خواتین کرکٹرز کو کھیلنے کی اجازت ہوگی: افغان کرکٹ بورڈ

اے سی بی کے نئے چیئرمین میرویس اشرف نے کہا ہے کہ افغان کرکٹرز کو معمول کے مطابق کرکٹ کھیلنے کی اجازت ہوگی اور بورڈ ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

افغان صوبے ہرات میں تین ستمبر 2013 کو لڑکیاں کرکٹ کھیل رہی ہیں (اے ایف پی)

افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے نئے چیئرمین میرویس اشرف نے کہا ہے کہ افغان خواتین کرکٹر کھیلنا جاری رکھ سکتی ہیں۔

افغان نیٹ ورک طلوع نیوز کے مطابق اے سی بی کے محکمانہ مینیجرز کے ساتھ ایک تعارفی میٹنگ میں، اشرف نے کہا کہ خواتین کی کرکٹ آئی سی سی کی اہم شرائط میں سے ایک ہے اور وہ اسے حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

آئی سی سی کے قواعد کے مطابق فل رکن کے لیے خواتین کی ٹیم بنانا لازمی ہے۔

افغانستان خواتین کرکٹرز کی پہلی ٹیم 2010 میں بنی اور خواتین کرکٹرز کو آخری بار کنٹریکٹ نومبر 2020 میں دیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اے سی بی کے نئے چیئرمین نے کہا: ’ہماری لڑکیاں معمول کے مطابق کرکٹ کھیلیں گی اور ہم ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے اور تمام سہولیات فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔‘

اے سی بی کے نئے چیئرمین نے کہا: ’آئی سی سی کے تقاضوں کو اے سی بی اہمیت دیتا ہے۔‘

آئی سی سی نے اے سی بی کی قیادت میں حالیہ تبدیلیوں پر تنقید کی تھی اور افغانستان میں کرکٹ کا جائزہ لینے کے لیے ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔

میرویس اشرف نے کہا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا: ’ہر ملازم کو اے سی بی کے ساتھ پابند رہنا چاہیے اور اپنے شعبے میں اچھی کارکردگی دکھانے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے۔‘

افغان قومی ٹیم میں کھیلنے والے سابق آل راونڈر میرویس اشرف کو رواں ماہ کو اے سی بی کا چیئرمین تعینات کیا گیا تھا۔

اس سے قبل عزیزاللّٰہ فضلی افغان کرکٹ بورڈ کے ان چارج تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ