’فوج میں شامل ہونا چاہتی ہوں‘: پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر سارہ گل

سارہ گل نے کہا: ’وقت آگیا ہے کہ مظلوم بھی سماج میں اپنا مقام بنائیں۔ میں نے یہ ڈگری لے کر ملکی تاریخ میں نیا باب شامل کیا ہے۔‘

سارہ گل خواجہ سراؤں کی مختلف تنظیموں کی رہنما بھی ہیں اور اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں (تصویر:  سارہ  گل فیس بک اکاؤنٹ)

پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر سارہ گل کا کہنا ہے کہ وہ بطور ڈاکٹر پاکستانی فوج میں شامل ہوکر اپنی خدمت ادا کرنے کی خواہشمند ہیں۔

جامعہ کراچی سے الحاق شدہ ادارے جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے والی سارہ گل نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’امتحان کا نتیجہ دیکھ کر مجھے جتنی خوشی ہوئی وہ بیان نہیں کرسکتی۔‘

’میری خواہش ہے کہ میں ڈاکٹر کی حیثیت سے پاکستان فوج میں شمولیت کرکے اپنی خدمات دے سکوں۔‘ 

سارہ گل نے بتایا کہ ’اس خبر کے بعد اتنے لوگوں نے ٹیلی فون کرکے مبارک باد دی، میڈیا والوں کے بھی فون آئے، سارا دن میرے فون کی گھنٹی بجتی ہی رہی۔ یہ سب دیکھ کر اتنے سالوں کی سخت محنت کی ساری تھکان اتر گئی۔‘

’وقت آگیا ہے کہ مظلوم بھی سماج میں اپنا مقام بنائیں۔ میں نے یہ ڈگری لے کر ملکی تاریخ میں نیا باب شامل کیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے ڈگری جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج سے لی مگر یہ ڈگری ڈینٹیسٹ کی نہیں بلکہ ایم بی بی ایس کی ہے۔ 

سارہ گل نے کراچی میں پاکستان ایئرفورس کے مسرور بیس کے سکول سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے والد پاکستان ایئرفورس یا فوج میں نہیں ہیں، مگر معیاری تعلیم کے باعث انہیں مسرور بیس کے سکول میں داخل کروایا گیا۔

سارہ گل خواجہ سراؤں کی مختلف تنظیموں کی رہنما بھی ہیں اور اپنی کمیونٹی کے حقوق کے لیے مختلف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں۔ وہ پاکستان میں ٹرانس جینڈر طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی غیر سماجی تنظیم ’جینڈر انٹریکٹیو الائنس‘ (جیا) کی بھی رہنما ہیں۔ 

انہوں نے بتایا: ’میرے ڈاکٹر بننے پر خواجہ سرا کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور کئی مقامات پر تقریبات منائی گئیں۔ اس سے خواجہ سراؤں کو حوصلہ ملا ہے کہ وہ بھی ڈاکٹر بن سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ خوشی اور کیا ہوگی؟‘

زیادہ پڑھی جانے والی ابھرتے ستارے