بڑھتے سیاحوں اور ان کے کیمروں سے کیلاش خواتین کو ہراسانی کا خطرہ

سیاحوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے کچھ  کیلاش لوگوں نے چلم جوشی جیسی روایتوں میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے اور کچھ نے باہر سے آنے والوں کی نظروں سے بچنے کے لیے چہرہ ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔

چترال کی وادی کیلاش میں موسم بہار کی آمد کو مناتے ہوئے کئی کیلاش خواتین رقص میں مصروف ہیں اور مردوں کا ایک جھنڈ انہیں اپنے کیمروں میں عکس بند کرنے میں کوشاں ہے۔ یہ منظر حالیہ چلم جوشی میلے کا ہے جس میں  شامل ہونے کے لیے ہر سال پاکستان اور دنیا بھر سے سینکڑوں سیاح چترال آتے ہیں. لیکن یہاں کے رہائشی کیلاش لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مقامی سیاحوں میں اضافہ ان کی منفرد روایات کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

خبر ساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کی اقلیتی کیلاش برادری کی تعداد چار ہزار سے بھی کم ہے اور یہ شمالی ضلع چترال کے چند ہی دہاتوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ہر سال کیلاش لوگ موسم بہار کی آمد پر چلم جوشی میلہ مناتے ہیں جس میں ریوائتی جشن، موسیقی، رقص اور شادیاں شامل ہوتی ہیں۔

جیسے ہی میلے کی رونقیں شروع ہوتی ہیں، ہاتھوں میں فون تھامے سیاح خوشیاں مناتی کیلاش خواتین کے نزدیک ہونے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں جن کے رنگین لباس اور سرپوش اس اسلامی معاشرے میں دوسری خواتین سے الگ ہوتے ہیں۔

ایک مقامی ٹورسٹ گائڈ اقبال شاہ کے مطابق: ’کچھ لوگ اپنے کیمروں کو ایسے استعمال کررہے ہیں کہ جیسے وہ کسی چڑیا گھرمیں ہوں۔‘

اپنے گورے رنگ اور رنگین آنکھوں کے لیے جانے جائے والے کیلاش لوگوں کا ایک عرصےسے دعویٰ رہا ہے کہ ان کا نسلی تعلق سکندراعظم کی فوج سے ہے جس نے چوتھی صدی قل عیسوی میں اس علاقے کو  فتح کیا تھا۔

کیلاش لوگ بہت سے دیوتاوں کو پوجتے ہیں، ان میں شراب نوشی عام ہے اور پسند کی شادیاں بھی جو کہ پاکستانی میں دہایئوں سے چلی آئی خاندان کی طے شدہ شادیوں کی روایت کے برعکس ہے۔

لیکن کیلاش کسی آزاد خیال قوم کی مانند بھی نہیں۔ ان میں اکژ کی کم عمری میں ہی شادیاں ہوجاتی ہیں، خواتین کم تعلیم  یافتہ رہتی ہیں اور گھروں میں اپنے روایتی کردار ہی نبھاتی ہیں۔

اس کے باوجود کیلاش لوگوں کے بارے میں اکژ من گھڑت کہانیاں  بنائی جاتی ہیں جس میں سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان کے باعث حالیہ سالوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

یوٹیوب پر موجود ایک ویڈیو، جس کو 13 لاکھ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے، میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیلاش خواتین اپنی مرضی کے ساتھیوں کے ساتھ ’اپنے شوہروں کی موجودگی میں کھلے عام جنسی تعلق رکھتی ہیں۔‘

ایک اور ویڈیو میں کیلاش خواتین کو ’خوبصورت کافر‘ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ’کوئی بھی وہاں جا کے کسی بھی لڑکی سے شادی کر سکتا ہے۔‘

کیلاش صحافی لُوک رحمت  کہتے ہیں: ’یہ سچ کیسے ہو سکتا ہے؟‘

انہوں نے کہا: ’لوگ ایک خاص طریقہ کار سے میری کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹی کہانیاں بنا رہے ہیں۔ ایسے میں جب کوئی سیاح اسی سوچ کے ساتھ آئے گا تو اس سب کا تجربہ بھی کرنا چاہے گا۔‘

کیلاش کے مرکزی گاؤں بمبورت میں ہوٹل مینیجر نے بتایا کہ ان کے ہوٹل میں آنے والے پاکستانی سیاحوں میں سے 70 فیصد نوجوان لڑکے ہوتے ہیں، جو اکژ سوال کرتے ہیں کہ ’لڑکیاں کہاں ملیں گی۔‘

اے ایف پی سے بات کرنے والے سیاحوں نے بتایا کہ وادی کیلاش میں آنے کا ان کا مرکزی مقصد ایک نئے کلچر کے بارے میں جاننا ہے۔ یہ سیاح زیادہ تر مرد تھے جو گروپوں میں سفر کررہے تھے۔

لاہور سے آئے سکندر نواز خان نیازی نے کہا: ’ہم اس میلے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم لڑکیوں سے گھلنا ملنا چاہتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لیکن حالیہ سالوں میں تناو بڑھتا جا رہا ہے۔ بمبورت میں اب پوسٹر لگا دیے گئے ہیں جو آنے والوں پر زور ڈالتے ہیں کہ رہائشیوں کی تصاویر لینے سے پہلے ان کی اجازت لے لیں اور خواتین کو ہراساں نہ کریں۔

مقامی ہوٹل ایسوسی ایشن کے نائب صدر یاسر کیلاش نے کہا: ’اگر وہ ہماری عزت نہیں کرتے تو ہمیں ایسے سیاحوں کی ضرورت نہیں۔ اگر وہ ہمارے کلچرم اور روایات کا احترام کریں تو ہم انہیں ضرور خوش آمدید کریں گے۔‘

کیلاش کمیونٹی کے لیے سیاحت کو ریگیولیٹ کرنا ایک مشکل مگر ضروری کام ہے کیونکہ سیاحت سے آنے والا پیسہ اس برادری کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

مقامی عجائب گھر کے ڈائریکٹر اکرم حسین کے مطابق، ایک زمانے میں کیلاش کشمیر سے لے کر شمالی افغانستان تک ایک بڑے خطے پر پھیلے ہوئے تھے۔ مگراب ان کا شمار پاکستان کی سب سے چھوٹی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔

ایک حالیہ سروے ان کی تعداد صرف 3872  بتاتا ہے جو کل تین وادیوں میں ہی بستے ہیں۔

حسین نے کہا: ’اگر ہمارا ساتھ نہیں دیا گیا تو ہم ختم ہو جائیں گے۔‘

ان کے مطابق، کیلاشی روایات کافی مہنگی ہوسکتی ہیں۔ شادیوں اور جنازوں  میں کئی جانوروں کی قربانی کرنی ہوتی ہے، جس سے لوگ قرضوں میں پڑسکتے ہیں اور اپنی زمین بیچ کہ اپنے آبائی گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

کیلاش خواتین کو  جبری  اسلام قبول کروانے کی خبریں بھی سامنے آئیں ہیں، جبکہ سیاحوں کی تعداد میں اضافے  کی وجہ سےکچھ  کیلاش لوگوں نے چلم جوشی جیسی روایتوں میں حصہ لینا چھوڑ دیا ہے اور کچھ نے باہر سے آنے والوں کی نظروں سے بچنے کے لیےچہرہ ڈھانپنا شروع کر دیا ہے۔

ہائی سکول طالب علم مسرت علی نے کہا: ’نقاب پہننا ہماری روایت نہیں مگر کچھ نے پہننا شروع کردیا ہے کیونکہ لوگ ہر زاویے سے ان کی تصاویر لیتے ہیں اور یہ انہیں شرمندہ کرتا ہے۔‘

بمبورت سے تعلق رکھنے والے ماہر آثار قدیمہ سید گل نے کہا کہ  بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کیلاشی ثقافت کا حاتمہ افسوس ناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے کیمروں اور بے حسی کی وجہ سے کیلاش لوگ اپنی پرانی روایتوں میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔

اگر یہی ہوتا رہا تو شاید کچھ برس بعد یہاں میلوں اور رقص میں  حصہ لینے کے لیے صرف سیاح ہی ہوں گے، کوئی کیلاش نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین