آن لائن سٹامپ پیپر: ’حکومت سالانہ 60 کروڑروپے بچائے گی‘

بورڈ آف ریوینیو پنجاب کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ کوئی سٹامپ فروش کام نہیں چھوڑے گا، بلکہ نئے نظام سے آسانی ہو گئی ہے اور جعلی سٹامپ پیپرز اب فروخت نہیں ہوں گے۔

بورڈ اآف ریونیو کا کہنا ہے کہ آن لائن سٹامپ پیپرز کے نظام سے کروڑوں کی بچت ہوگی (اے ایف پی فائل)

پنجاب حکومت نے صوبے میں برسوں سے جاری پرنٹڈ سٹامپ پیپرز کا نظام ختم کرکے آن لائن کیو آر کوڈ سسٹم سے سٹامپ پیپر کے اجرا کا نظام رائج کر دیا ہے، جس سے اس کو امید ہے اخراجات میں کمی اور سٹاپ پیپر کے نظام میں بہتری آئے گی۔ 

پاکستان میں سٹامپ پیپرز کسی بھی قسم کی قانونی یا مالیاتی کارروائی میں استعمال ہونے والے اہم کاغذات ہیں۔ یہ مختلف قیمتوں میں ملتے ہیں جن پر لگے سٹاپ کی قمیت درج ہوتی ہے اور فروخت پر اس قمیت میں سے حکومت کو کچھ ریوینیو جاتا ہے۔ ان کی ضرورت ایفی ڈیوٹ سے لے کر کسی شراکت داری کے معاہدے، سرکاری مراعات کے لیے اپلائی کرنے اور سیل ڈیڈ یا مختار نامے بنانے تک اور مزید کئی کاموں میں پڑتی ہے۔

بورڈ آف ریوینیو پنجاب کے ایک سینیئر رکن بابر حیات تارڑ نے اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آن لائن سٹامپ پیپرز کا اجرا تین جنوری سے عمل میں آ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں زیادہ تر سٹامپ پیپر کم قیمت کے استعمال ہوتے ہیں، جن کی قیمت پانچ سو روپے یا اس سے کم تھی اور انہی کے حوالے سے زیادہ مسئلہ پیش آ رہا تھا۔

بابر حیات تارڑ نے کہا: ’ہماری 75 سے 80 فیصد پرنٹنگ انہی سٹامپ پیپرز کی ہوتی تھی، پھر بھی ان کی قلت ہوجاتی تھی۔ اس لیے ہم نے نیا نظام متعارف کروایا جس سے نہ صرف ہم پرنٹنگ کی قیمت بچا رہے ہیں، جو تقریباً 60 کروڑ بنتی ہے، بلکہ اب سٹامپ پیپرز کی قلت بھی ختم ہو جائے گی۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت پنجاب میں 7200 کے قریب سٹامپ فروش ہیں اور ان سب کو ایک سمارٹ کارڈ جاری کیا گیا ہے۔ جن کے پاس یہ سمارٹ کارڈ ہوگا وہ ہی آن لائن کوڈ اور زیادہ قیمت والے سٹامپ پیپر خرید سکیں گے۔ ہر ایک کو ایک لاگ اِن اور پاس ورڈ دیا گیا ہے۔ ان سٹامپ فروشوں کو ضلعی سطح پر تربیت بھی دی گئی ہے۔

بابرحیات کہتے ہیں: ’ہم انہیں کمپیوٹر، وغیرہ مہیا نہیں کریں گے بلکہ ان میں سے تقریباً سب ہی وثیقہ نویسی کا کام  بھی کرتے ہیں، اس لیے ہر ایک نے پرنٹرز اور کمپیوٹرز پہلے ہی رکھے ہوئے ہیں، اور ان میں سے بیشتر کے پاس انٹرنیٹ بھی ہے۔ اب یہ اپنے لاگ اِن اور پاس ورڈ کے ذریعے سو اور دو سو روپے والے سٹامپ پیپرز سفید کاغذ پر نکال سکتے ہیں۔‘

ان کے مطابق سٹامپ فروشوں کو ان کے سمارٹ کارڈ کے بدلے ان کے لاگ اِن آئی ڈی پر کوڈز بھیچے جاتے ہیں۔ ’یہ دراصل زیادہ محفوظ سٹامپ پیپرز ہیں کیونکہ ان کے اندر ایک 16 ہندسوں کا بار کوڈ ہے اور پھر کیو آر کوڈ ہے اور اس کوڈ کو سکین کرکے کوئی بھی شخص سٹامپ پیپر کی تصدیق کر سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کوئی سٹامپ فروش کام نہیں چھوڑے گا، بلکہ نئے سسٹم سے آسانی ہو گئی ہے، جو کمی آرہی تھی وہ پوری ہو گئی ہے اور جعلی بکنے والے سٹامپ پیپرز اب نہیں بکیں گے۔ اس کے علاوہ انتظار بھی ختم ہو جائے گا کہ سٹامپ پیپر کب بن کر آئے گا۔

بابر حیات تارڑ نے کہا کہ ریوینیو بچانے اور بڑھانے میں اس نئے سسٹم کا بہت فائدہ ہوگا اور دو سے تن ماہ کے بعد جائزہ لیا جائے گا کہ ریوینیو کتنا بڑھا۔  

پہلے سٹامپ پیپرز کیسے جاری ہوتے تھے؟

ایڈووکیٹ سپریم کورٹ افتخار شاہ نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آن لائن سسٹم سے سرکاری خزانے کی کافی حد تک بچت ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے نظام میں سٹامپ فروشوں کو حکومت سکیورٹی پرنٹنگ پریس سے سٹامپ پیپر چھپوا کر جاری کرتی تھی۔ سٹامپ فروش ایک رقم حکومتی خزانے میں جمع کرواتے تھے جس کے تحت انہیں مختلف قیمتوں والے سٹامپ پیپرز مل جاتے تھے۔ یہ نظام حکومت کو مہنگا پڑ رہا تھا۔ اس میں حکومت کو ڈبل چیک رکھنا پڑتا تھا، کرنسی کی طرح سکیورٹی فیچرز رکھنے پڑتے تھے کیونکہ سٹامپ پیپرز جعلی بھی بکتے تھے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

افتخار شاہ کے مطابق نئے نظام کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر جا کر چالان جنریٹ ہوگا۔ سٹامپ فروشوں نے ایک مخصوص رقم بینک آف پنجاب میں جمع کروائی ہوتی ہے اور جتنی قیمت کا سٹامپ پیپر وہ جاری کریں گے اتنی ہی رقم ان کے اکاؤنٹ سے سرکاری خزانے میں جمع ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نئے سسٹم کی ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ اگر سٹامپ پیپر خراب ہو جاتا ہے یا اس پر سیاہی گر جاتی ہے تو ایسی صورت میں اس کا نیا پرنٹ نکل سکتا ہے۔ پہلے والے سسٹم میں اگر سٹامپ پیپر خراب ہو جاتا تھا تو ری فنڈ میں جانا پڑتا تھا، یہ خطرناک اور مشکل عمل تھا اور اس کے مسائل بہت زیادہ تھے۔ 

سٹاپ پیپرز کے بارے میں بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ احمر مجید نے بتایا کہ یہ سٹامپ ایکٹ 1899 کے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔ جیسے اگر آپ نے کوئی سپیشل پاور آف اٹارنی بنوانا ہے تو اس کے سٹامپ پیپر کی قیمت سٹامپ ایکٹ کے تحت پانچ سو روپے ہے۔ اسی طرح جنرل پاور آف اٹارنی بنانا ہے تو وہ 12 سو روپے کا ہوتا ہے۔ اگر ہم پراپرٹی خریدتے ہیں تو اس کی ڈپٹی کمشنر کی جانب سے مقرر کردہ قیمت کی ایک فیصد رقم کا سٹامپ پیپر استعمال ہوتا ہے۔ اس کے علاہ یہ عدالت میں بیان حلفی دینے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ 

ان کا کہنا ہے کہ سٹامپ پیپر دراصل ریوینیو اکٹھا کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ انگریز کے زمانے کا بنا نظام ہے۔ حکومت سال کے شروع میں سٹامپ فروشوں کو ایک رجسٹر دیتی ہے جسے انہیں سال کے آخر میں واپس حکومت کو جمع کروانا ہوتا ہے بعد میں یہ سٹامپ پیپرز گواہی وغیرہ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں کہ کس نے جاری کروایا اور کیوں کروایا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نئے سسٹم کا فائدہ ہی ہوگا کیونکہ اس سے ان پیپروں کے جعلی ہونے کا امکان کم ہوگا۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرض کریں کسی نے جائیداد کے لیے پانچ سے 10 لاکھ کے سٹامپ پیپر لگائے ہیں اور ان کی رقم سٹامپ فروش نے اپنی جیب میں ڈال لی ہے اور ان کو ایک جعلی کاغذ دے دیا ہے اور چند سال کے بعد اگر جائیداد کی رجسٹری کہیں گم گئی ہے اور وہ رجسٹری نکلوانے گئے تو معلوم ہوا کہ یہ تو سٹامپ پیپر ہی جعلی تھے۔ مگر چونکہ اب نظام آن لائن ہے اور پیپر ٹریس کیے جا سکتے ہیں، ایسا فراڈ نہیں ہو پائے گا۔

ایڈوکیٹ افتخار شاہ کے مطابق انفرادی طور بھی پنجاب حکومت کی ویب سائٹ سے سٹامپ پیپر نکالا جا سکتا ہے لیکن اس کے لیے فرد کو چالان جنریٹ کرنا پڑے گا اور اس کے پیسے جمع کروانے پڑیں گے اور پھر آپ خود سٹامپ پیپر حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے  10 لاکھ روپے کا سٹامپ پیپر لینا ہے تو وہ سٹامپ فروش کے پاس سے نہیں ملے گا بلکہ اس کے لیے آپ کو بینک آف پنجاب میں چالان جمع کروانا پڑے گا اور وہ اسی وقت آپ کو تین پرنٹ دے دیں گے۔ 

انہوں نے بتایا کہ سٹامپ پیپر کی قیمت سٹیٹ بینک مقرر کرتا ہے اور مختلف کاموں کے لیے مختلف قیمتیں ہوتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 50 روپے والا سٹامپ پیپر جو بیان حلفی کے لیے تھا وہ بالکل بند کر دیا گیا ہے۔ 

نقصان کس کو ہوگا؟

ایڈڈووکیٹ ذوالفقار شاہ کہتے ہیں کہ اس نئے سسٹم کا نقصان ان سٹامپ فروشوں کو ہوگا جو جعلی سٹامپ پیپر جاری کرتے تھے، پچھلی تاریخوں پر نئے سٹامپ پیپر بیچتے تھے یا اور کوئی گھپلے کرتے تھے۔ یہ سب اس نئے سسٹم کے آنے سے بند ہو جائے گا۔

’یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے مارکیٹ میں جعلی نوٹ ملتے ہیں۔ 10 ہزار روپے کا جعلی سٹامپ پیپر آپ کو لاہور سے دو ہزار روپے میں مل جاتا تھا مگر اب وہ نہیں مل سکے گا۔‘

ایڈووکیٹ احمر مجید کے خیال میں پرانے سٹامپ پیپر کے کاغذ کی عمر لمبی تھی اور وہ موٹا تھا جبکہ موجودہ سٹامپ پیپر عام اے فور سائز کے سفید کاغذ پر پرنٹ کیا جارہا ہے جس پر کیو آر کوڈ ہے۔ اس کاغذ کی عمر اتنی زیادہ نہیں اور وقت کے ساتھ کوڈ مٹ سکتا ہے تو شاید ایک لمبے عرصے کے بعد اس سٹامپ پیپر کی تصدیق میں مسئلہ آسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان