہیں کہ وہ ملازمت کے لیے باہر جا سکیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’کبھی کبھی جب میں پاکستانی لڑکیوں کو مختلف کھیل کھیلتے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ اگر میں پاکستانی ہوتی تو کرکٹ کھیلتی اور شاید انٹرنیشنل کھلاڑی بن جاتی۔‘

صدف نے کرونا لاک ڈاؤن کے دوران سلائی کا کام شروع کیا اور اس سے کمانا شروع کیا۔ پھر انہیں کسی نے ماسک بنانے کا کہا تو انہوں نے کرونا سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والے ماسک بنانا سیکھا اور اپنے کیمپ کی دوسری خواتین کو بھی سکھایا۔

صدف کہتی ہیں کہ ’جس طرح کرونا میں میری نوکری گئی اور میں نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ماسک بنانا شروع کیے اور اس سے مجھے فائدہ بھی ہوا۔ اسی طرح میں ان خواتین کے لیے بھی کچھ کرنا چاہتی ہوں۔‘

’ان کو بھی اسی طرح ہنر سیکھنے چاہییں تاکہ وہ برے وقت میں ان کے کام آسکیں، جیسے میرے والد بیمار ہیں اور بھائی بھی چھوٹا ہے لیکن اپنی مہارت کی وجہ سے میں پورے گھر کے لیے کما رہی ہوں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اگر میں زیادہ پڑھی لکھی ہوتی اور نرس یا ڈاکٹر ہوتی تو میں اس سے زیادہ مدد کر سکتی تھی، جس طرح میں اب خواتین کی مدد کر رہی ہوں۔‘

صدف نے افعان مردوں کے لیے اپنے پیغام میں کہا: ’میں افغان مردوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دیں اور عورتوں پر سختی نہ کریں کیونکہ اسلام میں بھی تعلیم پر زور دیا گیا ہے اور تشدد سے منع کیا ہے۔‘

صدف ’آئیڈیا‘ نامی ایک این جی او کے تحت یہ سب کام کر رہی ہیں، جو خیبرپختونخوا میں پناہ گزینوں کے لیے کام کرتی ہے۔

’آئیڈیا‘ کے کے ڈائریکٹر عماد کا کہنا ہے کہ ’ہماری کوشش ہے کہ ہم ان افغان خواتین کو مختلف ہنر سکھائیں تاکہ وہ اس سے اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کچھ کمانے کے ساتھ ساتھ یہاں عزت کی زندگی گزار سکیں اور جب واپس اپنے ملک جائیں تو وہاں بھی اپنا کام کر سکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا