’سکالرشپ ملنے کے بعد خواب دیکھنے لگا ہوں‘: کراچی جیل کا قیدی

26 سال قید کی سزا پانے والے نعیم شاہ کو چارٹرڈ اکاؤنٹنسی پڑھنے کے لیے سکالر شپ تو مل گئی لیکن ان کا خواب قانونی مدد کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا۔

نعیم نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 1100 میں سے 954 نمبر حاصل کرکے اے ون گریڈ حاصل کیاہے (سکرین گریب)

کراچی کی ایک جیل میں26  سال قید کے مجرم نعیم شاہ سکالرشپ ملنے کے بعد پرامید ہیں کہ وہ جلد مزید پڑھائی شروع کر سکیں گے۔ تاہم پولیس حکام  کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ سال قید مکمل کرنے کے بعد ہی باہر نکل کر چارٹرڈ اکاؤنٹنسی پڑھ سکیں گے۔

پولیس حکام کے مطابق البتہ وہ چاہیں تو جیل میں رہتے ہوئے کسی سرکاری ادارے سے اپنی گریجویشن مکمل کرسکتے ہیں۔

نعیم کی قابلیب کو دیکھتے ہوئے انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس (آئی کیپ) نے انہیں ایدھی سی اے ٹیلنٹ سکالرشپ پروگرام کے تحت 10 لاکھ روپے کی سکالرشپ ایوارڈ کی ہے۔

نعیم نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں 1100 میں سے 954 نمبر حاصل کرکے اے ون گریڈ حاصل کیا ہے۔

سینٹرل جیل کراچی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد یوسف نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ نعیم کو دفعہ 302 یعنی قتل کے مقدمے میں 26 سال قید سنائی گئی تھی جس میں سے وہ 11 سال قید کاٹ چکے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی کی حکومتوں نے نعیم کی چھ سال سزا معاف کی ہیں جس کے بعد اب ان کی آٹھ سال سات ماہ کے قریب قید باقی رہتی ہے۔

’اگر حکومت چاہے تو نعیم کے اس کارنامے کے بعد ان کی سزا مزید کم کرسکتی ہے یا انہی پرول پر جیل سے باہر نکل کر اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع فراہم کرسکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جیل انتظامیہ تمام قیدیوں کو پڑھنے لکھنے کی سہولت دیتی ہے لیکن کچھ قیدی ان سہولیات کو استعمال کرتے ہیں اور کچھ نہیں۔‘

’جیل میں قیدیوں کے لیے میٹرک اور انٹر کے امتحان ہوتے ہیں۔ اردو اور سندھی ادب کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قیدیوں کو ایل ایل بی کرنے کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ نعیم کی عمدہ کارکردگی دیکھ کر دیگر قیدیوں میں علم حاصل کرنے کا شوق مزید بڑھ گیا ہے۔

’دیگر کورسز میں گریجویشن کرنے کے لیے قیدی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے پڑھ سکتے ہیں کیوں یہاں قیدیوں کے لیے فیس معاف ہوتی ہے۔‘

اس موقعے پر سینٹرل جیل کراچی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ محمد یوسف نے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سے گزارش کی کہ وہ قیدیوں کے لیے فیس معاف کردیں تاکہ نعیم جیسے قبل افراد جامعہ کراچی سے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔

نعیم شاہ کا انٹرویو کرنے کے لیے جب ہم سینٹرل جیل کراچی پہنچے تو انہیں باعزت طریقے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لایا گیا جہاں انہوں نے اپنے میٹرک، انٹر اور آئی کیپ سکالرشپ کی دستاویزات دکھائیں۔

اسی دوران ایک پولیس اہلکار نے کمرے میں آکر نعیم کو اپنے موبائل فون پر کچھ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر ان سے متعلق چلنے والی خبریں اور وڈیوز دکھائیں اور کہا ’نعیم تو تو جگہ چھایا ہوا ہے۔‘ یہ سنتے ہی ان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی۔

 

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں نعیم کا کہنا تھا کہ جیل میں گذشتہ 11 سال کے دوران یہ ان کی زندگی کا سب سے بہترین لمحہ ہے۔

’میں نے جب سکالرشپ کا لیٹر پڑھا تو مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ میں اب آگے خواب دیکھنے لگا ہوں کہ میں اس کے بعد اپنے اور اپنے ملک کے لیے کیا کرسکتا ہوں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت سینٹرل جیل میں تقریباً پانچ ہزار قیدی ہیں۔ ناصرف وہ بلکہ آئی جی سندھ سے لے کر جیل کے دیگر افسران بھی ان سے خوش ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’انہوں نے مجھے مبارک باد دی۔ تحفے تحائف بھیج رہے ہیں۔ میں نے اپنی بیرک میں موجود 111 قیدیوں کے ساتھ مل کر سکالرشپ ملنے کی خوشی منائی اور اب وہ سب مجھ سے امید رکھتے ہیں کہ میں ان کی لیے بہتر زندگی کے موقعے پیدا کروں گا۔‘

نعیم نے اپنے مستقبل کے پلان کے بارے میں بتایا کہ ان کے ساتھ انٹر پاس کرنے والے دوسرے قیدی بھی چاہتے ہیں کہ وہ جامعہ کراچی سے کسی شبے میں گریجویشن کرسکیں مگر یہ صرف تب ہی ممکن ہے جب جامعہ کراچی جیل کے قیدیوں کے لیے فیس معاف کردیے۔

’مجھے جیل کے کافی قیدیوں نے کہا کہ میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر سے گزارش کروں کہ وہ ہمارے بہتر مستقبل کے لیے یہ فیصلہ کریں۔‘

جامعہ کراچی کے ترجمان محمد فاروق کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جامعہ کراچی ڈس ابیلیٹی یا سپیشل ابیلیٹیز والے طلبہ سے کوئی معاوضہ نہیں لیتی۔

’اگر ہمیں سینٹرل جیل کے ان تمام قیدیوں کی تعداد معلوم ہوجائے جو جامعہ کراچی سے گریجویشن کرنا چاہتے ہیں تو ان کے بہتر مستقبل کے لیے اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا