خواجہ سراؤں کے لیے کورس: ’اب میں انگریزی میں باتیں کیا کروں گی‘

کراچی میں ایک غیر ملکی نجی کمپنی کے زیر اہتمام 15 خواجہ سراؤں کے لیے کوڈنگ، موبائل ایپس، کمپیوٹر اور انگریزی کی کلاسوں میں شامل سپنا خان کا کہنا ہے کہ انہیں انگریزی بولنے کا بہت شوق ہے اور اب وہ یہ کر سکیں گی۔

پاکستان کے شہر کراچی میں ایک نجی کمپنی نے خواجہ سراؤں کے لیے کمپیوٹر اور انگریزی سکھانے کی کلاسز کا اہتمام کیا ہے۔ 

دبئی کے ادارے کوڈیڈ مائنڈز کی پاکستانی شاخ کوڈیڈ مائنڈز پاکستان نے کراچی میں خواجہ سراؤں کی تنظیم جینڈر انٹرایکٹو ایسوسی ایشن سے منسلک 15 خواجہ سراؤں کو کوڈنگ، موبائل ایپس، کمپیوٹر کی تعلیم دینے کے ساتھ انگریزی زبان سیکھنے کا عمل شروع کیا ہے۔ 

سپنا خان ان خواجہ سراؤں میں سے ہیں جو یہ کورسز لے رہی ہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے سپنا خان نے کہا کہ انہیں فلمیں دیکھنے کا بہت شوق ہے، مگر آج کل کی آدھے سے زیادہ فلمیں انگریزی میں ہوتی ہیں تو انہیں سمجھ نہیں آتیں۔ لیکن اب انگریزی زبان کی کلاسز لینے کے بعد وہ پر امید ہیں کہ وہ نہ صرف فلمیں دیکھ سکیں گی بلکہ اوروں سے بھی انگریزی میں بات کر سکیں گی۔ 

ان کے مطابق: ’جدید دور میں جب ساری دنیا تبدیل ہورہی ہے اور ہر کوئی ڈیجیٹل ایپس اور کمپیوٹر کے ساتھ انگریزی سیکھ رہا ہے تو ایسے میں ہماری خواجہ سرا کمیونٹی کو بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔‘

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کوڈیڈ مائنڈز پاکستان سے منسک مومنا شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’پاکستان میں خواجہ سرا پسماندہ اور کمزور برادری سمجھی جاتی ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ تعلیم کا ہر کسی کو حق ہونا چاہیے۔ تاکہ اس کمیونٹی کے لوگ اپنی مہارت کو  بہتر بنا سکیں۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں اور یہ جو کمزوری والی رکاوٹ ہے اس کو پار کرسکیں، اس لیے ہم نے شروعاتی مرحلے میں انگلش بول چال اور کوڈنگ کا بنیادی کورس شروع کیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان